An-Nasr ka tarjuma
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ
جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔ (1)
1: اس سے مراد مکہ مکرمہ کی فتح ہے، یعنی جب مکہ مکرمہ آپ کے ہاتھوں فتح ہوجائے۔ زیادہ تر مفسرین کے مطابق یہ سورت فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی، اور اس میں ایک طرف تو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ مکہ مکرمہ فتح ہوجائے گا اور اس کے بعد عرب کے لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہوں گے، چنانچہ واقعہ بھی یہی ہوا، اور دوسری طرف چونکہ اسلام کے پھیل جانے سے حضور اقدس ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد حاصل ہوجائے گا، اس لیے آپ کو دنیا سے رخصت ہونے کی تیاری کے لیے حمد، تسبیح اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ جب یہ سورت نازل ہوئی تو اس میں دی ہوئی خوشخبری کی وجہ سے بہت سے صحابہ خوش ہوئے، لیکن حضور اقدس ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ اسے سن کر رونے لگے، اور وجہ یہ بیان کی کہ اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کا وقت قریب آ رہا ہے۔
30:1
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ
اور تم لوگوں کو دیکھ لو کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں۔
30:2
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠
تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اور اس سے مغفرت مانگو۔ (2) یقین جانو وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔