پردہ کی اہمیت
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا. (الاحزاب: ۶۰)
ترجمہ:
اے پیغمبر! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے آپ پر گھونگٹ لٹکا لیا کریں، اس سے اُمید ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی، تو ان کو تکلیف نہیں پہنچائی جائے گی اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والے اوربڑے مہربان ہیں۔
وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ۔(الاحزاب: ۵۳)
ترجمہ: اور جب پیغمبر کی بیویوں سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہے۔
الحياءُ مِن الإيمانِ والإيمانُ مِن الجنَّةِ والبَذاءُ مِن الجَفاءِ والجَفاءُ في النَّارِ (صحيح ابن حبان: ۶۰۸)
حیا ایمان میں سے ہے اور ایمان (یعنی اہل ایمان) جنت میں ہیں، اور بے حیائی بدی میں سے ہے اور بدی (والے) جہنمی ہیں۔
ما كانَ الفُحشُ في شيءٍ إلَّا شانَهُ ، وما كانَ الحياءُ في شيءٍ إلَّا زانَهُ (ترمذی: ۱۹۷۴)
بے حیائی جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے عیب دار ہی بنائے گی، اور حیاء جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے مزین اور خوبصورت ہی کرے گی۔
اسلام میں عورتوں کامقام
اسلام نے خواتین کو عزت وحرمت کا جو مقام بخشاہے، اور اس کے تقدس کی حفاظت کے لئے جو تعلیمات دی ہیں، وہ دنیا بھر کے مذاہب اور اقوام میں ایک منفرد حیثیت کی حامل ہیں، اسلام نے ایک طرف عورت کی حرمت اور دوسری طرف اس کے جائز تمدنی اور معاشرتی حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے جو احکام عطافرمائے ہیں ان کی حکمتوں کا احاطہ انسانی عقل کے ادراک سے بالاتر ہے، مسلمان عورت اسی عزت کے تحفظ کے ساتھ تمام ضروری تمدنی حقوق رکھنے کے باوجود تلاشِ معاش میں ماری ماری پھرنے کے لئے نہیں، بلکہ گھر کی ملکہ بننے کے لئے پیدا ہوئی ہے، اسی لئے شریعت نے اس کی عمر کے کسی مرحلے میں فکر معاش کابوجھ اس کی گردن پر نہیں ڈالا، عام حالات میں شادی سے پہلے اس کے معاش کی ذمہ داری باپ پر اور شادی کے بعد شوہر یا اولاد پر ڈالی گئی ہے، لہذا بعض حالات کو چھوڑکر، عام طورپر اسے معاش کے لئے سڑکیں چھاننے کی ضرورت نہیں، چنانچہ اس کی عزت وآبرو اور اس کی حرمت وتقدس کو سلامت رکھنے کے لئے حکم یہ دیا گیا ہے کہ
: وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى۔(الاحزاب: ۳۳)
ترجمہ: اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو، اور پچھلی جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار کرکے باہر نہ پھراکرو۔
ضرورت کے موقع پر عورت کو گھر سے باہر جانے کی اجازت بھی اسلام نے دی ہے، لیکن اس طرح کہ وہ پردے کے آداب وشرائط کو ملحوظ رکھ کر بقدر ضرورت باہر نکلے، اور اپنے آپ کو ہوسناک نگاہوں کا نشانہ بننے سے بچائے۔
ایک عرصہ سے مغربی ذرائع ابلاغ اور مغرب زدہ افراد اور تنظیموں کی طرف سے مسلسل یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ اسلام نے عورت کو کچھ نہیں دیا اور اسے اس کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے، حالانکہ یہ محض ایک جھوٹ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ عورت کو جو مقام اسلام نے دیا ہے وہ اسے کسی دوسرے مذہب سے نہیں ملا۔
لڑکی کا وجود عار تصور کیا جاتا
زمانہ جاہلیت میں لڑکی کا وجود عار تصور کیا جاتا اور اسے زندہ در گور کر دیا جاتا تھا، فرمان الٰہی ہے
: وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِالْأُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ٭ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْئِ مَا بُشِّرَ بِہٖ أَیُمْسِکُہُ عَلٰی ہُوْنٍ أَمْ یَدُسُّہُ فِیْ التُّرَابِ أَلاَ سَائَ مَا یَحْکُمُوْنَ۔(النحل : ۵۸، ۵۹)
اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے، جو بری خبر اسے دی گئی ہے اس کی وجہ سے لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا ہے، سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت ورسوائی کے باوجود اپنے پاس رکھے، یا اسے زندہ در گور کر دے، آہ! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں۔
امام بغویؒ کہتے ہیں : عرب میں یہ رواج عام تھا کہ جب کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوتی اور وہ اسے زندہ باقی رکھنا چاہتا تو اسے اونی جبہ پہنا کر اونٹوں اور بکریوں کو چرانے کے لئے دور دراز بھیج دیتا، اور اگر اسے مارنا چاہتا تو وہ جب ۶ سال کی ہو جاتی تو کسی جنگل میں ایک گڑھا کھودتا، پھر گھر آ کر اپنی بیوی سے کہتا کہ اسے خوب اچھا لباس پہنا دو تاکہ وہ اسے اس کے ننھیال (یا اس کے دادا دادی) سے ملا لائے، پھر جب اس گڑھے تک پہنچتا تو اسے کہتا: اس گڑھے کے اندر دیکھو، چنانچہ وہ اسے دیکھنے کے لئے جھکتی تو یہ اسے پیچھے سے دھکا دے دیتا وہ اس میں گر جاتی اور یہ اس کے اوپر مٹی ڈال دیتا۔(معالم التنزیل :۲/ ۲۵)
یہ تو تھا زمانۂ جاہلیت میں کسی عورت کا مقام کہ اس کا وجود ہی عار تصور کیا جاتا اور اسے زندہ در گور کر دیا جاتا، جبکہ اسلام نے گھر میں بیٹی کی پیدائش کو باعث برکت قرار دیا اور اسے زندہ درگور کرنا حرام کر دیا، رسول
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامیہ ہے
:إِنَّ اﷲَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الْأُمَّہَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ۔(بخاری: ۲۴۰۸، مسلم: ۱۷۱۵)
اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کرنا اور بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا حرام کر دیا ہے۔
عورت بحیثیت بیٹی
بیٹی کی حیثیت سب سے اہم حیثیت ہے، اس لیے کہ یہی بیٹی بہن بنتی ہے یہ بیوی بنتی ہے اور یہی ماں بنتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
مَنْ بُلِیَ مِنْ ہٰذِہِ الْبَنَاتِ شَیْئًا فَأَحْسَنَ إِلَیْہِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ
(بخاری: الأدب باب رحمۃ الولد وتقبیلہ،۵۹۹۵، مسلم: البر والصلۃ باب فضل الإحسان إلی البنات، ۲۶۲۹)
جس شخص کو ان بیٹیوں کی وجہ سے کسی طرح آزمائش میں ڈالا جاتا ہے، پھر وہ ان سے اچھائی کرتا ہے، تو یہ اس کے لئے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔
اس حدیث میں ’ اچھائی ‘سے مراد ہر قسم کی اچھائی ہے، یعنی اس کی پرورش اچھی طرح سے کرے، اس سے اچھا سلوک کرے اور اس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام اچھے انداز سے کرے، پھر جب وہ جوان ہو جائے تواس کی شادی کے لئے ایک اچھے اور پابندِ اسلام خاوند کا انتخاب کرے۔
اور حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ حَتّٰی تَبْلُغَا جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنَا وَہُوَ، وَضَمَّ أَصَابِعَہُ ۔ (مسلم: ۲۶۳۱)
جو شخص دو لڑکیوں کی پرورش کرے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں، تو وہ اور میں قیامت کے دن ایسے ہوں گے جیسے میری یہ انگلیاں ہیں۔
اور سنن ترمذی وغیرہ میں اس روایت کے الفاظ یوں ہیں :
مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ دَخَلْتُ أَنَا وَہُوَ الْجَنَّۃَ کَہَاتَیْنِ وَأَشَارَ بِأُصْبَعَیْہِ
(الترمذی : البر والصلۃ باب ما جاء فی النفقۃ علی البنات، ۱۹۱۴)
جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی، وہ اور میں جنت میں ایسے داخل ہوں گے جیسے میری یہ دو انگلیاں ہیں۔ ‘‘
عورت بحیثیت ماں
عورت اگر ماں ہو تو اسلام نے اس کے ساتھ حسنِ سلوک کی ترغیب دی ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بعد سب سے پہلے ماں باپ کا حق بیان کیا ہے پھر دوسروں کے حقوق کا تذکرہ کیا ہے، اور بار بار ان سے اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی ہے اور انھیں جھڑکنے حتیٰ کہ اف تک کہنے سے منع فرمایا ہے، اورر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ایک شخص نے سوال کیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ کون اچھے سلوک کا مستحق ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھاری ماں، اس نے کہا: پھر کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھاری ماں! اس نے کہا: پھر کون ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھاری ماں! اس نے کہا: پھر کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھارا باپ۔
(بخاری: ۵۹۷۱، مسلم: ۲۵۴۸)
اسی طرح نبی کریمﷺ نے فرمایا: الجنَّةُ تحت أقدامِ الأمَّهاتِ کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔
عورت بحیثیت بیوی
عورت اگر بیوی ہو تو اسلام نے اس کے حقوق کی بھی پاسداری کی ہے اور اس کے فضائل کو بیان کیا ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَہْلِہٖ، وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَہْلِیْ۔(ترمذی: ۳۸۹۵)
تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے بہتر ہو اور میں تم سب کی نسبت اپنے اہل کے لئے زیادہ بہتر ہوں۔
ایک حدیث میں ہے: انَّ أکْمَلَ الموٴمنینَ ایماناً أحسنُہم خُلقاً وألطفُہم لأہلہ۔(ترمذی)
کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں اچھا ہو اور اپنے اہل وعیال کے لیے نرم خو ہو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مردوں کو بیویوں کے حق میں سراپا محبت وشفقت ہونا چاہیے اور ہر جائز امور میں ان کی حوصلہ افزائی اور دلجوئی کرنی چاہیے، کچھ لمحوں کے لیے دوسروں کے سامنے اچھا بن جانا کوئی مشکل کام نہیں حقیقتاً نیک اور اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی سے رفاقت کے دوران صبروتحمل سے کام لینے والا ہو اور محبت وشفقت رکھنے والا ہو۔
اجر و ثواب میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں
اللہ رب العزت کا فرمان ہے
: فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ أَنِّیْ لاَ أُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثیٰ بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ۔ (آل عمران: ۱۹۵)
پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی کہ تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ضائع نہیں کرتا، تم سب آپس میں برابر ہو۔
یعنی اجرو ثواب میں تمھارے درمیان مساوات ہے اور مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں۔
اور فرمایا
: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثیٰ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہُ حَیَاۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَجْرَہُمْ بِأَحْسَنِ مَا کاَنُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ (النحل: ۹۷)
جو کوئی مرد یا عورت نیک کام کرے گا، بشرطیکہ با ایمان ہو، ہم اسے یقینی طور پر پاکیزہ اور عمدہ زندگی عطا کریں گے اور انھیں ان کے اعمال سے زیادہ اچھا بدلہ دیں گے۔
اور سورۃ الأحزاب میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
: إِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتَاتِ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقَاتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرَاتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِیْنَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَہُمْ وَالْحٰفِظَاتِ وَالذَّاکِرِیْنَ اﷲَ کَثِیْرًا وَّالذَّاکِرَاتِ أَعَدَّ اﷲُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّأَجْرًا عَظِیْمًا۔
(الأحزاب: ۳۵)
بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔
مرد اور عورت کے درمیان تقسیمِ کار
مرد وعورت کے درمیان فطری تقسیم کار یہ رکھی گئی ہے کہ مرد کمائے اور عورت گھر کا انتظام کرے، اور مرد کے لئے کماکر لانا عورت پر اس کا کوئی احسان نہیں، اس کا لازمی فريضہ ہے، بلکہ اس معاملے میں اسلام نے عورت کو یہ فضیلت اور امتیاز بخشاہے کہ گھر کا انتظام بھی قانونی طور پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے، اخلاقی طورپر اس کو اس بات کی ترغیب ضرور دی گئی ہے کہ وہ شوہر کے گھر کی دیکھ بھال کرے، لیکن اگر کوئی عورت اپنی اس اخلاقی ذمہ داری کو پورا نہ کرے تو مرد اس کو اس پر مجبور نہیں کرسکتا، اس کے برخلاف مرد پر عورت کے لیے کمانے کی ذمہ داری اخلاقی بھی ہے اور قانونی بھی، اور اگر کوئی مرد اس میں کوتاہی کرے تو عورت اسے اس ذمہ داری کی ادائیگی پر مجبورکرسکتی ہے۔
اسلام نے عورت کو یہ امتیاز اس لئے عطافرمایاہے تاکہ وہ کسبِ معاش کی الجھنوں میں پڑ کر معاشرتی برائیوں کا سبب بننے کے بجائے گھر میں رہ کر قوم کی تعمیر کی خدمت انجام دے۔
گھر کا ماحول
گھر کا ماحول معاشرہ کی وہ بنیاد ہے جس پر تمدن کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے، اگر یہ بنیاد خراب ہوتو اس کا فساد پورے معاشرے میں سرایت کرجاتا ہے، اس کے برعکس اگر ایک مسلمان خاتون اپنے گھر کے ماحول کو سنوار کر ان نونہالوں کی صحیح تربیت کرے جنہیں آگے چل کر ذمہ داری اٹھانا ہے تو سارا معاشرہ سنور سکتا ہے، اور اس طرح مرد وعورت کی عزت وآبرو کا پورا تحفظ ہوتا ہے، اور دوسری طرف ایک ایسا صاف ستھرا گھریلو نظام وجود میں آتا ہے جو پور ے معاشرے کی پاکیزگی کا ضامن بن سکتا ہے۔
نام نہاد مغربی آزادی نسواں
جس ماحول میں معاشرے کی پاکیزگی کوئی قیمت ہی نہ رکھتی ہو، اور جہاں عفت وعصمت کے بجائے اخلاق باختگی اور حیا سوزی کو مقصود سمجھا جاتا ہو، ظاہر ہے کہ وہاں اس تقسیم کار اور پردہ وحیا کو نہ صرف غیر ضروری بلکہ راستے کی رکاوٹ سمجھا جائے گا، چنانچہ جب مغرب میں تمام اخلاقی اقدار سے آزادی کی ہواچلی تو مردنے عورت کے گھر میں رہنے کو اپنے لئے دوہری مصیبت سمجھا، ایک طرف تو اس کی ہوسناک طبیعت عورت کی کوئی ذمہ داری قبول کیے بغیر قدم قدم پر اس سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی، اور دوسری طرف وہ اپنی قانونی بیوی کی معاشی کفالت کو بھی ایک بوجھ تصور کرتا تھا، چنانچہ اس نے دونوں مشکلات کا جو عیارانہ حل نکالا اس کا خوبصورت اور معصوم نام تحریک آزادئ نسواں رکھا۔
عورت کو یہ پڑھا یا گیا کہ تم اب تک گھر کی چاردیواری میں قید رہی ہو، اب آزادی کا دور ہے، اور تمہیں اسی قید سے باہر آکر زندگی کے ہر کام میں حصہ لینا چاہیے، اب تک تمہیں حکومت وسیاست کے ایوانوں سے بھی محروم رکھا گیا ہے، اب تم باہر آکر زندگی کی جدوجہد میں برابر کا حصہ لو تو دنیا بھر کے اعزازات اور اونچے اونچے منصب تمہار انتظار کررہے ہیں۔
عورت بیچاری ان دلفریب نعروں سے متاثر ہوکر گھر سے باہر آگئی، اور پروپیگنڈے کے تمام وسائل کےذریعے شورمچا مچا کر اسے یہ باور کرایا گیا کہ اسے صدیوں کی غلامی کے بعد آج آزادی ملی ہے، اور اب اس کے رنج کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ان دلفریب نعروں کی آڑ میں عورت کو گھسیٹ کر سڑکوں پر لایا گیا، اسے دفتروں میں کلرکی عطاکی گئی، اسے اجنبی مردوں کے پرائیویٹ سیکریٹری کا منصب بخشا گیا، اسے سینکڑوں انسانوں کی حکم برداری کے لئے ائر ہوسٹس کا عہدہ عنایت کیا گیا، اسے تجارت چمکانے کے لئے سیلز گرل اور ماڈل گرل بننے کا شرف بخشا گیا اور اس کے ایک ایک عضو کو برسر بازار رسوا کرکے گاہکوں کو دعوت دی گئی کہ آؤ، اور ہم سے مال خریدو۔
یہاں تک کہ وہ عورت جس کے سرپر دین فطرت نے عزت وآبرو کا تاج رکھا تھا، اور جس کے گلے میں عفت وعصمت کے ہار ڈالے تھے، تجارتی اداروں کے لئے ایک تفریح کا سامان بن کر رہ گئی، نام یہ لیا گیا تھا کہ عورت کو آزادی دے کر سیاست وحکومت کے ایوان اس کے لئے کھولے جارہے ہیں، لیکن ذرا جائزہ لے کر تو دیکھیے کہ اس عرصے میں خود مغربی ممالک کی کتنی عورتیں صدر، وزیر اعظم یا وزیر بن گئیں؟ کتنی خواتین کو جج بنایا گیا؟ کتنی عورتوں کو دوسرے بلند مناصب کا اعزاز نصیب ہوا؟ اعداد وشمار جمع کیے جائیں تو ایسی عورتوں کا تناسب بمشکل چند فی لاکھ ہوگا، ان گنی چنی خواتین کو کچھ مناصب دینے کے نام پر باقی لاکھوں عورتوں کو جس بے دردی کے ساتھ سڑکوں اور بازاروں میں گھسیٹ لایا گیا ہے وہ آزادئ نسواں کے فراڈ کا المناک ترین پہلو ہے، آج یورپ اور امریکہ میں جاکر دیکھیے تو دنیا بھر کے تمام نچلے درجے کے کام عورت کے سپرد ہیں، ریستورانوں میں کوئی مرد ویٹر شاذ ونادر ہی نظر آئے گا، ورنہ یہ خدمات تمام تر عورتیں انجام دے رہی ہیں، ہوٹلوں میں مسافروں کے کمرے صاف کرنے، ان کے بستر کی چادریں بدلنے اور روم اٹنڈنٹ کی خدمات تمام تر عورتوں کے سپرد ہیں دُکانوں پر مال بیچنے کے لئے مرد خال خال نظرآئیں گے، یہ کام بھی عورتوں ہی سے لیا جارہا ہے، دفاتر کے استقبالیوں پر عام طور سے عورتیں ہی تعینات ہیں، اور بیرے سے سے لے کر کلرک تک کے تمام مناصب زیادہ تر اسی صنفِ نازک کے حصے میں آئے ہیں جسے گھر کی قید سے آزادی عطاکی گئی ہے۔
عجیب پروپیگنڈہ
پرپیگنڈے کی قوتوں نے یہ عجیب وغریب فلسفہ ذہنوں پر مسلط کردیا ہے کہ عورت اگر اپنے گھر میں اپنے اور اپنے شوہر، اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور اولاد کے لئے خانہ داری کا انتظام کرے تو یہ قید اور ذلت ہے لیکن وہی عورت اجنبی مردوں کے لئے کھانے پکائے، ان کے کمروں کی صفائی کرے، ہوٹلوں اور جہازوں میں ان کی میزبانی کرے، دکانوں پر اپنی مسکراہٹوں سے گاہکوں کو متوجہ کرے، اور دفاتر میں اپنے افسروں کی نازبرداری کرے تو یہ آزادی اور اعزاز ہے۔
پھر ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ عورت کسب معاشرہ کے لیے آٹھ گھنٹے کی یہ سخت اور ذلت آمیز ڈیوٹیاں اداکرنے کے باوجود اپنے گھر کے کام دھندوں سے اب بھی فارغ نہیں ہوئی، گھر کی تمام خدمات آج بھی پہلے کی طرح اسی کے ذمے ہیں، اور یورپ اور امریکہ میں اکثریت ان عورتوں کی ہے جن کو آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی دینے کے بعد اپنے گھر پہنچ کر کھانے پکانے، برتن دھونے اور گھر کی صفائی کا کام اب بھی کرنا پڑتا ہے۔
تحریک آزادی نسواں کا انجام
یہ تو نام نہاد آزادی کے وہ نتائج ہیں جو خود عورت اپنی ذاتی زندگی میں بھگت رہی ہے اور مردوزن کے بے محابا اختلاط سے پورے معاشرے میں بد اخلاقی، جنسی جرائم، بے راہ روی اور آوارگی کی جوتباہ کن وبائیں وہاں پھوٹی ہیں وہ کسی بھی باخبر انسان سے پوشیدہ نہیں، عائلی نظام کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ہے حسب ونسب کا کوئی تصور باقی نہیں رہا، عفت وعصمت داستانِ بارینہ بن چکی ہیں، طلاقوں کی کثرت نے گھر کے گھر اجاڑ دئے ہیں، جنسی جنون تصور کی خیالی سرحدیں بھی پار کرچکا ہے، اور فحاشی کے عفریت نے انسانیت کی ایک ایک قدر کو بھنبھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
یہ واقعات کسی خیالی دنیا کے نہیں ہیں، یہ مغربی ممالک کے وہ ناقابل انکار حالات ہیں جن کا ہر شخص وہاں جاکر مشاہدہ کرسکتا ہے، اور جو لوگ وہاں نہیں جاسکے، ان حالات کی خبریں لازماً ان تک بھی پہنچتی رہتی ہیں، تقلید مغرب کے جو شائقین شروع شروع وہاں جاکر آباد ہوئے، کچھ عرصے تک وہاں کی چمک دمک کی سیر کرنے کے بعد جب خود صاحب اولاد ہوئے اور اپنی بچیوں کا مسئلہ سامنے آیا تو ان کی پریشانی اور بے چینی کا یہاں رہ کر اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مسلمان جس کے دل میں ایمان کی کوئی رمق موجود ہو، یہ پسند کرسکتا ہے کہ خدا نخواستہ یہ گھناؤنے حالات ہمارے اپنے ملک اور اپنے معاشرے میں بھی دہرائے جائیں؟ اگر نہیں، یقیناً نہیں، تو یہ کیا ستم ہے کہ ہم بھی رفتہ رفتہ بے پردگی اور بے حجابی کے اسی راستے چل رہے ہیں جس نے مغر ب کو معاشرتی تباہی اور اخلاقی دیوالیہ پن کے آخری سرے تک پہنچادیا ہے۔
(شرعی پردے کی حقیقت، مفتی تقی عثمانی صاحب)
شرم و حیا کی اہمیت
آج دنیا بھر کا میڈیا ایک خاص محنت میں مصروف ہے، وہ اخبارات ہوں یا ٹی وی چینلز، وہ رسائل و جرائد ہوں یا ریڈیو چینلز، ویب سائٹ ہوں یا سوشل میڈیا سب مسلمانوں سے وہ دولتِ بے بہا اور متاع بیش بہا چھین لینا چاہتے ہیں، جسے ہم ’’شرم و حیاء‘‘ کہتے ہیں، اسلام کا مزاج شرم و حیاء کا ہے اور مغربی ثقافت کی ساری بنیاد ہی بے حیائی اور بے شرمی پر کھڑی ہے، حیاء ہی وہ جوہر ہے جس سے محروم ہونے کے بعد انسان کا ہر قدم برائی کی طرف ہی اٹھتا ہے اور ہر گناہ کرنا آسان سے آسان تر ہو جاتا ہے، شرم و حیاء آپ کے لیے ایسی قدرتی اور فطری ڈھال ہے جس کی پناہ میں آپ معاشرے کی تمام گندگیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
شرم و حیاء کی اسی اہمیت کی وجہ سے قرآن و حدیث میں ہمیں بار بار اس کی طرف متوجہ کیا گیا ہے، اور شریعتِ اسلامی میں اس صفت کو نمایاں مقام حاصل ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو اس کی نہایت تاکید فرمائی ہے، اس سلسلہ کی چند احادیث درج ذیل ہیں:
الحياءُ لا يأتي إلَّا بخيرٍ ( بخاری شریف: ۶۱۱۷)
حیا کا نتیجہ صرف خیر ہے۔
إنَّ لكلِّ دِينٍ خُلقًا وخلقُ الإسلامِ الحياءُ (الترغیب والترھیب: ۳/ ۳۵۰)
ہر دین کی خاص عادت ہوتی ہے اور اسلام کی عادت حیا ہے۔
الحياءُ والإيمانُ قرناءُ جميعًا فإذا رُفِع أحدُهما رُفِع الآخرُ (الترغیب والترھیب: ۳/ ۳۵۰)
حیا اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اٹھ جائے تو دوسرا بھی خود بخود اٹھ جاتا ہے۔
إنَّ ممَّا أدرَك النَّاسُ من كلامِ النُّبوَّةِ: إذا لم تَسْتَحْيِ فاصنَعْ ما شِئْتَ. (بخاری: ۳۴۸۴)
انبیاء کے کلام سے لوگوں نے یہ جملہ بھی پایا ہے کہ اگر تو حیا نہ کرے تو جو چاہے کر۔(یعنی کوئی چیز تجھ کو برائی سے روکنے والی نہ ہو گی)۔
الحیاء شعبۃ من الایمان(بخاری شریف)
حیاایمان کا اہم ترین شعبہ ہے۔
الحياءُ مِن الإيمانِ والإيمانُ مِن الجنَّةِ والبَذاءُ مِن الجَفاءِ والجَفاءُ في النَّارِ (صحيح ابن حبان: ۶۰۸)
حیا ایمان میں سے ہے اور ایمان (یعنی اہل ایمان) جنت میں ہیں، اور بے حیائی بدی میں سے ہے اور بدی (والے) جہنمی ہیں۔
ما كانَ الفُحشُ في شيءٍ إلَّا شانَهُ ، وما كانَ الحياءُ في شيءٍ إلَّا زانَهُ (ترمذی: ۱۹۷۴)
بے حیائی جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے عیب دار ہی بنائے گی، اور حیاء جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے مزین اور خوبصورت ہی کرے گی۔
اللہ سے شرم کیجیے
اسلامی شریعت میں حیا سے مراد محض انسانوں سے حیا نہیں بلکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو اس اللہ علیم و خبیر سے بھی شرم کرنے کی تلقین کرتاہے جو ظاہر و پوشیدہ، حاضر و غائب ہر چیز کو اچھی طرح جاننے والا ہے، اس سے شرم کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ جو فعل بھی اس کی نظر میں برا ہو اُسے کسی بھی حال میں ہرگز ہرگز نہ کیا جائے اور اپنے تمام اعضاء و جوارح کو اس کا پابند بنایا جائے کہ ان سے کسی بھی ایسے کام کا صُدور نہ ہو جو اللہ تعالیٰ سے شرمانے کے تقاضے کے خلاف ہو، اس سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو واضح ہدایت فرمائی ہے، چنانچہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
استحيُوا من اللهِ حقَّ الحياءِ . قالوا : إنَّا نستَحِي يا نبيَّ اللهِ والحمدُ للهِ . قالَ : ليسَ ذاكَ ولكنْ من استحْيَا من اللهِ حقَّ الحياءِ ، فليَحفَظْ الرأسَ ومَا وَعَى ، وليحفظْ البطنَ ومَا حوَى ، وليذكِرْ الموتَ والبِلَى ، ومن أرادَ الآخرةَ ترَكَ زينَةَ الدنيا ، فمن فعلَ ذلكَ ، فقدْ استحيَا من اللهِ حقَ الحياءِ. (شرح السنہ: ۷/ ۲۸۳)
اللہ تعالیٰ سے اتنی شرم کرو جتنی اُس سے شرم کرنے کا حق ہے، صحابہ نے عرض کیا تمام تعریف اللہ کے لئے ہیں، اے اللہ کے نبی! ہم اللہ سے شرم تو کرتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مراد نہیں بلکہ جو شخص اللہ سے شرمانے کے حق کو ادا کرے گا تو (اسے تین کام کرنے ہوں گے) اول یہ کہ اپنے سر کی حفاظت کرے اور اس چیز کی جس کو سرنے جمع کیا اور (دوسرے یہ کہ) پیٹ کی حفاظت کرے اور اس چیز کی جو پیٹ سے لگی ہوئی ہے اور (تیسرے یہ کہ ) موت کو اور موت کے بعد کے حالات کو یاد کرے اور (خلاصہ یہ ہے کہ ) جو شخص آخرت کا ارادہ کرے وہ دنیا کی زیب و زینت چھوڑ دے پس جو ایسا کرے گا تو وہ اللہ سے حیا کرنے کا حق ادا کرے گا۔
پردہ کا حکم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
اَلْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ، فَإِذَاخَرَجَتْ اِسْتَشْرَفَہَا الشَّیْطَانُ، وَأَقْرَبُ مَا تَکُوْنُ مِنْ رَحْمَۃِ رَبِّہَا وَہِیَ فِیْ قَعْرِ بَیْتِہَا۔ (ابن حبان: ۵۵۹۹)
خاتون ستر (چھپانے کی چیز ) ہے، اس لئے جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں رہتا ہے اور وہ اپنے رب کی رحمت کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے۔
یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عورت کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ اپنے گھر کے اندر رہے اور بغیر کسی ضروری حاجت کے گھر سے باہر نہ نکلے۔
عورت کو اللہ تعالیٰ نے غیر محرم مرد کے ساتھ پست اور نرم آواز میں بات کرنے سے منع فرما دیا ہے تاکہ کوئی مریض دل والا اس کے متعلق شک و شبہ کا اظہار نہ کرے (الأحزاب:۳۲)
لہذا جب نرم لب و لہجے میں بات تک کرنے کی اجازت نہیں ہے تو مردو زن کے اختلاط کو کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں کو اجنبی عورتوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا اور اسی طرح مومنہ عورتوں کو بھی اجنبی مردوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا حکم دیا ہے۔ (النور :۳۱، ۳۲)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا آنکھوں کا زنا قرار دیا ہے: آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے۔اور زبان کا زنا بات چیت کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے۔(متفق علیہ)
لہذا جب غیر محرم مرد و عورت کا ایک دوسرے کو دیکھنا حرام ہے تو ان کی آپس میں میل ملاقات اور گھومنا پھرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟
حضرت عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم (غیر محرم) عورتوں کے پاس جانے سے پرہیز کرو، تو ایک انصاری نے کہا : اے اللہ کے
رسولؐ ! آپؐ اَلْحَمْو
(یعنی خاوند کے بھائی ’دیور‘ ) کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’دیور‘ موت ہے۔ (بخاری : ۵۲۳۲)
اس حدیث میں ذرا غور کریں کہ جب دیور (خاوند کا بھائی) اپنی بھابھی کے لئے موت ہے تو عام مرد و عورت کا آپس میں اختلاط کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
️لا يخلوَنَّ رجلٌ بامرأةٍ إلا ومعها ذو محرمٍ، ولا تسافرُ المرأةُ إلا مع ذي محرمٍ، فقام رجلٌ فقال: يا رسولَ اللهِ ! إنَّ امرأتي خرجت حاجةً، وإني اكتتبتُ في غزوةِ كذا وكذا، قال انطلِقْ فحُجَّ مع امرأتكَ (مسلم: ۱۳۴۱)
کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ہرگز خلوت میں نہ جائے، ہاں اگر اس کے ساتھ کوئی محرم ہو تو ٹھیک ہے، اور اسی طرح کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسولؐ! میری بیوی حج کے لئے روانہ ہو گئی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوہ کے لئے لکھ لیا گیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔
خلاصہ یہ ہے کہ خواتين کا پردہ کرنا فرض ہے، اور چہرہ بھی پردہ کے اندر داخل ہے، اس کے مزید عقلی اور نقلی دلائل کتب میں موجود ہیں انھیں معلوم کیا جاسکتا ہے۔
یوم محبت ویلنٹائن ڈے
شرم و حیا کا جنازہ نکالنے کے لیے یہ دن دنیا بھر میں منایا جاتاہے، پہلے پہل محبت کا یہ بدنام دن صرف امریکہ اور یوروپ کی اخلاق واقدار سے عاری تنگ وتاریک محفلوں اور جھومتے گاتے نائٹ کلب کی بزم میں ہی روایتی انداز سے منایا جاتا تھا مگر آج تو ہر جگہ مغرب اور اس کی بدبخت تہذیب کی اندھی تقلید کا دور ہے، اہل مشرق جہاں ان کی نقالی اور رسم ورواج کو اپنانے ہی میں اپنا طرہ امتیاز جان رہے ہیں اور اخلاق واقدار کو ختم کرنے والے رسم و رواج، عید وتہوار اور خصوصی دنوں کو دین وشریعت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر بلاچوں چرا ماننے، منانے اور جشن کرنے کو اپنے مہذب اور مثقف ہونے کی علامت سمجھ رہے ہیں تو وہیں یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) بھی اسی میں شامل ہوگیا ہے۔
یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) آخر کیا ہے؟
ہر سال 14 فروری کو منایا جانے والا یہ دن در اصل موجودہ عیسائیوں کی ایک عید ہے جس میں وہ اپنے مشرکانہ عقائد کے اعتبار سے خدائی محبت کی محفلیں جماتے ہیں، اس کا آغاز تقریباً ۱۷۰۰ سال قبل رومانیوں کے دور میں ہوا جب کہ اس وقت رومانیوں میں بت پرستی عام تھی اور رومانیوں نے پوپ والنٹائن (ویلینٹائن) کو بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنےکے جرم میں سزائے موت دی تھی لیکن جب خود رومانیوں نے عیسائیت کو قبول کیا تو انہوں نے پوپ والنٹائن (ویلینٹائن) کی سزائے موت کے دن کو یوم شھید محبت کہہ کر اپنی عید بنالی۔
اسی تاریخ کے ساتھ ۱۴ فروری کو یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) کی کچھ اور مناسبتیں بھی بیان کی جاتی ہیں:
عیسائیوں کے نزدیک 14 فروری کا دن رومانی دیوی یونو (جو کہ یونانی دیوی دیوتاؤوں کے یہاں اُن کی ملکہ اور عورتوں و شادی بیاہ کی دیوی ہے) مقدس دن مانا جاتا ہے جب کہ ۱۵ فروری کا دن ان کے ایک دیوتا لیسیوس کا مقدس دن ہے۔(ان کے عقیدے کے مطابق لیسیوس ایک بھیڑیا تھی جس نے دوننھے منھے (انسانی) بچوں کو دودھ پلایا تھا جو آگے چل کر روم شہر کے بانی ہوئے)۔
ایک مناسبت یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ جب رومانی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لئے لشکر تیار کرنے میں صعوبت ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا، بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل وعیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی لیکن ویلنٹائن نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ شادی رچالی، جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے والنٹائن کو گرفتار کیا اور ۱۴ فروری کو اسے پھانسی دے دی، اس لیے اس دن کو ویلنٹائن کی یاد میں عید کادن بنادیا۔
بعض روایات معروف تحقیقی ادارے ’’Britannica Encyclopedia‘‘ کے حوالے سے ملتی ہیں، جنہیں پڑھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دن عیسائیوں کے کیتھولک فرقے کی مذہبی رسومات کا ایک خاص دن ہے۔ اصل لفظ ’’Valentine Saint ‘‘ہے۔ یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے۔ ’’ Saint‘‘کاترجمہ ’’بزرگ‘‘ہے، جو پادریوں کے لیے بولا جاتا ہے، عیسائیوں کے کیتھولک فرقے کے لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر سال ۱۴ فروری کو ’’Valentine‘‘ نامی پادریوں کی روحیں دنیا میں آتی ہیں، اس لئے وہ اس دن کے تمام معمولات عبادات و نذر و نیاز انہی کے نام سے سرانجام دیتے ہیں، اس عقیدے کی ابتداء رومیوں سے ہوئی، پھریہ دن فرانس اور انگلینڈ میں بھی بطورِ خاص منایا جانے لگا اور اس دن فرانس، انگلینڈ اور دیگر مغربی ممالک میں تعطیل ہوتی ہے اور وہ اس دن اپنی عبادت گاہوں میں خاص قسم کی عبادات سرانجام دیتے ہیں، اس رسم کے غیر معقول ہونے اور دنیائے عیسائیت کے معتبر پادریوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ دن بالکل معدوم ہوچکا تھا، چودھویں صدی عیسویں کے ایک متعصب عیسائی اسکالر ’’Henry Ansgar Kelly‘‘نے اپنی ایک کتاب ’’Chaucer and the Cult of Saint Valentine‘‘ کے نام سے خاص اسی موضوع پر لکھی اور عشق و محبت کی خودساختہ کہانیوں کے ذریعے اسے محبت کے دن کے نام سے دوبارہ دنیا میں روشناس کروایا، اٹھارھویں صدی میں اسے فرانس اور انگلینڈ میں سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی اور پھر رفتہ رفتہ عشق و محبت کا یہ خودساختہ دن دنیا بھر میں ہر سال مزید جدت اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جانے لگا۔
اس طرح کی اور مختلف باتیں اس سلسلے میں پائی جاتی ہیں۔
یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) دین وشریعت کی نظر میں
ہر دین ومذہب کے کچھ ایسے رسم ورواج، عید وتہوار اور تہذیب وثقافت ہوتی ہے جس سے وہ دین اور اس کے ماننے والے پہچانے جاتے ہیں۔
یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) کی حقیقت اور تاریخ سے جب یہ بات بالکل عیاں ہے کہ یہ عیسائیوں کا ایک مقدس اور عید کادن ہے تو اس بات پر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ آج کا مسلمان بھی اس دن کو غیروں کی طرح دین وشریعت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر بڑی خوشدلی کے ساتھ منارہا ہے۔
مسلمانوں کی دوعید : عیدالفطر، عیدالاضحیٰ
جب اللہ تعالی نے امت کو دو بہترین عید وں سے نوازا ہے تو پھر غیروں اور کفار کی عید کو منانا، یا اس میں (کسی بھی طرح) شرکت کرنا شریعت کی نظر میں بالکل حرام ہے جیسا کہ علمائےامت اور فقھاء کرام نے اس کی وضاحت کی ہے۔
خلاصہ کلام
ویلنٹائن ڈے کو منانا مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی سطح پر غلط اور ممنوع ہے، اسلام نہ صرف برائی کا سد باب کرتا ہے بلکہ برائی کی طرف جانے والے ہر راستے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، ویلنٹائن ڈے فحاشی کا دوسرا نام ہے، اس سے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا کلچر عام ہورہا ہے جو سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، اسے معاشرے میں رواج دینا فحاشی کا دروازہ کھولنا ہے، مغربی معاشرے کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں بن بیاہی مائیں اور بغیر باپ کے بچے فروغ پا رہے ہیں۔
اللہ ہمیں سیدھے راستے پہ چلنے کی توفیق دے۔۔۔آمین
Arhanarshlan khan
