بچوں کی تربیت

 بچوں کی تربیت, 


  


  

 دو ویڈیوز تھیں ایک میں تین چار سالہ بچہ آٹا گوندھ رہا تھا اور دوسری میں پیڑہ بنا کرروٹی بیل رہا تھا۔ خوشگوار یت کا احساس ہوا۔ 


پوچھا کیا آپ نے اپنے سب بچوں کو یہ کام سکھائے ہیں ۔

کہنے لگیں نہیں بڑے بچے جب کرنا چاہتے تھے تب کرنے نہیں دیے اب وہ نہیں کرنا چاہتے اور مجھے لگتا ہے انھیں کرنے چاہیں لہذا زبردستی کرواتی ہوں۔

مجھے لگا یہ میرا ہی کیس ہے۔مجھے یاد ہے جب بڑا بیٹا چھٹی کلاس میں گیا کالج کی ساتھی لیکچرر نے حیرانگی سے استفسار کیا آپ چھٹی کلاس کے بچے کےکپڑے خود استری کرتی ہیں۔اسے خود انحصاری سکھائیے۔اس کی بات پر عمل کے نتیجے میں بیٹے نے کیا رونا دھونا مچایا ناقابل بیان ہے۔ دوسرا ردعمل گھر والوں کی طرف سے تھا جنھوں نے فوراً ظالم ماں کا خطاب دے ڈالا دیر پہلے ہی بہت ہو گئی تھی لہذا طے کر لیا پیچھے نہیں ہٹنا۔



  اس نے احتجاجاً بغیر استری کپڑے پہننا شروع کر دیے باور کروایا مجھے کوئی پرواہ نہیں۔اگلے ہفتے سے خود ہی روتے دھوتے استری کرنا شروع کردیے ۔ اس کے بعد بہانے بہانے سے کبھی کمرے کی سیٹنگ کرواتی ،کبھی چند پلیٹیں دھلواتی ،کبھی سامان کسی کے ہاں بھجواتی ۔اس کے لئے ایک دو کلو وزن اٹھانا بھی جیسے پہاڑ تھا ایک دن طبیعت خرابی کا بہانا کرکے اس سے اسی کا یونیفارم دھلوایا مت پوچھیں کیا کیا جتن نہیں کرنے پڑے۔ بہرحال کوشش جاری رہی ہمت نہیں ہاری سات سالہ بیٹے نے جو کام ایک سال میں سیکھے بڑے نے روتے دھوتے سیکھنے میں چار سال لگادیئے۔اب بھی گئیر لگانا پڑتا ہے۔سیکھانے کا سفر جاری ہے۔ کل ہی کہہ رہا تھا اپنے میاں کو بھی خود کرنا سکھا دیں


 چھوٹا بیٹا برتن دھونا،سبزی کاٹنا ،ترتیب درست کرنا۔ مشین میں پانی ڈالنا ،کپڑے نچوڑنا کافی کچھ سیکھ گیا ہے۔

پتہ نہیں میری بہوؤں کو اس کی قدر ہو گی یا نہیں بہر حال بچوں سے جڑے رشتوں کی آسانی کی نیت ہے۔۔

چھوٹے چھوٹے کاموں میں محتاجی صاحب طاقت کو زیب نہیں دیتی۔


گزشتہ دنوں ایک صاحب بچوں کی تربیت کے حوالے سے لیکچر دیتے ہوئے کہہ رہے تھے۔

 بچے فطری طور پر ہر کام کرنا پسند کرتے ہیں۔اس وقت جب وہ ہر کام خود سےکرنا چاہتے ہیں انھیں کرنے دیں جھاڑو پوچا لگانے دیں، گوندھنے کو آٹا دے دیا کریں، وہ روٹی بیلیں ، کھانا بنائیں ،سوئی میں دھاگا ڈالیں بٹن ٹانکیں ۔یہ سب ان کے تعلیمی و تربیتی عمل کا اہم ترین قدم ہےجو بغیر تفریق ہر لڑکے لڑکی کو آنا چاہیے۔ترتیب،توازن،تنظیم عملی طور پر انھی کاموں سے سیکھی جا سکتی ہے ۔گھر کی تنظیم بچوں کی عملی زندگی کا اولین اور اہم ترین کام ہے۔اس عمر کا کام اورسلیقہ عمر بھر کی آسانی ہے۔ 


بڑے بیٹے کو دو سال تک خود نوالے بنا کر نزاکت سے کھلاتی رہی اس کا اثر آج بھی اس کی شخصیت پر ہے۔ پھر سبق آگیا دوسرے اور پھر تیسرے میں یہ غلطی نہیں دہرائی بیٹی کے سامنے چھ ماہ میں ہی پلیٹ میں کھانے کی کوئی چیز چھوٹے ٹکڑے کر کے رکھتی کبھی وہ پلیٹ پلٹ دیتی کبھی ذرہ ذرہ اٹھا کر کھاتی رہتی ۔ اسے ایسی عادت ہوئی کہ پھر وہ کسی کے ہاتھ سے کچھ نہ کھاتی تھی۔ 


لیکچر شپ کے دوران جب چھوٹے بیٹے کو کالج ساتھ لے جاتی اسے سب سے زیادہ ماسی کا کام متوجہ کرتا اس کا جی چاہتا کہ لپک کر آلات صفائی ماسی سے لے لے اوراس دلچسپ کام کو خود سر انجام دے ۔ 


ماسی جب کبھی اسے جھاڑو پکڑاتی تو جیسے خوشی سے بے قابو ہو جاتا پھر مجھے توتلی زبان میں اپنی کارگزاری بتاتا۔ 

ایک دن پڑوس کی ایک محترمہ کی بیمارپرسی کے لئے جانا ہوا شرمندہ تھیں کہ بیماری کے سبب کمرے کی صفائی نہیں کر پائیں کہا بیٹی سے کروا لیتیں کہنے لگیں میں نے اسے پڑھائی کے لئے آزادی دی ہوئی ہے کاموں کو عمر پڑی ہے اور میں سوچ رہی تھی کہ یہ کیسی پڑھائی ہے جو اسے اپنے عملی اور اولین میدان سے ہٹا کر دی جا رہی ہے اور پھر وہ وقت کون سا ہو گا جب وہ کام شروع کرے گی۔ 


ہمارے خاندان کی ایک لڑکی کی بڑے ناز و نعم میں پرورش ہوئی اس وقت دو بچوں کی ماں ہے۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے،حال و بے حال وجود گویا زندگی کی عظیم مشقت میں آدھ موئی ہوئی جا رہی ہے۔ کبھی کہتی ہے کاش وقت پر کام کرنے شروع کیے ہوتے تو آسانی رہتی معصوم بچوں کی معصو مانہ حرکات سے خوشی محسوس کرتی ۔ یہ معمول کے کام کم ازکم پہاڑ نہ لگتے

اس کے برعکس 


ایک سہیلی کی بارہ سالہ بیٹی بیمار ہوئی کہنے لگی میں تو اس کے بستر پر پڑنے سےچکرا کر رہ گئی ہوں غیر محسوس انداز میں کئی کام سنبھال لیا کرتی تھی ۔ پوچھا آٹھویں کلاس کی بچی نے یہ سب کیسے سیکھا ۔بتانے لگی کہ ابتدائی چار پانچ سال دادی کے ساتھ ساتھ رہتی تھی 


وہ جو کام خود کرتیں اسے بھی کرنے کو دیتیں ۔انھوں نے پرات چکلہ ،بیلن ،پتیلی سب اس کے لئے الگ سے لیا تھا ۔بلکہ اسے گڑیا کے کپڑے سینا بال بنانا ، اور گڑیا کا گھر مرتب کرنا بھی سکھاتیں غیر محسوس انداز میں اسے سب کاموں کی عادت سی ہوتی چلی گئی اب اسے کوئی بھی کام بوجھ نہیں لگتا۔



لوگوں کے بچے صبح گھر الٹ پلٹ کر جاتے ہیں ۔میری بیٹی تیار ہونے کے ساتھ ساتھ کئی کام سمیٹتی جاتی ہے۔ 


بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک محترمہ نے اپنے تجربات بتائے کہنے لگیں کہ میاں کبھی خود سے بڑھ کرپانی پینے کے بھی روادار نہ تھے ۔طبیعت کی اونچ نیچ میں شدت سے کچھ سبق یاد کر لیے کہ اپنے بچوں کو ہر معاملے میں خود کفیل کرنا ہے ۔ لہذا انھیں پہلے بتایا کہ اپنے ہاتھ سے اپنے کام کرنا پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے وہ اپنے کام خود کیا کرتے جوتے گانٹھ لیتے ،کپڑوں پر پیوند لگا لیتے ۔اپنا کام کرنا باعث شرم نہیں باعث شرف ہے۔لہذا جو سکھا سکتی تھی سب سکھایا ساتھ ساتھ جذباتی،نفسیاتی تربیت بھی کی ۔ 

ان کو وہ سب کرنے دیا جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔آج کسی کے لئے کوئی بھی کام مسئلہ نہیں بلکہ انھیں حیرت ہوتی ہے جو لوگ خود سے کام نہیں کر تے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ گھر میں کوئی ایک کاموں کے بوجھ میں دبتا بھی نہیں مل بانٹ کر سب ہو جاتا ہے ۔



تربیت کا ایک نکتہ خالہ جان سے میں نے بھی سیکھا کہ کام کے ساتھ رویوں کی درستگی اہم ہے۔

 وہ اپنی بیٹی کو سمجھا رہی تھیں کہ بیٹا کچھ لوگ کام کر کے بھی سب ضائع کر دیتے ہیں ۔ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے احسان کیا لہذا برے رویے سے گھر کی اچھی بھلی فضا زہریلی کر دہتے ہیں۔ یاد رکھو گھر اور رشتے سکون سے جڑے ہیں۔


ماہنامہ بتول میں شائع ہونے والی ایک کہانی جس کی لکھنے والی یاد نہیں لیکن اس کی کہانی مجھے کبھی نہیں بھولتی کہ ایک خاتون اپنی ساس کے نامناسب رویے کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتیں تھیں ۔کسی نے پوچھا یہ سب ہنستے مسکراتے کیسے برداشت کر لیتی ہیں؟


 بہت کچھ سکھا دینے والا جواب تھا کہ یہ سب اللہ کے لئے کرتی ہوں اجر کی طلب بھی اسی سے ہوتی ہے لہذا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔



زندگی کے تجربات سے ایک بات سمجھ آئی ہے کہ وہ افراد لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں جو دوسروں پر بوجھ بننے کے بجائےدوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔ بوجھ ڈالنے والے کو قریبی افراد بھی پسند نہیں کرتے ۔



میرے ابو جی فوج میں ایک قابل آفیسر تھے ۔ ہمار

 کوشش ہوتی ان کے آتے ہی انھیں پانی دیں ،کھانا دیں وہ ہم سے پہلے کچن میں پہنچ جاتے خود پانی پی لیا کرتے کسی کو سوتے سے کبھی نہ اٹھاتے ۔ حالانکہ ہمارے مرد خود سے پانی تک پینا توہین سمجھتے ہیں ۔وہ خود سے حتی المقدور اپنے کام کر نے کی کوشش کیا کرتے ۔



ایک ساتھی نے بڑے پتے کی بات کہی 


کہ بچوں کی تعلیم وتربیت کا مفہوم اور مطلب کیا ہے یہ تصور واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ اس وقت کی مائیں جو مفہوم سمجھ بیٹھی ہیں یہ کام اسی طرح جاری رہا تو بہت دیر ہو جائے گی۔ 


Arhanarshlan khan 

और नया पुराने