تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ
ہاتھ ابولہب کے برباد ہوں، اور وہ خود برباد ہوچکا ہے۔ (1)
1: ابو لہب حضور اقدس ﷺ کا ایک چچا تھا جو آپ کی دعوت اسلام کے بعد آپ کا دشمن ہوگیا تھا اور طرح طرح سے آپ کو تکلیف پہنچاتا تھا، جب آنحضرت ﷺ نے پہلی بار اپنے خاندان کے لوگوں کو صفا پہاڑ پر جمع فرما کر ان کو اسلام کی دعوت دی تو ابو لہب نے یہ جملہ کہا تھا کہ : تبا لک ألھذا جمعتنا : یعنی بربادی ہو تمہاری کیا اس کام کے لئے تم نے ہمیں جمع کیا تھا، اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی، اور اس میں پہلے تو ابولہب کو بددعا دی گئی ہے کہ بربادی (معاذاللہ) نبی کریم ﷺ کی نہیں ہے بلکہ ہاتھ ابو لہب کے برباد ہوں (عربی محاورہ میں ہاتھوں کی بربادی کا مطلب انسان کی بربادی ہوتا ہے) پھر فرمایا گیا ہے کہ وہ بربادی ہو ہی گئی یعنی اس کی بربادی اتنی یقینی ہے جیسے ہو ہی چکی، چنانچہ جنگ بدر کے سات دن بعد اسے طاعون جیسی بیماری ہوئی جسے عدسہ کہتے ہیں، عرب کے لوگ چھوت چھات کے قائل تھے اور جسے عدسہ کی بیماری ہوتی اسے ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے، چنانچہ وہ اسی حالت میں مرگیا اور اس کی لاش میں سخت بدبو پیدا ہوگئی، یہاں تک کہ لوگوں نے کسی لکڑی کے سہارے سے اسے ایک گڑھے میں دفن کیا۔ (روح المعانی)
30:1
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ
اس کی دولت اور اس نے جو کمائی کی تھی وہ اس کے کچھ کام نہیں آئی۔
30:2
سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ
وہ بھڑکتے شعلوں والی آگ میں داخل ہوگا۔ (2)
2: بھڑکتے شعلے کو عربی میں : لہب : کہتے ہیں، ابو لہب بھی اس کو اس لئے کہتے تھے کہ اس کا چہرہ شعلے کی طرح سرخ تھا، قرآن کریم نے یہاں دوزخ کے شعلوں کے لئے یہی لفظ استعمال کرکے یہ لطیف اشارہ فرمایا ہے کہ اس کے نام میں بھی شعلے کا مفہوم داخل ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام بھی سورة اللھب ہے۔
30:3
وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ
اور اس کی بیوی بھی (3) لکڑیاں ڈھوتی ہوئی۔ (4)
3: ابو لہب کی بیوی ام جمیل کہلاتی تھی، اور وہ بھی حضور اقدس ﷺ کی دشمنی میں اپنے شوہر کے ساتھ برابر کی شریک تھی، بعض روایتوں میں ہے کہ وہ رات کے وقت آپ ﷺ کے راستے میں کانٹے دار لکڑیاں بچھا دیا کرتی تھیں، اور آپ کو طرح طرح ستایا کرتی تھی۔
4: اس کا مطلب بعض مفسرین نے تو یہ بتایا ہے کہ وہ اگرچہ ایک باعزت گھرانے کی عورت تھی، لیکن اپنی کنجوسی کی وجہ سے ایندھن کی لکڑیاں خود ڈھو کر لاتی تھی، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے راستے میں جو کانٹے دار لکڑیاں بچھاتی تھی، اس کی طرف اشارہ ہے۔ ان دونوں صورتوں میں لکڑیاں ڈھونے کی یہ صفت دنیا ہی سے متعلق ہے۔ اور بعض مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ یہ اس کے دوزخ میں داخلے کی حالت بیان فرمائی گئی ہے، اور مطلب یہ ہے کہ وہ دوزخ میں لکڑیوں کا گٹھڑا اٹھائے داخل ہوگی۔ قرآن کریم کے الفاظ میں دونوں معنی ممکن ہیں، اور ہم نے جو ترجمہ کیا ہے، اس میں بھی دونوں تفسیروں کی گنجائش موجود ہے۔
30:4
فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠
اپنی گردن میں مونجھ کی رسی لیے ہوئے۔ (5)
5: پہلی تفسیر کے مطابق جب یہ عورت لکڑیاں ڈھو کر لاتی تو ان کو مونجھ کی رسی سے باندھ کر رسی کو اپنے گلے میں لپیٹ لیتی تھی۔ اور دوسری تفسیر کے مطابق یہ بھی دوزخ میں داخلے کی کیفیت بیان ہو رہی ہے کہ اس کے گلے میں مونجھ کی رسی کی طرح طوق پڑا ہوا ہوگا۔ واللہ سبحانہ اعلم۔
30:5
Arhanarshlan khan