اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ
(اے پیغمبر) یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کردی ہے۔ (1)
1: ”کوثر“ کے لفظی معنی ہیں ”بہت زیادہ بھلائی“۔ اور کوثر جنت کی اس حوض کا نام بھی ہے جو حضور اقدس ﷺ کے تصرف میں دی جائے گی، اور آپ کی امت کے لوگ اس سے سیراب ہوں گے۔ حدیث میں ہے کہ اس حوض پر رکھے ہوئے برتن اتنے زیادہ ہوں گے جتنے آسمان کے ستارے۔ یہاں یہ لفظ اگر ”بہت زیادہ بھلائی“ کے معنی میں لیا جائے تو اس بھلائی میں حوض کوثر بھی داخل ہے۔
30:1
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ
لہذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لیے نماز پڑھو، اور قربانی کرو۔
30:2
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠
یقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔ (2)
2: عرب کے لوگ ایسے شخص کو ابتر کہتے تھے جس کی نسل آگے نہ چلے، یعنی جس کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہو۔ جب حضور اقدس ﷺ کے بیٹے کا انتقال ہوا تو آپ کے دشمنوں نے جن میں عاص بن وائل پیش پیش تھا، آپ کو یہ طعنہ دیا کہ معاذاللہ آپ ابتر ہیں اور آپ کی نسل نہیں چلے گی، اس کے جواب میں اس سورت میں فرمایا کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے کوثر عطا فرمائی ہے، آپ کے مبارک ذکر اور آپ کے دین کو آگے چلانے والے تو بیشمار ہوں گے، ابتر تو آپ کا دشمن ہے جس کا مرنے کے بعد نام ونشان بھی نہیں رہے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا تذکرہ اور آپ کی سیرت طیبہ تو الحمدللہ زندہ جاوید ہے، اور طعنے دینے والوں کو کوئی جانتا بھی نہیں، اور اگر کوئی ان کا ذکر کرتا بھی ہے تو برائی سے کرتا ہے۔
30:3
Arhanarshlan khan