بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
عصر کہتے ہیں مرور زمانہ پر مشتمل وقت کو اب ایک نقطہ یاد رکھئیے رب تعالی نے یہاں زمانے کی قسم کھائی اور اسکے بعد خسران و فلاح کا موضوع چھیڑا اصل تو یہاں آخرت کا خسران ہے مگر دیگر نصوص کو دیکھتے ہوئے دنیاوی خسران و فلاح بھی مراد ہے جس کی تفصیل یہ ہے وہ انسان گھاٹے میں ہے جو چار چیزوں (ایمان، اعمال صالحہ، حق کی تلقین، اور صبر کی تلقین) سے محروم رہا اور جس میں چار چیزیں پائی گئی وہ کامیاب ہے
ہم پہلے دو چیزوں کے سلسلے میں بحث کریں گے انکے ہونے یا ہونے سے دنیاوی زندگی پر کیا اثر ہوگا یعنی جس زمانے میں ان چیزوں میں کمی زیادتی ہوگی اس وقت رب تعالی کی طرف سے کیسے فیصلے صادر ہونگے
چنانچہ رب کا ارشاد ہے وَ لَا تَہِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ تم نہ ہمت ہارو اورنہ غم کھاؤ ، اگر تم ایمان رکھتے ہوتو تم ہی غالب رہو گے
دوسری جگہ ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اچھے کام کئے ، اللہ ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ زمین میں ان کو اسی طرح حکومت عطا فرمائیں گے ،اور ایمان والوں سے اللہ وعدہ کرتے ہوئے یہ بھی فرماتے ہیں وَ لَوْ قٰتَلَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا اور اگر تم سے ایمان نہ لانے والے لڑتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ، پھر نہ ان کو کوئی دوست ملتا نہ کوئی مددگار ، ان واضح قرآنی آیات سے پتہ چلتا ہے آج جو ہم محکومیت اور مظلومیت کی زندگی گزار رہے ہیں یہ ہمارے ایمان کے کمزور ہونے کے سبب ہے .# Islami jankari220
ہم پر مصائب کے آنے کے سلسلے میں قرآن کریم میں ہے وَ مَاۤ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ اور تم کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے ، وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کا نتیجہ ہے اوربہت سی (غلطیوں ) سے اللہ درگزر فرمادیتے ہیں ۔
دوسری موقع پر فرمایا ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ؛ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بعض کاموں کا مزا چکھائیں ، شاید کہ وہ باز آجائیں ، پتہ چلا کہ ہم پر آنے والی مصیبتیں ہمارے اعمال کی خرابیوں کی وجہ سے ہیں
خلاصہ کلام یہ ہے کہ عقائد کا بگاڑ محکومیت اور مظلومیت کا سبب جیسا کی حسن بصری کا قول بھی ہے بھی ہے اعمالکم عمالکم جیسے تمہارے اعمال ویسے تمہارے حاکم اور اعمال کی خرابی مصائب و آلام کی وجہ فافہم یا احباء
ان شاءاللہ مختصر انداز میں اگلی دو باتوں پر بھی روشنی ڈالی جائے گی
Arhanarshlan # Islamijankari220