Surah kaafiron tarjuma
قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ
تم کہہ دو کہ : اے حق کا انکار کرنے والو۔
30:1
لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ
میں ان چیزوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
30:2
وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ
اور تم اس کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔
30:3
وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ
اور نہ میں (آئندہ) اس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی عبادت تم کرتے ہو۔
30:4
وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔
30:5
لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠
تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔ (1)
1: یہ سورت اس وقت نازل ہوئی تھی جب مکہ مکرمہ کے کچھ سرداروں نے جن میں ولیدبن مغیرہ، عاص بن وائل وغیرہ شامل تھے حضور اقدس ﷺ سے صلح کی یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کرلیا کریں تو دوسرے سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کرلیں گے، کچھ اور لوگوں نے اسی قسم کی کچھ اور تجویز بھی پیش کیں جن کا خلاصہ یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ کسی نہ کسی طرح ان کافروں کے طریقے پر عبادت کے لئے آمادہ ہوجائیں تو آپس میں صلح ہوسکتی ہے، اس سورت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرمادیا کہ کفر اور ایمان کے درمیان اس قسم کی کوئی مصالحت قابل قبول نہیں ہے جس سے حق اور باطل کا امتیاز ختم ہوجائے اور دین برحق میں کفر کی ملاوٹ کردی جائے، ہاں اگر تم حق قبول نہیں کرتے تو تم اپنے دین پر عمل کرو جس کے نتائج تم خود بھگتو گے، اور میں اپنے دین پر عمل کروں گا اور اسکے نتائج کا میں ذمہ دار ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں سے کوئی ایسی مصالحت جائز نہیں ہے جس میں ان کے دین کے شعائر کو اختیار کرنا پڑے، البتہ اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے امن کا معاہدہ ہوسکتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم نے سورة انفال (6۔ 8) میں فرمایا ہے۔
Arhanarshlan khan