Seerat Hazrat Ibrahim alaihis Salam



سیرت حضرت ابراہیمؑ













وَ اِذِ ابْتَلٰۤی اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَہْدِی الظّٰلِمِیْنَ۔ (البقرہ: ۱۲۴)

ترجمہ: جب ابراہیم کا اس کے رب نے چند باتوں میں امتحان لیا، تو وہ اسے بجالائے، حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بناؤ ں گا، ابراہیم نے کہا: میری اولاد میں سے بھی ؟ ارشاد ہوا : میرا وعدہ نافرمانوں سے متعلق نہیں۔




مَا کَانَ اِبْرٰہِیْمُ یَہُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا، وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (آل عمران: ۶۷)

ترجمہ: ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی ؛بلکہ شرک سے بیزار اللہ کے فرمانبردار تھے، اور مشرکوں میں سے نہیں تھے۔




اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیْفًا وَ لَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (النحل: ۱۲۰)

ترجمہ: بےشک ابراہیم بڑے پیشوا، اللہ کے فرمانبردار اور اسی کی طرف یکسو تھے اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے۔



انبیاء کرام کے واقعات بیان کرنے کا مقصد



جب کوئی شخص دعوت پیش کرے اور لوگ اسے قبول نہ کریں ، وہ ان پر محبت کے پھول پھینکے اور لوگ اس کے راستہ میں نفرت کے کانٹے بچھائیں ، وہ لوگوں پر پیار کی شبنم نثار کرتا ہو اور لوگ اس کی طرف دشمنی کے شعلے پھینکتے ہوں ، تو فطری بات ہے کہ اس سے انسان رنجیدہ ہوتا ہے اور دل کا آبگینہ چور چور ہوجاتا ہے ، انسانی فطرت کے لحاظ سے یہ کیفیت آپ ﷺ پر بھی گزرتی تھی اورآئندہ بھی داعیان حق پر گزرتی رہے گی ؛ اسی لئے گذشتہ انبیاء کی یہ سرگزشتیں سنائی گئی ہیں ؛ تاکہ آپ کی اور آپ ﷺ کی اُمت میں پیدا ہونے والے داعیان حق کی دل داری ہو اور ایسی باتوں سے ان کے حوصلے ٹوٹنے نہ پائیں، جیساکہ
اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَ کُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ، وَ جَآءَکَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَۃٌ وَّ ذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ (ھود: ۱۲۰)

ترجمہ: اور انبیاء کے یہ واقعات ہم آپ سے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ ہم آپ کے دل کو تسلی دیں ، آپ کے پاس ان قصوں کے ضمن میں ایسی بات پہنچی ہے جو حق بھی ہے اور مسلمانوں کے لئے نصیحت اور یاد دھانی بھی۔




حضرت ابراہیمؑ



اللہ تبارک تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے، ان کی قوت ایمانی کا امتحان بھی لیتا ہے اور انہیں ارفع و اعلی مقامات پر فائز بھی کرتا ہے، اور جس کو جتنا بڑا مقام عطا کرتا ہے اس کا امتحان بھی اتنا ہی سخت لیتا ہے، انبیائے کرام کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح کائنات میں سب سے بلند مراتب پر فائز فرمایا اور اپنے قرب کی نعمتوں سے نوازا اسی طرح انہیں بڑی کٹھن منزلوں سے بھی گزرنا پڑا، انہیں بڑی سے بڑی قربانی کا حکم ہوا لیکن ان کے مقام بندگی کا یہ اعجاز تھا کہ اللہ رب العزت کے حکم سے بال برابر نافرمانی نہیں کی، ان کی اطاعت، خشیت اور محبت کا یہی معیار تھا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اور اس میں موجود جملہ نعمتوں کو اپنے مولا کی رضا کے لیے وقف کیے رکھا، حتی کہ اولاد جیسی عزیز ترین متاع کے قربان کرنے کا حکم بھی ملتا تو ثابت کردیا کہ یہ بھی اس کی راہ پر قربان کی جاسکتی ہے، جملہ انبیائے کرام اپنی شان بندگی میں یکتا اور بے مثال تھے لیکن سلسلہ انبیاء میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی داستان عزیمت بہت دلچسپ اور قابل رشک ہے۔
چونکہ حج کا مہینہ بھی چل رہا ہے اور عیدالاضحٰی بھی آنے والی ہے جس میں مسلمان قربانی کرکے اللہ رب العزت کو راضی کرتے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حج اور قربانی کے ساتھ خصوصی اور گہرا تعلق ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتاہے کہ آپ کی سیرت کا مختصر تذکرہ کیا جائے۔




حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت




حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت نمرود کے دور میں ہوئی اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی ظالم اور سنگدل آدمی تھا، اس نے ایک طویل مدت تک بادشاہت کی اور وہ ملعون خدائی کا دعویٰ کرتا تھا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر تھا جو بت پرست ہی نہیں بلکہ بت ساز اور بت فروش بھی تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستی کے ماحول میں آنکھیں کھولیں اور اسی ماحول میں آپ شعور کی عمر کو پہنچے، لیکن آپ بت پرستی سے بیزار تھے، بچپن ہی سے آپ کے اندر کمالات نظر آرہے تھے جیساکہ اللہ رب العزت نے فرمایا

: وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰہِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْنَ۔(الانبیاء: ۵۱)

اور ہم نے پہلے ابراہیم کو دانائی عطا کی تھی اور ہم ان ( کی صلاحیت) سے خوب واقف تھے۔



حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعثت




اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ اس باطل اور گمراہی کو ختم کرنے کا ارادہ کیا، اللہ پاک نے بچپن ہی سے عقلِ سلیم اور رشد و ہدایت سے نواز دیا تھا اور جب وہ بڑے ہوئے تو انہیں رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور خلیل کا منصب عطا فرمایا، آپ کی بعثت کا زمانہ تقریبا دو ہزار قبل مسیح کے درمیان ہے۔




حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ قرآن مجید میں




انبیاء کرام کی تاریخ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، آپ کے کردار کا تذکرہ دنیا کی تمام معروف کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے، دنیا کا کون سا خطہ ایسا ہے جہاں کے مسلمان ، یہودی اور عیسائی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے واقف نہ ہوں؟ دنیا کے اکثر لوگ ان کو اپنا پیشوا اور رہنما مانتے ہیں،



حضرت محمد ﷺ ان کی اولاد میں سے ہیں، ان کی
پھیلائی ہوئی روشنی سے دنیا روشن ہے، قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ۲۵ سورتوں میں ۶۷ بار آیا ہے، قرآن مجید میں ایک سورہ کا نام ہی ’’ابراہیم‘‘ ہے، آپ کے کردار کو قرآن مجیدمیں ایک مثالی کردار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے


قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃُٗ حَسَنَۃُٗ فِیٓ اِبْرَا ہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ۔ (الممتحنہ: ۴) ترجمہ :
تم لوگوں کے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔

اسی طرح قرآن میں کہا گیا:




اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیْفًا وَ لَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (النحل: ۱۲۰)




ترجمہ: بےشک ابراہیم بڑے پیشوا، اللہ کے فرمانبردار اور اسی کی طرف یکسو تھے اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے۔

اور ایک مقام پر ہے:

مَا کَانَ اِبْرٰہِیْمُ یَہُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا، وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (آل عمران: ۶۷)

ترجمہ: ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی ؛بلکہ شرک سے بیزار اللہ کے فرمانبردار تھے، اور مشرکوں میں سے نہیں تھے۔




اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے بنیادی کام ہیں جن کی بنا پر سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کو مثالی زندگی کے نام سے پیش کیا گیا اور انہیں رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے رہنما اور پیشوا کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے

۔ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الآخِرِیْنْ

اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی۔سَلٰمُٗ عَلٰی اِبْرَاہِیْم، سلام ہو ابراہیم پر۔کَذٰلِکَ نَجْزِ الْمُحْسِنِیْن،

Hi مِنْ عِبَادِ نَا الْمُؤمِنِیْن،

بے شک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں۔ (سورہ الصّٰفّٰت، آیت ۱۰۸ -۱۱۱)



دوسری سند کا اعلان قرآن فرما رہا ہے۔
وَاِذَابْتَلٰی اِبْرَاہِیْمَ رٖبَّہٗ بِکَلِمٰٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔ ترجمہ
: ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں میں آزمایا تو اس نے ان کو پورا کر دکھایا، خدانے کہا تم کو لوگوں کا پیشوا وامام بنانے والا ہوں۔(البقرہ: ۱۲۴)

دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے، اور یاد فرماؤ ہمارے (مقبول) بندوں ابراہیم، اسحٰق اور یعقوب کو، بڑی قوتوں والے اور روشن دل تھے، ہم نے مختص(خاص) کیا تھا انہیں ایک خاص چیز سے اور وہ دارِ آخرت کی یاد تھی اور یہ (حضرات) ہمارے نزدیک چنے ہوئے بہترین لوگ ہیں، اور یاد فرماؤ اسمٰعیل، یسع اور ذی الکفل کو، یہ سب بہترین لوگوں میں سے ہیں، اور یہ نصیحت ہے اور بے شک پرہیز گاروں کے لئے بہت عمدہ ٹھکانہ جنت ہے۔(ص: ۴۴تا ۴۹)

پوری سیرت ابراہیم علیہ السلام پر غور کرنے سے آپ کے بہت سے اہم کارنامے اور قربانیاں سامنے آتی ہیں۔ چند ملاحظہ فرمائیں۔



توحید کی دعوت




سب سے بڑی قربانی اور اہم کارنامہ آپ کا عقیدہ توحید کی دعوت دینا ہے، آپ نے شرک کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں توحید کی مشعل روشن کی اور توحید کا ایک فیصلہ کن نظریہ پیش کیا، ساڑھے چارہزار برس سے زیادہ مدت گزر چکی ہے جب توحید کا علمبردار، خدائے واحد کا پیغامبر ،ابو الانبیا ء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سرزمین عراق میں آنکھیں کھولیں، اس وقت پوری دنیا خدائے واحد کو بھول کر سینکڑوں معبودوں کی پرستش کررہی تھی، وہاں کے لوگ سورج، چاند کے علاوہ تاروں کو بھی دیوتا اور معبود مانتے تھے تو آپ نے سب سے پہلے دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کیا۔




حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے والد کو توحید کی دعوت دینا




حضرت ابراہیم علیہ السلام کا والد بتوں کو پوجتا تھا لہٰذا انہوں نے دعوتِ توحید کا آغاز اپنے گھر سے کیا، سب سے پہلے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی کیونکہ سب سے زیادہ وہی اس بات کا حق رکھتا تھا کہ پورے اخلاص کے ساتھ اس کی خیر خواہی کی جائے، انہوں نے اپنے مشرک باپ کو بڑے پیار اور ادب سے سمجھایا، مگر باپ نے اتنا ہی سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سخت دھمکی دی۔

سورہ مریم میں اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اور ان کے والد کی گفتگو کو بیان فرمایا اور بتایا ہے کہ آپ نے اپنے والد کو کس طرح عمدہ ترین الفاظ اور بہترین اشارے کے ساتھ حق کی طرف بلایا اور اس پر بتوں کی عبادت کا باطل ہونا واضح فرمایا کہ جو اپنے پجاری کی پکار نہیں سنتے اور نہ اس کی موجودگی کو دیکھتے ہیں اور فرمایا: ابا جان! مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپکو نہیں ملا تو آپ میرے ساتھ ہو جائیے میں آپکو سیدھی راہ چلا دوں گا، یعنی میں آپ کو وہ راستہ دکھا دونگا جو واضح ہے اور آپ کو دنیا اور آخرت کی بھلائی تک پہنچا دے گا، لیکن باپ نے یہ ہدایت اور نصیحت کی باتیں قبول نہ کیں اور دھمکیاں دیتے ہوئے بولا: "ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کر دوںگا۔" اس کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑے ادب و احترام سے فرمایا کہ آپ پر سلامتی ہو ، آپ کو میری طرف سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی نہ ہی میں آپ سے کوئی گستاخی کروں گا، میری طرف سے آپ بالکل محفوظ ہیں، میں اپنے پروردگار سے آپ کے لئے بخشش مانگوں گا اس کا مجھ پر بڑا کرم ہے کہ اس نے مجھے اپنی عبادت اور اخلاص کی طرف رہنمائی فرمائی اور پھر فرمایا کہ تم جن لوگوں کو اللہ کے سوا پکارتے ہو میں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار کو ہی پکاروں گا مجھے یقین ہے کہ میں محروم نہیں رہوں گا۔(مریم)




قوم کو دعوت




پھر آپ نے اپنی قوم کو سمجھایا جو قرآن کے لفظوں میں اس طرح موجود ہے: اس کی قوم ابراہیم سے جھگڑنے لگی۔ اس نے قوم سے کہا کیا تم لوگ اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہِ راست دکھائی اور تمھارے ٹھہرائے ہوئے خداؤں سے نہیں ڈرتا۔ ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہوسکتا ہے۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے پھر کیا تم ہوش میں نہیں آؤگے۔ (القرآن ،سورہ الانعام ،آیت ۸۰،۸۱) حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھاتے رہے لیکن ان لوگوں کے ذہنوں سے دیوی دیوتاؤں کا ڈر نہ نکل سکا، وہ یہی سمجھتے رہے کہ ان کی شان میں بے ادبی کرنا اپنی بربادی مول لینا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صاف صاف بتادیاکہ ان کو تو تم اپنے ہاتھ سے بناتے ہو، یہ خود تمھارے محتاج ہیں نہ کہ تم ان کے محتاج، ان میں اپنی حفاظت کرنے کی سکت تو ہے نہیں، تم کو کیا نقصان یا نفع پہنچا سکتے ہیں، اس اعلانِ توحید کے بعد آپ کو بہت سی آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑا، جلا وطنی جیسی آزمائش سے بھی آپ گزرے۔




ابراہیم علیہ السلام کی قوم کو دعوتِ غورو فکر کے لئے شاندار تدبیر




حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستوں کو دعوتِ غور و فکر دینے کے لئے ایک زبردست تدبیر کی جسکا تذکرہ سورہ الانبیاء میں ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قوم کو ایسے دلائل پیش کئے جن کا ان مشرکوں کے پاس سوائے ندامت اور خاموشی کے کوئی جواب نہ تھا۔ انہوں نے قوم کی بت پرستی کی تردید کی اور بتوں کی تحقیر و تنقیص فرمائی اور ان سے کہا: " یہ کیا مورتیاں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (اور قائم) ہو؟ انہوں نے کہا: " ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے، یعنی ان کے پاس صرف یہی دلیل تھی کہ یہ ان کے باپ دادا کا طریقہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسرے شریکوں کی عبادت کرتے رہے ہیں، تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: "تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے پاب دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے"۔(الانبیاء: ۵۴)




قوم کا جشن اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بت شکنی




حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا وہ لوگ سال میں دو بار بہت بڑا جشن مناتے تھے، جس دن ان کا جشن تھا انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی جشن میں چلنے کو کہا کہ تم بھی چلو وہاں عظیم الشان میلہ لگتا ہے جسے دیکھ کر تمہاری تفریح بھی ہو گی اور میلے سے واقفیت بھی ہو جائے گی، یہ بات انہیں کئی بار کہی گئی تاکہ ان کے وہ میلے میں جا کر ان لوگون کے عقائد باطلہ کا اثر لیں اور اپنی باتوں کو چھوڑ دیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے میلے میں جانے سے عذر کردیا، جب وہ لوگ میلے میں گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام بت خانے میں چلے گئے اور دیکھا کہ وہ بت بڑے شاندار ماحول میں ہیں اور لوگوں نے اپنے خیال میں ان سے خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کے سامنے طرح طرح کے کھانے رکھے ہوئے ہیں، یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مذاق اڑاتے ہوئے فرمایا: "تم کھاتے کیوں نہیں؟ پھر فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے تم بولتے کیوں نہیں؟ اور پھر ان سب بتوں کو توڑ ڈالا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انہیں توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ سوائے ان میں سے سب سے بڑے بت کے، شائد وہ اس سے رجوع کریں"۔ (الانبیاء: ۵۸) اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کلھاڑا بڑے بت کے ہاتھ میں رکھ کربت خانے سے نکل آئے، جب لوگ جشن سے فارغ ہوئے اور اپنے معبودوں کی درگت بنی ہوئی دیکھی تو افسوس اور فکر میں مبتلا ہو گئے اور کہنے لگے، ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا؟ اور کہنے لگے کہ جس نے بھی یہ کیا وہ ظالم ہے اور ہم اس سے اس کا بدلہ ضرور لیں گے، ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہم نے ایک نوجوان کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کا نام ابراہیم ہے وہ انکی تحقیر کرتا ہے اور ان کا سخت دشمن ہے اسی نے ان کو توڑا ہو گا، یہ سن کر وہ سب ترش رو ہو کر کہنے لگے ہو سکتا ہے یہ گمان درست ہو اسے سب کے سامنے لاؤ تاکہ دیکھیں اس نے یہ جرات کیسے کی، اگر یہ کام اسی نے کیا ہے تو وہ سخت ظالم ہے اور اسے اس جرم کی پاداش میں ایسی سخت سزا دی جائے گی کہ آئندہ کسی غلطی کا مرتکب نہ ہو گا۔(الانبیاء:۵۹، ۶۰)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا گیا اور سخت لہجے میں کہنے لگے کہ ہمارے پاس گواہ موجود ہیں کہ تم نے ان بتوں کو توڑنے کی بات کی تھی ہمیں یقین ہے کہ یہ کام تم نے ہی کیا ہے تم نے ایسا کیوں کیا؟ وہ سب چاہتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خود اپنی زبان سے جرم کا اقرار کر لیں لیکن یہ کام بذاتِ خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نہیں تھا بلکہ یہ تو اللہ پاک کی طرف سے تھا جس نے انہیں ان ظالم لوگوں کو اپنے عقائد پر شرمندہ کرنے کے لئے رسول بنا کر بھیجا تھا چنانچہ ارشادِ ربانی ہے : حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان لوگوں کو شرمندہ کرنے کے لئے کہا کہ یہ سب مجھ سے کیوں دریافت کرتے ہو اس سب سے بڑے بت سے پوچھو اگر یہ بولنے پر قدرت رکھتا ہے تو تمام ماجرا بتا دے گا اور سب مطمئن ہو جائیں گے۔(الانبیاء:۶۲، ۶۳)

یہ سن کر سب نے شرمندگی سے سر نیچے کر لیے اور اسی حالت میں کہنے لگے، اے ابراہیم! یہ تو تم جانتے ہو کہ یہ بات نہیں کرتے، اور پھر لاجواب ہو گئے، یہ مایوس حالت دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے میری قوم میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں سے کہہ دوں کہ تم کیوں ایسی چیزوں کو معبود بناتے ہو، اللہ پاک کے سوا نہ کوئی تمہیں نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی نقصان اور بس وہی عبادت کے لائق ہے، میں تمہارے ان بتوں سے بیزار ہوں کیونکہ تم لوگ کچھ سمجھ نہیں رکھتے کہ جن پتھروں کو تم پوجتے ہو وہ تمہارے خود تراشیدہ ہیں اور در حقیقت تم خود ان کے خالق ہو کیونکہ تم نے انہیں بنایا، اے قوم! اگر تم میں عقل ہے تو اس ہستی کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا یہ بت پرستی چھوڑ دو کیونکہ یہ تمہیں کوئی نفع نہیں پہنچانے والی۔(الانبیاء:۶۴، ۶۷)




حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مناظرہ




نمرود بابل کا بادشاہ تھا علماء کے مطابق جن چار بادشاہوں نے پوری دنیا پر حکومت کی نمرود ان میں سے ایک ہے،ان چار میں سے دو مومن تھے اور دو کافر، مومن ذوالقرنین اور سلیمان علیہ السلام ہیں اور کافر نمرود اور بخت نصر ہیں۔




جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی تو اس نے جہالت اور گمراہی کی وجہ سے خالق کا انکار کر دیا، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے بحث کی لیکن وہ مردود خدائی کا دعویٰ کرنے لگا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:" میرا رب زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔" اس نے کہا :" میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔"(البقرۃ: ۲۵۸)

اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے اس جاہل نمرود نے دو قیدی منگا کر بےقصور کو مار ڈالا اور قصور وار کو چھوڑ دیا اور کہا کہ دیکھا میں جس کو چاہوں مارتا ہوں جسے چاہوں نہیں مارتا اس طرح سب کو فریب دینے کی کوشش کی کہ اس نے ایک کو موت دے دی اور دوسرے کو زندگی بخش دی ہے۔

اس کا یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دلیل کا جواب نہیں تھا اور نہ ہی اس کا موضوع مناظرہ سے کوئی تعلق تھا بلکہ یہ ایک بیکار بات تھی جس سے ظاہر ہوا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ تھی، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دلیل پیش فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ جانداروں کا جینا مرنا عام مشاہدے کی چیز ہے کیونکہ یہ واقعات خود بخود پیش نہیں آ سکتے لہٰذا ضرور کوئی ایسی ذات موجود ہے جس کی مشیئت کے بغیر ان اشیاء کا وجود میں آنا محال ہے، لازمی ہے کہ ان واقعات کا کوئی فاعل ہو جس نے انہیں پیدا کیا، انہیں اپنے اپنے نظام کا پابند کیا جو ستاروں، ہواؤں بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا ہے اور بارش برساتا ہے، ان جانداروں کو پیدا کرتا ہے جو ہمیں نظر آتے ہیں اور پھر ان کو موت سے ہمکنار کرتا ہے اسی دلیل پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا پروردگا تو وہ ہے جو پیدا کرتا ہے اور مارتا ہے، لیکن اس جاہل بادشاہ نے جو کہا کہ میں بھی زندہ کر سکتا ہوں اور مار سکتا ہوں، اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظر آنے والے کام اس کے کنٹرول میں ہیں تو یہ سراسر ضد اور ہٹ دھرمی کا اظہار ہے اور اگر اس سے مراد قیدیوں کا واقعہ ہے تو اس کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیش کردہ دلیل سے کوئی تعلق ہی نہیں پس وہ دلیل کے مقابل دلیل پیش نہ کر سکا۔

چونکہ بحث میں نمرود کی شکت کا یہ پہلو ایسا ہے جو کہ حاضرین یا دوسرے لوگوں میں سے بہت سے افراد کی سمجھ میں آنے والا نہیں تھا اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک اور دلیل پیش کر دی اور اسے سب کے سامنے لاجواب ہونا پڑا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:" ابراہیم نے کہا کہ اللہ تو وہ ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے لہٰذا تو اسے مغرب سے نکال دے۔"(البقرۃ: ۲۵۸)

یعنی یہ سورج روزانہ مشرق سے نکلتا ہے جسے اس کو پیدا کرنے والے اور چلانے والے نے مقرر کر رکھا ہے، اگر تو ہی زندگی اور موت کا مالک ہے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے کہ تو زندہ کرتا اور موت دیتا ہے تو اس کو مغرب سے لے آ، کیونکہ جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت کا اختیار ہو وہ جو چاہے کر سکتا ے اسے نہ منع کیا جا سکتا ہے اور نہ ہرایا جا سکتا ہے بلکہ وہ ہر چیز پر غالب ہوتا ہے اور ہر چیز اس کے حکم کی پابند ہوتی ہے اگر تیرا دعویٰ سچا ہے تو یہ کام کر، ورنہ ثابت ہو جائے گا کہ تیرا دعویٰ غلط ہے۔

اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کا جاہل اور عاجز ہونا واضح فرما دیا لہٰذا اسکے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا اور اسکا منہ بند ہو گیا، اسی لیے اللہ پاک فرماتا ہے: یہ (سن کر) کافر ششدر رہ گیا اور اللہ بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا" ل۔(البقرۃ: ۲۵۸)



حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ کے آلاؤ میں




بت شکنی کے بعد جب کفار اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان مکالمہ ہوا تو ہر دلیل کے سامنے کفار لاجواب ہو گئے کیونکہ جواب میں ان سے کوئی دلیل نہ بن سکی اور انہوں نے سبق لینے کی بجائے وہی رویہ اپنایا جو ہر سرکش اور متکبر شکست کھانے کے بعد اپناتا ہے انہوں نے سوچا کہ آئے دن کی شرمندگی اور ندامت سے نجات حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مار ڈالا جائے، قوم کے سرداروں نے اس تجویز پر غور کیا اور یہ طے پایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عام لوگوں کے سامنے سزا دی جائے تاکہ کوئی دوسرا اس قسم کی حرکت نہ کر سکے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جلانے کا فیصلہ کیا گیا، آگ روشن ہوئی، بھڑکی اور اس کے شعلے بلند ہو گئے، اس سے بڑی چنگاریاں اڑنے لگیں جو اس سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھی تھیں، شعلہ اس قدر اونچا ہوا کہ وہاں سے اگر تین میل کے فاصلے پر بھی کوئی پرندہ اڑتا تو جل بھن کر خاک ہو جاتا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا، اللہ رب العزت نے آگ کو ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجانے کا حکم دیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اس میں محفوظ رہے۔




حضرت ابراہیمؑ کی ہجرت




اس کے بعد آپ ہجرت کر کے سیدنا لوطؑ کے ہمراہ فلسطین کی طرف چلے گئے پھر وہاں سے مصر کی طرف ہجرت کی تو شاہی کارندے آپ کی بیوی سارہ کو پکڑ کر لے گئے جس سے بادشاہ کو کافی تکلیف پہنچی، بالآخر اس نے حضرت ہاجرہ کو ہمراہ کر دیا، یہاں آپ نے حضرت ہاجرہ سے شادی کی، وہ ایک شہزادی تھیں اور اس مصری بادشاہ کی بیٹی تھیں، جس نے انھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی سارہ کی خدمت کے ليے پیش کیا تھا تاکہ وہ ایک پاکیزہ ماحول میں رہیں۔




حضرت اسماعیلؑ کی پیدائش




کافی عمر ہونے کے باوجود ابھی تک اولاد نہ تھی لہذا اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما جو میرے گھر کی رونق بنے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت ہاجرہ کے بطن سے سے کیا مناجات کر رہے تھے؟ اس سے معلوم ہوا کہ وہ سارا عمل ایک طرف اور اس عمل کے ساتھ جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرنے والی دعائیں زبان مبارک پر تھیں ، وہ ایک طرف، اللہ تعالیٰ کو سارے عمل کے مقابلے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں اتنی پسند آئیں کہ ان کو قیامِ قیامت تک کے لئے قرآن کاحصہ بنادیا، چنانچہ فرمایا جب وہ بیت اللہ کی تعمیر کا کام کر رہے تھے تو زبان مبارک پر یہ دعا تھی: ’’رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ‘‘

کہ ’’اے ہمارے پروردگار! ہم سے اس خدمت کو اپنے فضل و کرم سے اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرما بلاشبہ آپ بہت سننے والے اور بہت جاننے والے ہیں ‘‘۔

جو بات اللہ رب العزت کو پسند آئی، جو ادا اللہ تبارک وتعالیٰ کو بھائی وہ یہ کہ کام تو اتنا عظیم الشان انجام دے رہے ہیں کہ اس روئے زمین پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف منسوب پہلا اور آخری گھر تعمیر کر رہے ہیں، جو قیامت تک کے لیے ساری انسانیت کے واسطے ایک مقناطیس بننے والا ہے جس کی طرف لوگ کھنچ کھنچ کر جانے والے ہیں وہاں پر عبادتیں کرنے والے ہیں ۔ وہ بیت اللہ کہ جس کی بنیادیں نامعلوم ہوچکی تھیں ، وہ بیت اللہ جس کی تعمیر ختم ہوچکی تھی، اس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اٹھارہے تھے، لیکن زبان اور دل پر کوئی فخر نہیں ، کوئی ناز نہیں ، کوئی غرور بھی نہیں کہ میں اتنا بڑا کام انجام دے رہا ہوں اور اس کام کو انجام دیتے وقت سینہ تنا ہوا نہیں ہے، گردن اکڑی ہوئی نہیں ہے، اور کسی قسم کے فخر اور تکبر کے جذبات نہیں بلکہ دل میں یہ جذبات ہیں کہ یا اللہ میری خدمت اور یہ میرا عمل اس لائق تو نہیں ہے کہ آپ کی بارگاہ میں شرف قبول حاصل کرے، لیکن اے اللہ! آپ اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت سے اسے قبول فرمالیجیے۔




دل میں بڑائی نہ ہو




اس دعامیں اشارہ اس بات کی طرف کردیا کہ انسان اللہ کا بندہ ہے، وہ خواہ کتناہی بڑا کارنامہ انجام دے رہا ہو کتنی بڑی خدمت انجام دے رہا ہو، لیکن اس کے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہونا چاہئے کہ میں کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دے رہا ہوں یا یہ کہ میں اللہ کے دین کی کوئی بہت بڑی خدمت کر رہا ہوں، اس کے دل میں یہ جذبہ ہونا چاہئے کہ میرا عمل میری ذات کے لحاظ سے تو اس لائق نہیں کہ اس کی بارگاہ میں پیش کیا جائے، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور یہ التجا ہے کہ یا اللہ! اس چھوٹے عمل کو اوراس ادھورے عمل کو اپنے فضل و کرم سے قبولیت کا شرف عطافرمادیجیے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس دعا سے یہ سبق سکھادیا کہ دنیاکا دستور یہ ہے کہ بڑے بڑے کام جو شخص انجام دیتا ہے تو اس کا نفس اور اس کی نفسانی خواہشات اس کو فخر پر ابھارتی ہیں دوسروں کے سامنے شیخی بگھارنے کی طرف مائل کرتی ہیں ۔ لیکن حضرات انبیاء علیہم السلام نے اپنی سنت سے یہ طریقہ بتایا کہ اگر تم نے کوئی نیک کام کیا، اور اس نیک کام سے تمہارے دل میں کوئی فخر اور تکبر پیدا ہوگیا تو وہ اس عمل کو ملیا میٹ کرڈالے گا، اس کے بجائے جب تم کوئی عمل کرو تو یہ سوچوکہ مجھے تو اللہ کی بارگاہ میں جیسا عمل پیش کرنا چاہئے تھا ویسا عمل پیش نہیں کرسکا اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے قبول فرمائے۔




حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ تعمیر فرمارہے تھے اس وقت دوسری دعا یہ فرمائی:

’’رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ‘‘

اے پروردگار! ہم دونوں کو یعنی مجھے بھی اور میرے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو مسلمان بنادیجئے۔ اب یہ عجیب دعا ہے کہ کیا وہ مسلمان نہیں تھے؟ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام مسلمان نہ ہوں تو پھر دنیا میں کون مسلمان ہوگا؟ لیکن دعا یہ فرمارہے ہیں کہ ہمیں مسلمان بنادیجئے، بات اصل میں یہ ہے کہ عربی زبان میں ’’مسلم‘‘ کے معنی ہیں تابعدار، فرماں بردار، جھکنے والا، آپ فرمارہے ہیں کہ اے اللہ مجھے اور میرے بیٹے کو اپنے آگے جھکنے والا بنادیجئے تاکہ میری پوری زندگی اور میرے بیٹے کی زندگی آپ کے تابع فرمان ہوجائے، پوری زندگی آپ کی فرمانبرداری میں گزر جائے، کیونکہ ویسے تو آدمی جیسے ہی کلمہ پڑھتا ہے ’’أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ وہ مسلمان ہوجاتاہے چاہے ستر برس کا کافر بھی کیوں نہ ہو، لیکن صرف کلمہ طیبہ پڑھ لینا مؤمن کا کام نہیں بلکہ کلمہ طیبہ کے بعد پوری زندگی کو اللہ کے تابع فرمان بنائے بغیر انسان مکمل مسلمان نہیں بنتا، اسی لئے قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا:

’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَافَّۃً‘‘ (البقرۃ:۲۰۸)

اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائو۔ یہاں خطاب کیا گیا ہے ایمان والوں کو جو پہلے سے ایمان والے ہیں اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائو۔ یہ ایمان والے اب کس میں داخل ہوجائیں ؟ اشارہ اس بات کی طرف فرمادیا کہ ایمان لے آنا ایک عمل ہے اور اس کے بعد اسلام میں داخل ہونا دوسرا عمل ہے، اور اسلام کے معنی یہ ہیں کہ اپنے وجود کو، اپنی زندگی کو، اپنی نشست و برخاست کو، اپنے فکر و انداز کو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان بنائے، جب تک یہ نہیں کروگے اسلام میں پوری طرح داخل نہیں ہوگے۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ دعا فرمارہے ہیں کہ اے پروردگار! مجھے اور میرے بیٹے کو صحیح معنوں میں مسلمان بنائیے یعنی اپنا تابع فرمان بنائیے۔




اولاد کی اصلاح کرنا واجب ہے




پھر آگے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ جملہ فرمایا کہ: ’’وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّۃً مُّسلِمَۃً لَّکَ‘‘ اے اللہ! ہماری آنے والی نسل کو بھی مسلمان بنائیے، اس کو اپنے تابع فرمان بنائیے، اس میں اشارہ اس بات کی طرف کردیا کہ ایک مسلمان کاکام صرف خود مسلمان بن کر ختم نہیں ہوتا، اس کے فرائض میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اپنی اولاد کی فکر کرے، آج ہم مسلمانوں کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو خود تو نماز کے پابند، صف اول کے پابند، تلاوت قرآن کے پابند، لیکن ان کے ذہنوں میں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ اولاد کہاں جارہی ہے۔ اولاد تیزی سے الحاد کے راستے پر، بے دینی کے راستے پر، اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے راستے پر، جہنم کے راستے پر جارہی ہے لیکن کبھی خیال نہیں آتا ہے کہ ان کو کس طرح بچایا جائے۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس دعا میں اس طرف اشارہ کردیاکہ مسلمان کے لئے صرف اپنی اصلاح کرلینا کافی نہیں بلکہ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ:یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا۔ (التحریم:۶) اے ایمان والو! اپنے آپ کو بھی آگ سے بچائو اور اپنے گھر والوں کو بھی بچائو، اپنے بچوں کو بھی بچائو، جس طرح خود مسلمان بننا فرض اسی طرح آنے والی نسل کو بھی مسلمان بنانااور ان کی اصلاح کی فکر کرنا بھی فرض ہے۔آگے فرمایا: ’’وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ‘‘یہ نہیں فرمایا کہ اس عمل پر مجھے ثواب عطا فرما، اس لیے میرا یہ عمل ثواب کے لائق توکیا ہوتا بلکہ خطرہ یہ ہے کہ میرے اس عمل میں کسی قسم کی کوتاہیاں شامل نہ ہوگئی ہوں جس کی وجہ سے یہ عمل غارت ہوجائے، اے اللہ! اگر ایسی کوتاہیاں ہوئی ہوں تو ہماری توبہ قبول فرما۔

یہ بھی عمل کی توفیق کا حصہ ہے کہ سب سے پہلے اس پر اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرے اورپھر استغفار کرے کہ اے اللہ! اس عمل میں جو کوتاہیاں ہوئی ہوں ان کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما، یہ کام ہے مؤمن کا۔




جامع دعا




پھر یہ ساری دعائیں کرنے کے بعد آخر میں یہ زبردست دعا فرمائی: رَبَّنَا وَابْعَتْ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ۔کہ اے پروردگار! یہ کعبہ تعمیر کرلیناکافی نہیں ، اے اللہ! جو کعبہ کے پاس رہنے والے ہیں ان میں اپنے فضل و کرم سے ایک ایسا رسول بھیجئے، جو ان کے سامنے آپ کی آیتوں کی تلاوت کرے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے اور ان کو پاک صاف کرے، ان کے اخلاق ان کے اعمال پاک صاف کرے۔

یہ دعا بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمارہے ہیں اشارہ اس بات کی طرف کردیا کہ خواہ اللہ کے کتنے گھر دوبارہ تعمیر ہوجائیں ، کتنی مساجد بن جائیں لیکن یہ مسجد اس وقت تک اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اس کے ساتھ موجود نہ ہوں ۔ اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا فرمائی، اور اس دعا کے اندر فرمایا کہ وہ پیغمبر آپ کی آیتوں کی تلاوت کرے اس میں اشارہ اس طرف کردیا کہ آیات کی تلاوت بذاتِ خود ایک مقصد ہے اور اس مقصدکو حاصل کرنا بذاتِ خود انسان کی بہت بڑی کامیابی ہے اور وہ پیغمبر صرف تلاوت نہیں کرے گا بلکہ وہ کتاب کی تعلیم بھی دے گا۔(اصلاحی خطبات)




بیت اللہ کی تعمیر سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کردو۔ حضرت ابراہیم نے حج کا اعلان کیا،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلان نہ صرف اس وقت کے زندہ لوگوں تک پہونچا دیا بلکہ عالم ارواح میں تمام روحوں نے بھی یہ آواز سنی، جس شخص کی قسمت میں بیت اللہ کی زیارت لکھی تھی اس نے اس اعلان کے جواب میں لبیک کہا۔




حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں اور آزمائشوں کی فہرست خاصی طویل ہے، آخر اللہ تعالیٰ نے خود یہ سرٹیفکیٹ عطا کر دیا کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کی کئی باتوں سے آزمائش کی تو وہ ہر امتحان میں پورے اترے، لہذا اللہ تعالیٰ نے ان امتحانوں کے نتیجہ میں آپ کو دنیا جہان کا امام بنا دیا، اور آئندہ قیامت تک کے لیے سلسلہ نبوت کو آپ علیہ السلام ہی کی اولاد سے منسلک کر دیا اور دنیا کے اکثر و بیشتر مذاہب اپنے مذہب کی آپ علیہ السلام کی طرف نسبت کرنا باعث عزت و افتخار سمجھتے ہیں۔

بزم خطباء




Arhanarshlan khan
और नया पुराने