توحید کی عظمت واہمیت
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ (الأنبياء: ٢٥)
ترجمہ: تجھ سے پہلے جو بھی رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔
یَا أَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ، الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الأَرْضَ فِرَاشاً وَالسَّمَاء بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّہِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرہ:٢١،٢٢)
ترجمہ: ”اے لوگو! اپنے اس پرودگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور ان لوگوں کو پیدا کیا جوتم سے پہلے گزرے ہیں؛ تاکہ تم متقی بن جاؤ، وہ پرودگار جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایااور آسمان کو چھت، اور آسمان سے پانی برسایا،پھر اس کے ذریعے تمہارے رزق کے طور پر پھل نکالے۔ لہٰذا اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹہراؤ؛ جبکہ تم ( یہ سب باتیں) جانتے ہو۔
تمہید
قرآن کریم سرچشمہٴ ہدایت ہے، یہ اللہ رب العالمین کی وہ آخری الہامی کتاب ہے،جو اس نے اپنے آخری نبی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری یہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کو فلاح،نجات اورسعادت کاراستہ دکھاتی رہے گی، اس کلام مبین سے کون فائدہ اٹھاتا ہے اورکون انکارکرکے اپنے لیے ابدی شقاوت کا سامان اکٹھا کرتاہے؟ اس کا جواب سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات سے ہی مل جاتاہے۔جن میں رب کریم نے انسانوں کے تین طبقات کا ذکر فرمایا ہے:
۱۔مؤمنین
۲۔کافرین
۳۔ منافقین
ابتدائے سورت میں ہر ایک کی الگ الگ صفات بیان فرمانے کے بعد، تمام انسانوں کو ”یا ایھا الناس“ سے مخاطب کیا گیاہے، اس خطاب میں مومن مخلص بھی داخل ہے اور کافر ومنافق بھی، قرآن مجید میں یہ پہلا خطاب ہے،جس میں اللہ رب العالمین پوری انسانیت کو کسی لحاظ وامتیاز کے بغیر اپنی ذات عالی کی طرف متوجہ فرمارہے ہیں اور بندوں کو اپنی قدرتِ کاملہ سے آگاہ کرنے کے لیے اپنی نعمتوں کا تذکرہ فرمارہے ہیں۔
کچھ نعمتیں تو وہ ہیں جو براہ راست انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہیں، بعض ایسی ہیں جن کا تعلق انسان کے اردگرد پائی جانے والی چیزوں سے ہے، انسان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت، خود اس کا وجود ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی نور اللہ مرقدہ اس حوالے سے لکھتے ہیں:”نیست سے ہست اور نابود سے بودکرنا، پھر بطن مادر کی تاریکیوں اور گندگیوں میں ایسا حسین وجمیل ،پاک وصاف انسان بنا دینا کہ فرشتے بھی اس کی پاکی پر رشک کریں،یہ سوائے اُ س ذات حق کے کس کا کام ہوسکتاہے،جو کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں۔“(معارف القرآن:133/1)
جبکہ آفاقی نعمتوں میں چار چیزوں کا ذکر فرمایا ہے:
۱۔ زمین ۲۔ آسمان ۳۔ بارش ۴۔ زمین سے غلہ اگنا
ان چاروں نعمتوں کے خالق ومالک بھی صرف اورصرف اللہ رب العالمین ہیں۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر ان کی تخلیق وپیدائش کا مفصل ذکر کیا گیاہے۔ غرض! انسان کو حاصل تمام نعمتیں خواہ ان کا تعلق ا س کی ذات سے ہو یا نہ ہو ،اللہ تعالیٰ کی عطافرمودہ ہیں۔اوربندگی والوہیت کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی زید مجدہم آیاتِ بالا کی تشریح یوں بیان کرتے ہیں:”ان دوآیتوں میں اسلام کے بنیادی عقیدئہ توحید کی دعوت دی گئی ہے۔ اور مختصر انداز میں اس کی دلیل بھی بیان کردی گئی ہے۔ اہل عرب یہ مانتے تھے کہ ساری کائنات کو پیدا کرنا، زمین وآسمان کی تخلیق اور آسمان سے بارش برسانا،او راس سے پیداوار اگانا،یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے ہیں۔ اس کے باوجود وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے کام بتوں کے سپرد کررکھے ہیں۔ اوروہ بت اپنے اپنے کاموں میں براہ راست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ ان بتوں کی عبادت اس لیے کرتے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہر چیزکے پیدا کرنے والے ہم ہیں اور ہمیں کائنات چلانے کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، تو عبادت کسی اور کی کرنا کتنے بڑے ظلم کی بات ہے۔“(آسان ترجمہ قرآن: 49/1)
توحید کا معنیٰ
لغوی معنی: کسی چیز کو ایک جاننا ایک ماننا
شرعی معنی: اللہ کو اس کے افعال، عبادت اور اس کے اسماء و صفات میں اکیلا اور یکتا ماننا
توحید صرف یہ نہیں ہے کہ ہم اللہ کو اپنا خالق و مالک سمجھیں تو بس کافی ہو گیا بلکہ توحید اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک بندہ اللہ کو اس کے افعال کے ساتھ ساتھ اس کی عبادت اور اسماء و صفات میں بھی اکیلا نہ مان لے، کیونکہ مکہ کے مشرکین بھی اللہ کو اپنا خالق و مالک مانتے تھے پھر بھی ان سے قتال کا حکم دیا گیا اس لیے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی اور کو بھی اس کا ساجھی و شریک سمجھتے تھے۔
توحید کی اقسام
توحید کی تعریف جان لینے کے بعد واضح طور سے اس کی تین قسمیں سامنے آتی ہیں:
۱۔ توحید ربوبیت ۲۔توحید الوہیت ۳۔توحید اسماء و صفات
۱ ۔توحید ربوبیت: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق و مالک، رازق اور متصرف ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔جیسا کہ اللہ نے قرآن میں اس چیز کو کئی مقامات پر بیان کیا ہے۔بطورِ مثال یہ آیت دیکھیں:
اَللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَفْعَلُ مِنْ ذَلِكُمْ مِنْ شَيْء ٍ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَي عَمَّا يُشْرِكُونَ (الروم:۴۰)
۲۔ توحید الوہیت: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے، اس کی عبادت میں کوئی اس کا ساجھی اور شریک نہیں، اور ’’لا الہ الا اللہ‘‘کا مطلب بھی یہی ہے، یعنی اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اس لیے نماز، روزہ اور ہر قسم کی عبادت صرف اللہ واحد کے لیے کی جائے گی، اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے عبادت کا ایک معمولی حصہ بھی کرنا جائز نہیں۔اور توحید کی یہی وہ قسم ہے جو ایک مومن و موحد اور ایک مشرک و کافر کے درمیان امتیاز پیدا کرتی ہے۔
۳۔ توحید اسماء و صفات: اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اسماء و صفات قرآن و حدیث میں مذکور ہیں ان کو بغیر کسی تاویل اور تحریف کے تسلیم کیا جائے، اللہ نے جن اسماء و صفات کو اپنے لیے ثابت کیا ہے انہیں ان کے معانی اور ان سے متعلق کتاب و سنت میں وارد احکام سمیت اللہ کے جلال و عظمت کے شایان شان اس طرح ثابت کیا جائے کہ نہ کسی صفت کی نفی لازم آئے، نہ اس کا معنیٰ معطل ہو، نہ اس میں کسی قسم کی تحریف ہو، نہ مخلوق کی صفت سے تشبیہ دی جائے اور نہ اس کی کیفیت ہی بیان کیا جائے، اللہ کی ذات سے ان تمام نقائص و عیوب کی نفی ہو اور ہر اس چیز کی نفی کی جائے جو اللہ کی ذات کے منافی ہو۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ۔اللَّهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ۔وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ’’کہہ دو کہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا ، اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے‘‘(الإخلاص:۱۔۴)
دوسری جگہ فرمایا: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْء ٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ’’اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں، اور وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے‘‘(الشوریٰ:۱۱)
توحید کی اہمیت
کائنات کا ذرہ ذرہ توحید کی اہمیت بتانے کے لیے ہی ہے اگر آنکھیں دیکھتی ہوں اور دل سمجھتے ہوں۔
دنیا میں جتنے بھی انبیاء و رسل آئے سبھی کا مشن ایک تھا اور وہ ہے اللہ کی توحید کا اعلان اور تمام معبودان باطلہ سے براء ت کا اظہار
انسان کی نیکیوں اور اچھائیوں کے قبول کیے جانے کی سب سے بڑی بنیاد توحید ہی ہے۔
توحید نہ ہو تو کسی نبی سے قرابت و رشتہ داری بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی ہے۔جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا کنعان بھی طوفان میں ڈبو دیا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ابو لہب کی رشتہ داری بھی کسی کام نہیں آئی۔
اللہ نے خود اپنی معرفت یعنی توحید کی جانکاری حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے۔
قرآن کی ابتداء و انتہا اسی توحید پر ہے۔
توحید کے فوائد اور ثمرات قرآن کی روشنی میں
توحید کے بڑے عظیم فضائل، لائق تعریف ثمرات اور بہترین نتائج ہیں، جہاں قرآن و حدیث میں اہل توحید کے اعزاز و اکرام، انہیں دنیا میں عطا کی جانے والی نصرت و تائید اور آخرت میں ملنے والی عزت و تکریم کی خبر دی گئی ہے وہیں شرک کی مذمت بھی بیان کی گئی ہے، اہل شرک اور انہیں دنیا و آخرت میں ملنے والی پھٹکار، لعنت و ملامت اور بھیانک سزاؤں و عذاب کی خبر دی گئی ہے اور یہی توحید سے منہ موڑنے والے کا انجام ہے،
توحید خالص سے دنیا و آخرت میں امن و سلامتی حاصل ہوتی ہے۔
اللہ کا فرمان ہے: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الأمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں (الأنعام:۸۲)
توحید کے بجائے کفر و شرک پر مر جانے والے کی بخشش ہرگز نہیں ہوگی۔ إِنَّ اللَّہَ لا یَغْفِرُ أَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَنْ یَشَاء ُ وَمَنْ یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا بَعِیدًا ’’اسے اللہ تعالیٰ قطعاً نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک مقرر کیا جائے، ہاں شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ‘‘ (النساء :۱۱۶)
ایسے شخص پر جنت حرام ہو جاتی ہے اور جہنم کو اس کا ٹھکانہ بنا دیا جاتا ہے۔ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ ’’جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والاکوئی نہیں ہوگا‘‘ ( المائدۃ:۷۲)
ایسے شخص کو مسلمانوں کی دعائے مغفرت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَي مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ’’پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں‘‘ ( التوبۃ:۱۱۳)
ایسے شخص کی دنیا میں کی جانے والی تمام نیکیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ’’اور اگر یہ لوگ شریک بناتے تو یقینا ان سے ضائع ہو جاتا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے‘‘(الأنعام:۸۸)
مشرک شخص اگر زمین کے برابر بھی سونا دے کر اپنے آپ کو جہنم سے آزاد کرنا چاہے تب بھی اس کا یہ آفر قبول نہیں کیا جائے گا۔ {إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْء ُ الأرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَي بِهِ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ، ’’بیشک جو لوگ اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کریں پھر کفر میں بڑھ جائیں، ان کی توبہ ہرگز ہرگز قبول نہ کی جائے گی، یہی گمراہ لوگ ہیں ۔ ہاں جو لوگ کفر کریں اور مرتے دم تک کافر رہیں ان میں سے کوئی اگر زمین بھر سونا دے، گو فدیئے میں ہی ہو تو بھی ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے تکلیف دینے والاعذاب ہے اور جن کا کوئی مددگار نہیں‘‘( آل عمران:۹۱)
توحید کے فوائد اور ثمرات حدیث کی روشنی میں
موحدین کے لیے جنت کی خوش خبری ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: ’’مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ‘‘ ’’جو شخص ملے اور وہ گواہی دیتا ہو لا الہ الا اللہ کی دل سے یقین رکھ کر تو خوشخبری دو اس کو جنت کی‘‘(صحیح مسلم: ۳۱)
توحید کا اقرار کرنے والے پر جہنم حرام کر دی جاتی ہے، پیارے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’فَإِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَي النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؛ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ‘‘ ’’اللہ تعالیٰ نے لا إلہ إلا اللہ کہنے والے پر اگر اس کا مقصد خالص اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے‘‘(صحیح بخاری:۴۲۵)
توحید کی بنا پر ہی اللہ انسان کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور اس کی خطاؤں کو درگزر کر دیتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ کہتا ہے:
’’يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَي مَا كَانَ فِيكَ، وَلَا أُبَالِي. يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاء ِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ وَلَا أُبَالِي. يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا، ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً ‘‘ ’’اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے (مغفرت طلب کرنے کے لیے) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آوں گا (اور تجھے بخش دوں گا)‘‘(سنن ترمذی:۳۵۴۰)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت کبریٰ کے حصول کے لیے توحید سب سے بڑا سبب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَال: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ نَفْسِهِ‘‘ ’’ قیامت میں سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے وہ شخص ہو گا، جو سچے دل سے یا سچے جی سے لا إلہ إلا اللہ کہے گا‘‘(صحیح بخاری:۹۹)
دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی توحید اور ایمان ہو تو ایسے انسان کو جہنم میں ہمیشہ رہنے سے محفوظ کر دیا جائے گا۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :’’لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ‘‘ ’’جہنم میں نہ جائے گا (یعنی ہمیشہ کے لیے) وہ شخص جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو‘‘(صحیح مسلم :۹۹)
جو بندہ بھی اللہ کی توحید کا اقرار کر لے اللہ اسے ہر قسم کے عذاب اور پریشانیوں سے دور کر دیتا ہے کیونکہ یہ اُس موحد بندے کا اللہ پر حق ہے۔جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’وَحَقَّ العِبَادِ عَلَي اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا‘‘ ’’اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے‘‘ (صحیح البخاری:۲۸۵۶)
مشرک شخص کو اللہ بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے اور اس کے عمل سے براءت کا اظہار کر لیتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ کہتا ہے:’’أَنَا أَغْنَي الشُّرَكَاء ِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ ‘‘ ’’میں بہ نسبت اور شریکوں کے محض بے پرواہ ہوں ساجھی سے، جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں میرے ساتھ میرے غیر کو ملایا اور ساجھی کیا تو میں اس کو اور اس کے ساجھی کے کام کو چھوڑ دیتا ہوں‘‘(صحیح مسلم:۲۹۸۵)
وجود باری تعالیٰ پر چند اقوال
امام شافعی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:” اس کائنات کو بنانے والا کوئی ہے؟“ انہوں نے جو اب میں فرمایا :” شہتوت کا پتہ جس کا ذائقہ ایک ہے؛لیکن اگرریشم کا کیڑا اسے کھائے تو اس سے ریشم نکلتاہے۔اگر شہد کی مکھی کھائے تواس سے شہد نکلتاہے۔اگرگائے، بکری اوردیگر چوپائے اس اپنے پیٹ میں ڈالیں تو یہ گوبر اورمینگنی کی صور ت میں باہر نکلتاہے۔ہرن کھالے تو مشک نکلتاہے؛حالاں کہ چیز ایک ہی ہے؛مگرصورتیں مختلف بن رہی ہیں۔“( یہ مختلف نتائج ایک شئی سے کس طرح برآمد ہورہے ہیں)
کسی عرب بدو سے جب خداتعالیٰ کے وجود پر دلیل پوچھی گئی تو اس نے کہا:”سبحان اللہ! جب اونٹ کی مینگنی اس پر دلالت کرتی کہ یہاں سے اونٹ گزراہے۔کسی مسافر کے نقش قدم سے یہ معلوم ہوجاتاہے کہ اس راستے سے اس کا گزرہواہے۔ تو پھر یہ آسمان جو ستاروں سے چمک دمک رہاہے۔یہ زمین جو راستوں سے سجی ہوئی ہے اور یہ سمندر جو لہروں کے ساتھ جوش ماررہاہے، کیا کسی ایسی ہستی کے ثبوت ووجود پر دلالت نہیں کرتا جو خوب باخبر بھی ہے اور تمام چیزوں کے حقائق واسرار سے واقف بھی؟“
ابن المعتزشاعر کہتاہے #
فَیَا عَجَباً کیفَ یُعْصَیٰ الْالٰہ اَمْ کیفَ یَجْحَدُہ الجاحِد
وَفِیْ کُلِّ شئیٍ لَہ ایة تَدُلُّ علی أنَّہ وَاحِد
ترجمہ: تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کیسے کی جاسکتی ہے یا اس کے وجود سے کوئی کیسے منکرہوسکتاہے ؟جب کہ ہر چیز میں اس کے وجود کی نشانی اور دلیل موجود ہے۔جو بہ زبان حال پکار پکار کر گواہی دے رہی ہے کہ وہ اکیلا ویکتاہے اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں۔(ابن کثیر:82/1)
مسلمانوں کو پیغام
اپنے دین کی حفاظت کرو، اپنے ایمان میں بدعات کی ملاوٹ سے بچو، توحید کو شرک کی آمیزش سے پاک کر لو، اور زندگی میں ہر دن اپنے ایمان و عقیدے کا جائزہ لیتے رہو کیونکہ شیطان کی سب سے پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی موحد کو اللہ کی عبادت سے پھیر کر طاغوت کی پیروی کے راستے پر لگا دے، اور یاد رکھو کہ اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور دیکھو تمہیں موت آئے تو تم مسلمان رہو‘‘ ( آل عمران:۱۰۲)
خاتمہ بالخیر کی دعائیں مانگتے رہو جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کیا کرتے تھے: تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ ، ’’کہ اے اللہ! تو مجھے مسلمان کی حالت میں وفات دے اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کر لے‘‘( یوسف:۱۰۱)
ذرا سے فائدے کے لیے کبھی بھی اپنے ایمان اور عقیدے کا سودا نہ کرنا اس لیے کہ ایمان اور توحید اس کائنات کی سب سے بڑی دولت ہے۔
خلاصہ کلام
پورے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ توحید ایک عظیم نعمت ہے، انبیاء و رسل کی بعثت کا بنیادی مقصد یہی توحید ہے، کائنات کی ہر چیز اللہ کی توحید کا اقرار کرتی ہے، توحید اس دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے، توحید میں ملاوٹ پیدا کر دینا شیطان کا سب سے بڑا ہدف ہے، آخرت میں جہنم سے نجات اور جنت میں داخلے کا دارومدار اسی توحید پر ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت کا سب سے پہلا مستحق ایک موحد ہی ہے، دنیا و آخرت میں امن و سلامتی اسی توحید کے سبب ملتی ہے اور موحدین کے لیے ہی بہترین اور خوبصورت مقام اور ٹھکانہ ہے۔ جبکہ اس کے برعکس شرک اس دنیا کی سب سے بری، گھٹیا اور حقیر چیز ہے، مشرک اس دنیا کا پلید ترین انسان ہے جس کے لیے اللہ کی رحمت اور اس کی جنت سے دوری ہے اور ایسے شخص کا ٹھکانہ جہنم ہے لہذا ہم سب کو شرک سے دور رہ کر اپنی توحید اور ایمان کی حفاظت کی فکر کرنا چاہیے۔(توحید باری تعالیٰ کی اہمیت و فضیلت، عائشہ فخرالدین نوریہ )
کلمہ لا الہ الا اللہ کے پڑھنے والے توآج دنیا میں کروڑوں ہیں اوراتنے ہیں کہ کسی زمانے میں اتنے نہیں ہوئے؛ لیکن عام طور پر یہ صرف زبانی جمع خرچ ہے۔توحید کا رنگ ان میں رچا نہیں ورنہ ان کا بھی وہی حال ہوتا جو پہلے بزرگوں کا تھا کہ نہ کوئی بڑی سے بڑی قوت وطاقت ان کو مرعوب کرسکتی تھی اور نہ کسی قوم کی عددی اکثریت ان پر اثر انداز ہوسکتی تھی۔نہ کوئی بڑی سے بڑی دولت وسلطنت ان کے قلوب کو خلاف حق اپنی طرف جھکا سکتی تھی۔ ایک پیغمبر کھڑا ہوکر ساری دنیا کو للکار کر کہہ دیتاتھا کہ تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔”کیدون فلا تنظرون“ انبیا کے بعد صحابہ وتابعین جو تھوڑی مدت میں دنیا پر چھاگئے، ان کی طاقت وقوت اسی حقیقی توحید میں مضمر تھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور سب مسلمانوں کو یہ دولت نصیب فرمائیں۔“(معارف القرآن :139/1)
اللہ ہمیں جب تک دنیا میں زندہ رکھے ایمان اور توحید کی بقا کے ساتھ رکھے اور جب ہماری موت آئے تو ایمان اور توحید کی حالت میں آئے۔آمین یا رب العالمین
