لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ
چونکہ قریش کے لوگ عادی ہیں۔
30:1
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ
یعنی وہ سردی اور گرمی کے موسموں میں (یمن اور شام کے) سفر کرنے کے عادی ہیں۔ (1)
1: اس سورت کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں یعنی حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے عرب میں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا، کوئی شخص آزاد اور امن کے ساتھ سفر نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ راستے میں چور ڈاکو یا اس کے دشمن قبیلے کے لوگ اسے مارنے اور لوٹنے کے درپے رہتے تھے۔ لیکن قریش کا قبیلہ چونکہ بیت اللہ کے پاس رہتا تھا اور اسی قبیلے کے لوگ بیت اللہ کی خدمت کرتے تھے، اس لئے سارے عرب کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے، اور جب وہ سفر کرتے تو کوئی انہیں لوٹتا نہیں تھا، اس وجہ سے قریش کے لوگوں کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنی تجارت کی خاطرسردیوں میں یمن کا سفر کرتے تھے اور گرمیوں میں شام کا سفر کرتے تھے، اسی تجارت سے ان کا روز گار وابستہ تھا اور اگرچہ مکہ مکرمہ میں نہ کھیت تھے، نہ باغ لیکن انہی سفروں کی وجہ سے وہ خوش حال زندگی گزارتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس سورت میں انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ ان کو سارے عرب میں جو عزت حاصل ہے، اور جس کی وجہ سے وہ سردی اور گرمی میں آزادی سے تجارتی سفر کرتے ہیں، یہ سب کچھ اس بیت اللہ کی برکت ہے کہ اس کے پڑوسی ہونے کی وجہ سے سب ان کا احترام کرتے ہیں۔ لہذا انہیں چاہیے کہ اس گھر کے مالک، یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں۔ اور بتوں کو پوجنا چھوڑیں، کیونکہ اسی گھر کی وجہ سے انہیں کھانے کو مل رہا ہے، اور اسی کی وجہ سے انہیں امن وامان کی نعمت ملی ہوئی ہے۔ اس میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ جس کسی شخص کو کسی دینی خصوصیت کی وجہ سے دنیا میں کوئی نعمت میسر ہو، اسے دوسروں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کرنی چاہیے۔
30:2
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ
اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے مالک کی عبادت کریں۔
30:3
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠
جس نے بھوک کی حالت میں انہیں کھانے کو دیا، اور بدامنی سے انہیں محفوظ رکھا۔
30:4
Arhanarshlan khan