وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ
بڑی خرابی ہے اس شخص کی جو پیٹھ پیچھے دوسروں پر عیب لگانے والا (اور) منہ پر طعنے دینے کا عادی ہو۔ (1)
1: پیٹھ پیچھے کسی کا عیب بیان کرنا غیبت ہے، جسے قرآن کریم میں نہایت گھناؤنا گناہ قرار دیا گیا ہے، اور کسی کے منہ پر طعنہ دینا جس سے اس کی دل آزاری ہو اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔
30:1
اِ۟لَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ
جس نے مال اکٹھا کیا ہو اور اسے گنتا رہتا ہو۔
30:2
یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ
اَخْلَدَهٗۚ
وہ سمجھتا ہے کہ اسکا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ (2)
2: جائز طریقہ سے مال حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اس کی ایسی محبت کہ ہر وقت انسان اسی کی گنتی میں لگا رہے، اسے گناہ پر آمادہ کردیتی ہے اور جب کسی شخص پر مال کی محبت اس طرح سوار ہوجائے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری ہر مشکل اسی مال کے ذریعہ آسان ہوگی اور موت سے غافل ہو کر دنیا داری کے منصوبے اس طرح بناتا رہتا ہے جیسے یہ مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
30:3
كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ
ہرگز نہیں ! اس کو تو ایسی جگہ میں پھینکا جائے گا جو چورا چورا کرنے والی ہے۔
30:4
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ
اور تمہیں کیا معلوم وہ چورا چورا کرنے والی چیز کیا ہے ؟
30:5
نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ
اللہ کی سلگائی ہوئی آگ
30:6
الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِؕ
جو دلوں تک جا چڑھے گی۔
30:7
اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ
یقینا جانو وہ ان پر بند کردی جائے گی۔
30:8
فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠
جبکہ وہ (آگ کے) لمبے چوڑے ستونوں میں (گھرے ہوئے) ہوں گے۔ (3)
3: اللہ بچائے، دوزخ میں آگ کے شعلے لمبے چوڑے ستونوں کی شکل میں ہوں گے، اور وہ چاروں طرف سے دوزخیوں کو اس طرح گھیر لیں گے کہ باہر نکلنے کا راستہ بند ہوگا۔
30:9
Arhanarshlan khan