سورہ عصر میں اللہ رب العالمین نے فرمایا: قسم ہے زمانے کی تمام لوگ ٹوٹے اور خسارے میں ہیں سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اپنے عقائد کو درست کیا، اور اپنے اعمال کو سنت کے مطابق کیا، اور وہ جنہوں نے عقائد کو درست کرنے اور اعمال کو سنت کے مطابق کرنے کی دعوت دی، اور عقائد و اعمال کی درستگی کے وقت آنے والی مشکلات پر صبر کرنے کی دعوت دی ، (متکلم اسلام)
اس سورت میں فلاح و بہبود کے لئے چار باتیں بتائی گئی ہیں ان میں سے دو کا ذکر ہم ماسبق میں کر چکے ہیں جسکا خلاصہ یہ ہے جس زمانے میں ایمان کامل ہوگا وہ دور مسلمانوں کی حاکمیت کا اور جہاں کمزور ہوگا وہ محکومیت کا ہوگا اور اعمال کی ترقی و تنزلی مصائب و آلام کے آمد و رفت کی وجہ ہے
اب ہم وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ پر مختصر روشنی ڈالیں گے، کلام اللہ کا امتیاز ہے کہ جہاں کسی بیماری کا ذکر یا کوئی دعوٰی ہوتا ہے تو اللہ رب العزت اس کا علاج اور دلیل و حکمت بھی فورا لاتے ہیں،
ہمارا رب ان دو آیتوں سے ہمیں بتانا چاہتا ہے جب تم نے کوتاہی کرکے محکومیت اور اور مصائب کو اپنا مقدر بنالیا تو اس سے نکلنے کے لئے تمہیں ایسے کام کرنے ہونگے جن سے تم خود اعمال پر عمل پیرا ہوں اور وہ ہے عقائد و اعمال کی دعوت ایسا کرنے کی وجہ سے اللہ رب العزت تمہیں شاد و آباد کر دیگا جیسا کہ ارشاد ربانی ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد ( اشاعت دین) کروگے تو اللہ تمہاری مدد کریں گے اور تمہارے قدم جمادیں گے ،اللہ کی مدد کرنے سے مراد ہے : اللہ کے دین کی مدد کرنا ، اور دین کی مدد ہے ، خود دین پر عمل کرنا ، دین अब तक
اور جب غلطی کر کر تمہیں احساس ہوا اور واپس نیکی کی طرف گامزن ہوئے تو ان بنجر جنگلات سے تمہارا گذر ضرور ہوگا جن کو تم نے تیار کیا تھا اس راستے میں مشکلات کے آنے کی وجہ سے صبر کی بھی دعوت دینی ہوگی تاکہ خود برداشت کرنے ا مادہ دا و
ار م ان اصولوں و سامنے رکھ ر ندگی اریں تو ان اءاللہ لاح और نجات مارا مقدر وگی
नाम: शौरी ر ر مختصرا روشنی ماقبل وسٹ ا وعدۂ وفا
ارحان