#علم_وہ_ہے_جو_یقین_کامل_عطا_کرے
ہم ابتداء ہی سے علم کی تعریف کچھ یوں پڑھتے آئے ہیں جب کوئی بات بولی جائے تو اس کی صورت کا ذہن میں آنا، دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے جب ہمارے سامنے کچھ بیان کیا جائے اور اس کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ہمارا ذہن و قلب تصدیق کر دیں یہ علم کہلاتا ہے
اور اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے قضیہ کو عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ بیان کرتا ہے اور جو اسکے خلاف ہے اسکی تردید کرتے ہوئے تسلی بخش جواب فراہم کرتا ہے اور یہ شرف صرف مذہب اسلام کو حاصل ہے
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات اپنے ہر جزو کو دلائل و برہان سے ایسا ثابت کرتا ہے جو یقین کامل کو مستلزم ہوتا ہے اور طالب حق اسکو اپنے سینے سے چمٹائے بغیر نہیں رہ سکتا
اور اب آتے ہیں عصری تعلیمات کی پر خطر اثرات کی طرف
عصری تعلیمات میں آٹھویں تک بچے کا ذہن بنایا جاتا ہے اور دسویں تک اس کو مغربی کلچر میں ڈھلنے کے لائق کیا جاتا ہے ایک بات ذہن نشین کر لیں میں یہ بات ان کے لئے کہہ رہا ہوں جو اسلامی تعلیمات اور ماحول سے کوسوں دور اور اس علم کو حاصل کرنا اپنے لئے معیوب سمجھتے ہیں
گیارہویں تک اسکو شہوانی اور ذہنی طور پر لبرل بنا دیا جاتا ہے اب شروع ہوتا ہے اصلی کھیل اور وہ ہے مغربی فلسفہ اور سائنسی اسباب مطلب یہ ہے یہ بندہ ہر چیز کا مرکز ذہن کو بنا لیتا ہے اور مغربی فلسفہ اور سائنس کی تھیوریز اچھے خاصے بندہ کے ذہن کو متزلزل کر دیتی ہیں جس میں انسان کو مفروضات سے بحث کرنی ہوتی ہے مغربی فلسفہ اور سائنسی تھیوریز میں خیالی پلاؤ کے ساتھ حقیقت کا ذرا سا بھی تعلق نہیں ہوتا ہے
اور جب انسان پر اس کی ۳ ۴ سال محنت کرائی جاتی ہے تو ایسا انسان جاننے کا تو عادی ہو جاتا ہے مگر ماننے کو یہ شخص معیوب اور مطرود سمجھتا ہے جو کہ علم کی اصلی شق ہے اور مغربی تعلیم علم پر صادق نہیں آتی آج یہ بات سمجھ میں آئی جسکو اسلاف کہتے ہوئے آئے ہیں علم تو صرف اسلامی تعلیمات کو کہتے ہیں باقی تو تمام فنون ہیں
اور یہ الحاد کی یورپی تحریک تنویر سے براہ راست جڑ جاتا ہے
جسکی چپیٹ میں اکثر کرسچن مغربی لوگ اور ہمارے ہند و پاک کے اکثر غیر مسلم اور بہت سارے مسلمان آئے ہوئے ہیں اور ایسے لوگ اسلام دشمنی کا رول بخوبی ادا کرتے ہیں جو تسلیمہ نسرین تارک فتح اور ملالہ یوسف زئی جیسے اداکاروں کی شکل میں ابھر کر سامنے آتے ہیں
اگر میں اس پر لکھنے پر آؤں تو ہزاروں صفحات کو سیاہ کر سکتا ہو مگر مشغولیات اسکی اجازت نہیں دیتی اگر کسی کو تفصیل مطلوب ہو تو دیکھئے الحاد و مستشرقین
Arhanarshlan