Surah maa un ka trjuma

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ


کیا تم نے اسے دیکھا جو جزاء و سزا کو جھٹلاتا ہے ؟




30:1


فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ


وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ (1)


1: کئی کافروں کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے پاس کوئی یتیم خستہ حالت میں کچھ مانگنے کو آیا تو انہوں نے اسے دھکا دے کر نکال دیا، یہ عمل ہر ایک کے لئے انتہائی سنگدلی اور بڑا گناہ ہے، لیکن کافروں کا ذکر فرما کر اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ یہ کام اصل میں کافروں ہی کا ہے، کسی مسلمان سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔


30:2


وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ


اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔ (2)


2: یعنی خود تو کسی غریب کی مدد کیا کرتا، دوسروں کو بھی ترغیب نہیں دیتا۔


30:3


فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ


پھر بڑی خرابی ہے ان نماز پڑھنے والوں کی




30:4


الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ


جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ (3)


3: نماز سے غفلت برتنے میں یہ بھی داخل ہے کہ نماز پڑھے ہی نہیں اور یہ بھی کہ اس کو صحیح طریقہ سے نہ پڑھے۔


30:5


الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ


جو دکھاوا کرتے ہیں۔ (4)


4: یعنی اگر پڑھتے بھی ہیں تو اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کو دکھاوا کرنے کے لئے پڑھتے ہیں۔ اصل میں یہ کام منافقوں کا تھا۔ اگرچہ مکہ مکرمہ میں جہاں یہ سورت نازل ہوئی، منافق موجود نہ ہوں، لیکن چونکہ قرآن کریم عام احکام بیان فرماتا ہے، اور آئندہ ایسے منافق پیدا ہونے والے تھے، اس لیے ان گناہوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔


30:6


وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠


اور دوسروں کو معمولی چیز دینے سے بھی انکار کرتے ہیں۔ (5)


5: ”معمولی چیز“ قرآن کریم کے لفظ ”ماعون“ کا ترجمہ کیا گیا ہے، اسی لفظ کے نام پر سورت کا نام ماعون ہے۔ اصل میں ”ماعون“ ان برتنے کی معمولی چیزوں کو کہتے ہیں جو عام طور سے پڑوسی ایک دوسرے سے مانگ لیا کرتے ہیں، جیسے برتن وغیرہ۔ پھر ہر قسم کی معمولی چیز کو بھی ماعون کہہ دیتے ہیں۔ حضرت علی ؓ اور کئی صحابہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس کی تفسیر زکوٰۃ سے کی ہے، کیونکہ وہ بھی انسان کی دولت کا معمولی (چالیسواں) حصہ ہوتا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی تفسیر یہی فرمائی ہے کہ کوئی پڑوسی دوسرے سے کوئی برتنے کی چیز مانگے تو انسان اسے منع کرے۔


30:7


Arhanarshlan khan 

और नया पुराने