Surah fil Ka trjuma

 اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ


کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟ (1)


1: یہ ابرہہ کے لشکر کی طرف اشارہ ہے جو کعبے پر چڑھائی کرنے کے لیے ہاتھیوں پر سوار ہو کر آیا تھا۔ ابرہہ یمن کا حکمران تھا۔ اور اس نے یمن میں ایک عالیشان کلیسا تعمیر کرکے یمن کے لوگوں میں یہ اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی شخص حج کے لئے مکہ مکرمہ نہ جائے اور اسی کلیسا کو بیت اللہ سمجھے، عرب کے لوگ اگرچہ بت پرست تھے ؛ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیم و تبلیغ سے کعبے کی عظمت ان کے دلوں میں پیوست تھی، اس اعلان سے ان میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور ان میں سے کسی نے رات کے وقت اس کلیسا میں جاکر گندگی پھیلادی اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کے کچھ حصہ میں آگ بھی لگائی، ابرہہ کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے ایک بڑا لشکر تیار کرکے مکہ مکرمہ کا رخ کیا، راستہ میں عرب کے کئی قبیلوں نے اس سے جنگ کی ؛ لیکن ابرہہ کے لشکر کے ہاتھوں انہیں شکست ہوئی، آخر کار یہ لشکر مکہ مکرمہ کے قریب مغمس نامی ایک جگہ تک پہنچ گیا، لیکن اگلی صبح اس نے بیت اللہ کی طرف بڑھنا چاہا تو اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا اور اسی وقت سمندر کی طرف سے عجیب و غریب قسم کے پرندوں کا ایک غول آیا اور پورے لشکر پر چھا گیا، ہر پرندے کی چونچ میں تین تین کنکر تھے جو انہوں نے لشکر کے لوگوں پر برسائے، ان کنکروں نے لشکر کے لوگوں پر وہ کام کیا جو بارودی گولی بھی نہیں کرسکتی، جس پر بھی یہ کنکری لگتی اس کے پورے جسم کو چھیدتی ہوئی زمین میں گھس جاتی تھی، یہ عذاب دیکھ کر سارے ہاتھی بھاگ کھڑے ہوئے، لشکر کے سپاہیوں میں کچھ وہیں ہلاک ہوگئے اور کچھ جو بھاگ نکلے وہ راستہ میں مرے، اور ابرہہ کے جسم میں ایسا زہر سرایت کرگیا کہ اس کا ایک ایک جوڑ گل سڑ کر گرنے لگا اسی حالت میں اسے یمن لایا گیا اور وہاں اس کا سارا بدن بہہ کر ختم ہوگیا اور اس کی موت سب سے زیادہ عبرتناک ہوئی، یہ واقعہ حضور اقدس ﷺ کی ولادت باسعادت سے کچھ ہی روز پہلے پیش آیا تھا، اور حضرت عائشہ اور ان کی بہن حضرت اسماء ؓ نے ان دو اندھے اپاہجوں کو دیکھا ہے۔ (تفصیلی واقعات کے لئے ملاحظہ ہو معارف القرآن)۔ اس سورت میں اس واقعے کا تذکرہ فرما کر آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے، اس لئے جو لوگ آپ کی دشمنی پر کمر باندھے ہوئے ہیں آخر میں وہ بھی اصحاب الفیل کی طرح منہ کی کھائیں گے۔


30:1


اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ


کیا اس نے ان لوگوں کی ساری چالیں بیکار نہیں کردی تھیں ؟




30:2


وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ


اور ان پر غول کے غول پرندے چھوڑ دیے تھے۔




30:3


تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ


جو ان پر پکی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔




30:4


فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠


چنانچہ انہیں ایسا کر ڈالا جیسے کھایا ہوا بھوسا۔




30:5


Arhanarshlan khan 

और नया पुराने