ولادت رسولﷺ:
حسن يوسف، دم عيسي، يد بيضا داري
آنچہ خوباں ھمه دارند، تو تنہا داري
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ۔ (آل عمران: ۳/ ۱۶۴)
ترجمہ: اللہ نے یقیناً مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان میں ان ہی میں سے رسول بھیجا، جو ان کو آیات الٰہی پڑھ کر سنائیں، ان کو پاک صاف کریں اورانھیں کتاب (یعنی قرآن مجید) اور عقل کی باتیں سکھائیں؛ حالاں کہ یہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔
مذکورہ آیت میں ایک نعمت کا تذکرہ ہے، اور وہ نعمت ہے نبی کریم ﷺ کی بعثت، یوں تو آپ ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لئے اللہ رب العزت کی نعمت عظمی ہے قرآن کریم کی تصریح کے مطابق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمتہ للعالمین ہیں اور پورے عالم کے لئے آپ کا وجود نعمت کبری اور احسان عظیم ہے، اس جگہ اس کو صرف مؤمنین کے لئے فرمانا ایسا ہی ہے جیسے قرآن کریم کو ھدی للمتقین فرمانا کہ قرآن کا سارے عالم کے لئے ہدایت ہونا دوسری آیات سے ثابت ہے مگر بعض جگہ اس کو متقین کے ساتھ مخصوص کر کے بیان فرمایا اس کی وجہ دونوں جگہ مشترک طور پر ایک ہی ہے کہ اگرچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وجود باوجود سارے عالم اور ہر مومن و کافر کے لئے نعمت کبریٰ اور احسان عظیم ہے اسی طرح قرآن کریم سارے عالم انسانیت کے لئے صحیفہ ہدایت ہے، مگر چونکہ اس نعمت و ہدایت کا نفع صرف مؤمنین اور متقین نے حاصل کیا اس لئے کسی جگہ اس کو ان کے ساتھ مخصوص کر کے بھی بیان کردیا گیا، کیوں کہ کوئی بھی شیٔ اصل میں نعمت اسی شخص کے حق میں ہوتی ہے، جس کو اس سے نفع اُٹھانے کی توفیق میسر آتی ہواوررسول اللہ ﷺ کی نبوت سے اور قرآن سے فائدہ اٹھانے کی توفیق مسلمانوں کو حاصل ہوئی۔
جب حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو ساتھ ساتھ نہایت مخلصانہ انداز میں دعا بھی کر رہے تھے، ” ربنا تقبل منا “۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے ” انک انت السمیع العلیم “۔ بیشک تو سننے والا اور جاننے والا ہے تو دعا کو سنتا بھی ہے اور ہمارے اخلاص کو بھی جانتا ہے ، لہذا ہمارے عمل کو قبول فرما لے ۔
ظاہر ہے کہ قبولیت کے بغیر ہر عمل بیکار محض ہے اسی لیے انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام ہمیشہ دعا کیا کرتے تھے، کہ ہمارا عمل قبول ہوجائے، ہر مومن کی بھی یہی تمنا ہوتی ہے کہ اس کی نیکی بارگاہ رب العزت میں مقبول ہوجائے، ” انما یتقبل اللہ من المتقین “ اللہ تعالیٰ متقیوں کے اعمال کو ہی قبول کرتا ہے نیکی اسی کی قبول ہوگی جس کا دل تقوی سے معمور ہے اگر تقوی سے خالی ہے دل میں کفر شرک، نفاق، اور ریا کاری بھری ہوئی ہے، تو کوئی عمل بھی قبول نہیں ہوگا، قبولیت کا معیار خلوص اور تقوی ہے ۔
بیت اللہ شریف کی تعمیر کے بعد جو دعا کی گئی ان میں سے ایک نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی دعا ہے حضرت ابراہیمؑ نے اپنی دعا میں حضور خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی درخواست پیش کی ، گویا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور سے ہزاروں سال پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آپ کے لیے دعا کی اور دعا کے پہلے حصے میں عرض کیا ” ربنا واجعلنا مسلمین لک “ اے پروردگار ! ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا لے کہ ہم دونوں ہر حالت میں تیری اطاعت کرنے والے بن جائیں ، انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہمیشہ یہی دعا رہی ” توفنی مسلماوالحقنی بالصلحین“ اے اللہ ! ہماری موت فرمانبرداری کی حالت میں آئے اور جب وصیت کرتے ہیں تو فرماتے ہیں ” فلا تموتن الا وانتم مسلمون“. کوشش کرو بھائی کہ تمہارا خاتمہ اسلام اور فرمانبرداری کی حالت میں ہو ، چناچہ حضرت ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ نے بھی دعا کی ” ربنا واجعلنا مسلمین لک“ اے اللہ ! ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا، اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی ممکن ہے، اگلی دعا کی:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ (البقرہ: ۱۲۹)
پروردگار ہمارے ! اِن میں اِن ہی میں سے ایک پیغمبر بھیج دیجئے، جو ان کو آپ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کریں ، کتاب وحکمت کی تعلیم دیں اورانھیں پاک وصاف کردیں، بے شک آپ بڑی قدرت والے اور بڑے دانا ہیں۔
حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کی دُعا میں جس اُمت کا ذکر آیا ہے، اس سے اُمت ِمحمدیہ ﷺ اور جس پیغمبر کا ذکر آیا ہے، اس سے پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات مراد ہے؛ اس لئے کہ دُعاء میں حضرت ابراہیمؑ اورحضرت اسماعیلؑ دونوں شامل ہیں، اور حضرت اسماعیلؑ کی نسل سے صرف آپ ہی نبوت سے سرفراز کئے گئے اور یہی اُمت کتاب ِالٰہی کی حامل ہوئی ۔
اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے چار کام ذکر کئے ہیں، اول: تلاوت آیات ، اس سے الفاظِ قرآنی کا سنانا مراد ہے ، اسلام میں کتابِ الٰہی کی تلاوت کی جو فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس کی وجہ سے قرآن مجید کو دیکھ کر پڑھنے اور زبانی یاد کرنے کا جو ذوق اس اُمت میں ہے ، اس کی کوئی مثال کسی اور قوم میں نہیں ملتی، دوسرے: تعلیم کتاب، یعنی قرآن میں جو مضامین و احکام منقول ہیں، ان کی تفسیر وتوضیح ، قرآن مجید کی تفسیر کا جو کام ہوا ہے، وہ اسی ’ تعلیم کتاب ‘ کی تفصیلات ہیں، تیسرے: تعلیم حکمت، حکمت کے معنی دانائی کی بات کے ہیں؛ اس لئے بعض حضرات نے اس سے حکمت کی باتیں اور تفقہ مراد لیا ہے ، قتادہ کے نزدیک اس سے ’سنت ‘ مراد ہے (قرطبی : ۲؍۱۳۱ ) یہی تفسیر راجح ہے ، کیوں کہ ظاہر ہے کہ ’ حکمت ‘ سے ’ تشریعی حکمت ‘ مراد ہے کہ آپ کا مقصد احکامِ شریعت ہی کو بیان کرنا ہے اور قرآن کے علاوہ احکامِ شریعت سے متعلق جو کچھ آپ سے منقول ہے، وہ حدیث ہی ہے، چوتھے: تزکیہ، اس کے معنی پاک کرنے کے ہیں، بعض نے شرک سے پاک کرنا مراد لیا ہے اور بعض نے مطلقاً گناہوں سے؛ اس لئے یوں کہا جاسکتا ہے کہ اُمت کو کتاب و سنت کے سانچہ میں ڈھال دینا کہ وہ شریعت کی تمام ممنوعات سے پاک صاف ہوجائے، تزکیہ ہے اور یہ قلب کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں۔
بہرحال حضرت ابراہیمؑ نے صرف پیغمبر کی دعا نہیں مانگی بلکہ ان کے دنیا میں آنے کا مقصد بھی مانگ لیا، اور اللہ تعالی نے اس دعا کو قبول فرمایا اور نبی کریم ﷺ کو انھیں ذمہ داریوں کے ساتھ دنیا میں مبعوث فرمایا۔
نبی کریم ﷺ جس زمانہ میں تشریف لائے اسے زمانہ جاہلیت کہا جاتا ہے، پوری دنیا تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی ہر طرف ظلم و جبر کا دور دورہ تھا کمزوروں کے حقوق دبائے جارہے تھے عورتوں پر ظلم ہورہا تھا مزدوروں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی برتی جارہی تھی، کوئی ایسی برائی نہیں تھی جو اس زمانہ کے رہنے والوں میں نہ ہو، ہر طرف مایوسی اور ظلمت تھی کہ اسی زمانے میں ایک بہت بڑا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے پوری دنیا قریش کی طرف متوجہ ہوئی اور لوگ یہ امید باندھنے لگے کہ اب کوئی شخصیت ایسی آئے گی جو ہمیں اس ظلمت اور تاریکی سے نکالے گی، اور وہ واقعہ تھا اصحاب فیل کا جس کو اللہ رب العزت نے سورہ فیل میں بیان کیا ہے اس کی مختصر تفسیر پیش کی جارہی ہے:
ابرہہ بیت اللہ کو مسمار کرنے کے قصد سے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی، حق تعالیٰ نے معمولی پرندوں کے ذریعہ ان کی فوج کو عذاب آسمانی نازل فرما کر نیست و نابود کر کے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا،
واقعہ فیل آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کے سال میں ہوا، حضرات محدثین نے اس واقعہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک قسم کا معجزہ قرار دیا ہے مگر چونکہ معجزات کا قانون یہ ہے کہ وہ نبی کے دعوائے نبوت کے ساتھ ان کی تصدیق کے لیے ظاہر کیے جاتے ہیں، دعوائے نبوت سے پہلے بلکہ نبی کی ولادت سے بھی پہلے حق تعالیٰ بعض اوقات دنیا میں ایسے واقعات اور نشانیاں ظاہر فرماتے ہیں جو خرق عادت ہونے میں معجزہ کی طرح ہوتے ہیں، اس طرح کی نشانیوں کو محدثین کی اصطلاح میں ارہاص کہا جاتا ہے جو تاسیس و تمہید کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور ولادت سے پہلے بھی اس قسم کے ارہاصات متعدد قسم کے ہوئے ہیں، اصحاب فیل کو آسمانی عذاب کے ذریعہ بیت اللہ پر حملے سے روک دنیا بھی انہی ارہاصات میں سے ہے۔
اصحاب فیل کا واقعہ: تاریخ ابن کثیر نے اس طرح نقل فرمایا ہے کہ یمن پر ملوک حمیر کا قبضہ تھا یہ لوگ مشرک تھے ان کے آخری بادشاہ نے اس زمانے کے اہل حق یعنی نصاریٰ پر شدید مظالم کیے، اسی نے ایک طویل عریض خندق کھدوا کر اس کو آگ سے بھرا اور جتنے نصرانی بت پرستی کے خلاف ایک اللہ کی عبادت کرنے والے تھے سب کو اس آگ کی خندق میں ڈال کر جلا دیا جن کی تعداد بیس ہزار کے قریب تھی، یہی وہ خندق کا واقعہ ہے جس کا ذکر اصحاب الاخدود کے نام سے سورة بروج میں آیا ہے، ان میں دو آدمی کسی طرح اس کی گرفت سے نکل بھاگے اور انہوں نے قیصر سے جا کر فریاد کی کہ وہاں پر ایسا ظلم ہوا ہے آپ ان کا انتقام لیں، قیصر نے بادشاہ حبشہ کو خط لکھا یہ بھی نصرانی تھا اور یمن سے قریب تھا کہ آپ اس ظالم سے ظلم کا انتقام لو، اس نے اپنا عظیم لشکر دو کمانڈر ارباط اور ابرہہ کی قیادت میں یمن کے اس بادشاہ کے مقابلے پر بھیج دیا، لشکر اس کے ملک پر ٹوٹ پڑا اور پورے یمن کو قوم حمیر کے قبضہ سے آزاد کرایا، اس طرح ارباط و ابرہہ کے ذریعہ وہاں پر بادشاہ حبشہ کا قبضہ ہوگیا، پھر ارباط اور ابرہہ میں باہمی جنگ ہو کر ارباط مقتول ہوگیا ابرہہ غالب آ گیا اور یہی بادشاہ حبشہ نجاشی کی طرف سے ملک یمن کا حاکم (گورنر) مقرر ہو گیا، اس نے یمن پر قبضہ کرنے کے بعد ارادہ کیا کہ یمن میں ایک ایسا شاندار کنیسا بنائے جس کی نظیر دنیا میں نہ ہو، اس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ یمن کے عرب لوگ جو حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ جاتے ہیں اور بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں یہ لوگ اس کنیسا کی عظمت و شوکت سے مرعوب ہو کر کعبہ کے بجائے اسی کنیسا میں جانے لگیں گے، اس خیال پر اس نے بہت بڑا عالیشیان کنیسا اتنا اونچا تعمیر کیا کہ اس کی بلندی پر نیچے کھڑا ہوا آدمی نظر نہیں ڈال سکتا تھا اور اس کو سونے چاندی اور جواہرات سے مرصع کیا اور پورے مملکت میں اعلان کرادیا کہ اب یمن سے کوئی کعبہ کے حج کے لئے نہ جائے اس کنیسا میں عبادت کرے، عرب میں اگرچہ بت پرستی غالب آگئی تھی اور وہ چاہے جتنے بڑے گناہگار تھے مگر دین ابراہیم اور کعبہ کی عظمت و محبت ان کے دلوں میں پیوست تھی اس لئے عدنان اور قحطان اور قریش کے قبائل میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے رات کے وقت کنیسا میں داخل ہو کر اس کو گندگی سے آلودہ کردیا اور بعض روایات میں ہے کہ ان میں سے کسی نے کنیسا کے قریب اپنی ضروریات کے لئے آگ جلائی اس کی آگ کنیسا میں لگ گئی اور اس کو سخت نقصان پہنچا، ابرہہ کو جب اس کی اطلاع ہوئی اور بتلایا گیا کہ کسی قریشی نے یہ کام کیا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ میں ان کے کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رہوں گا، ابرہہ نے اس کی تیاری شروع کی اور اپنے بادشاہ نجاشی سے اجازت مانگی اس نے اپنا خاص ہاتھی کہ جس کا نام محمود تھا ابرہہ کے لئے بھیج دیا کہ وہ اس پر سوار ہو کر کعبہ پر حملہ کرے بعض روایات میں ہے کہ یہ سب سے بڑا عظیم الشان ہاتھی تھا جس کی نظیر نہیں پائی جاتی تھی اور اس کے ساتھ آٹھ ہاتھی دوسرے بھی اس لشکر کے لئے بادشاہ حبشہ نے بھیج دیئے تھے، ہاتھیوں کی یہ تعداد بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ بیت اللہ کعبہ کے ڈھانے میں ہاتھیوں سے کام لیا جائے۔ تجویز یہ تھی کہ بیت اللہ کے ستونوں میں لوہے کی مضبوط اور طویل زنجیریں باندھ کر ان زنجیروں کو ہاتھیوں کے گلے میں باندھیں اور ان کو ہنکا دیں تو سارا بیت اللہ (معاذ اللہ) فوراً ہی زمین پر آ گرے گا، عرب میں جب اس کے حملے کی خبر پھیلی تو سارا عرب مقابلہ کے لئے تیار ہوگیا، یمن کے ایک قبیلے نے ابرہہ کے خلاف جنگ کی مگر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ ابرہہ کی شکست اور اس کی رسوائی نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے آئے اس لئے یہ لوگ کامیاب نہ ہوئے، ابرہہ نے ان کو شکست دے دی اور آگے روانہ ہوگیا اس کے بعد جب وہ قبیلہ خثعم کے مقام پر پہنچا تو اس قبیلہ کے سردار نفیل بن حبیب نے پورے قبیلہ کے ساتھ ابرہہ کا مقابلہ کیا مگر ابرہہ کے لشکر نے ان کو بھی شکست دے دی اور نفیل بن حبیب کو بھی قید کرلیا اور ان کے قتل کا ارادہ کیا مگر پھر یہ سمجھ کر ان کو زندہ رکھا ان سے ہم راستوں کا پتہ معلوم کرلیں گے، اس کے بعد جب یہ لشکر طائف کے قریب پہنچا تو طائف کے باشندے قبیلہ ثقیف پچھلے قبائل کی جنگ اور ابرہہ کی فتح کے واقعات سن چکے تھے انہوں نے اپنی خیر منانے کا فیصلہ کیا اور یہ کہ طائف میں جو ہم نے ایک عظیم الشان بت خانہ لات کے نام سے بنا رکھا ہے یہ اس کو نہ چھیڑے تو ہم اس کا مقابلہ نہ کریں، انہوں نے ابرہہ سے مل کر یہ بھی طے کرلیا کہ ہم تمہاری امداد اور رہنمائی کے لئے اپنا ایک سردار ابورغال تمہارے ساتھ بھیج دیتے ہیں، ابرہہ اس پر راضی ہو کر ابورغال کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ کے قریب ایک مقام پر پہنچ گیا جہاں قریش مکہ کے اونٹ چر رہے تھے، ابرہہ کے لشکر نے سب سے پہلے ان پر حملہ کر کے اونٹ گرفتار کر لیے جن میں دو سو اونٹ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جدا مجد عبدالمطلب رئیس قریش کے بھی تھے ابرہہ نے یہاں پہنچ کر اپنا ایک سفیر شہر مکہ میں بھیجا کہ وہ قریش کے سرداروں کے پاس جا کر اطلاع کر دے کہ ہم تم سے جنگ کے لئے نہیں آئے، ہمارا مقصد کعبہ کو ڈھانا ہے اگر تم نے اس میں رکاوٹ نہ ڈالی تو تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچے گا، قاصد جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوا تو سب نے اس کو عبد المطلب کا پتہ دیا کہ وہ سب سے بڑے سردار ہیں قاصد نے عبدالمطلب سے گفتگو کی اور ابرہہ کا پیغام پہنچا دیا، ابن اسحاق کی روایت کے مطابق عبدالمطلب نے یہ جواب دیا کہ ہم بھی ابرہہ سے جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، نہ ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ اس کا مقابلہ کرسکیں، البتہ میں یہ بتائے دیتا ہوں کہ یہ اللہ کا گھر اور اس کے خلیل ابراہیمؑ کا بنایا ہوا ہے وہ خود اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے اللہ سے جنگ کا ارادہ ہے تو جو چاہے کرے پھر دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کیا معاملہ کرتے ہیں، قاصد نے عبدالمطلب سے کہا کہ تو پھر آپ میرے ساتھ چلیں میں آپ کو ابرہہ سے ملاتا ہوں، ابرہہ نے جب عبدالمطلب کو دیکھا کہ بڑے وجیہ آدمی ہیں تو ان کو دیکھ کر اپنے تخت سے نیچے اتر کر بیٹھ گیا اور عبدالمطلب کو اپنی برابر بٹھایا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ عبدالمطلب سے پوچھے کہ وہ کس غرض سے آئے ہیں، عبدالطلب نے کہا کہ میری ضرورت تو اتنی ہے کہ میرے اونٹ جو آپ کے لشکر نے گرفتار کر لیے ہیں ان کو چھوڑ دیں، ابرہہ نے ترجمان کے ذریعہ عبدالمطلب سے کہا کہ جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے دل میں آپ کی بڑی وقعت و عزت ہوئی مگر آپ کی گفتگو نے اس کو بالکل ختم کردیا کہ آپ مجھ سے صرف اپنے دو سو اونٹوں کی بات کر رہے ہیں اور یہ معلوم ہے کہ میں آپ کا کعبہ جو آپ کا دین ہے اس کو ڈھانے کے لئے آیا ہوں اس کے متعلق آپ نے کوئی گفتگو نہیں کی، عبدالمطلب نے جواب دیا کہ اونٹوں کا مالک تو میں ہوں مجھے ان کی فکر ہوئی اور بیت اللہ کا میں مالک نہیں بلکہ اس کا مالک ایک عظیم ہستی ہے وہ اپنے گھر کی حفاظت کرنا جانتا ہے، ابرہہ نے کہا کہ تمہارا خدا اس کو میرے ہاتھ سے نہ بچا سکے گا، عبدالمطلب نے کہا کہ پھر تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو اور بعض روایات میں ہے کہ عبدالمطلب کیساتھ اور بھی قریش کے چند سردار گئے تھے اور انہوں نے ابرہہ نے کے سامنے یہ پیش کش کی کہ اگر آپ بیت اللہ پر دست اندازی نہ کریں اور لوٹ جائیں تو ہم پورے تہامہ کی ایک تہائی پیداوار آپ کو بطور خراج ادا کرتے رہیں گے مگر ابرہہ نے اس کے ماننے سے انکار کردیا، عبدالمطلب کے اونٹ ابرہہ نے واپس کردیئے وہ اپنے اونٹ لے کر واپس آئے تو بیت اللہ کے دروازے کا حلقہ پکڑ کر دعاء میں مشغول ہوئے اور قریش کی ایک بڑی جماعت ساتھ تھی سب نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں کہ ابرہہ کے عظیم لشکر کا مقابلہ ہمارے تو بس میں نہیں، آپ ہی اپنے گھر کی حفاظت کا انتظام فرما دیں، الحاح وزاری کے ساتھ دعا کرنے کے بعد عبدالمطلب مکہ مکرمہ کے کے دوسرے لوگوں کو ساتھ لے کر مختلف پہاڑوں پر پھیل گئے ان کو یہ یقین تھا کہ اس کے لشکر پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا، اسی یقین کی بنا پر انہوں نے ابرہہ سے خود اپنے اونٹوں کا مطالبہ کیا، بیت اللہ کے متعلق گفتگو کرنا اسلئے پسند نہ کیا کہ خود تو اس کے مقابلے کی طاقت نہ تھی اور دوسری طرف یہ بھی یقین رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بےبسی پر رحم فرما کر دشمن کی قوت اور اس کے عزائم کو خاک میں ملا دیں گے صبح ہوئی تو ابرہہ نے بیت اللہ پر چڑھائی کی تیاری کی اور اپنے ہاتھی محمود نامی کو آگے چلنے کے لئے تیار کیا، نفیل بن حبیب جن کو راستہ سے ابرہہ نے گرفتار کیا تھا اس وقت وہ آگے بڑھے اور ہاتھی کا کان پکڑ کر کہنے لگے تو جہاں سے آیا ہے وہیں صحیح سالم لوٹ جا، کیونکہ تو اللہ کے بلد امین (محفوظ شہر) میں ہے یہ کہہ کر اس کا کان چھوڑ دیا، ہاتھی یہ سنتے ہی بیٹھ گیا، ہاتھی بانوں نے اس کو اٹھانا اور چلانا چاہا لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا، اس کو بڑے بڑے آہنی تبروں سے مارا گیا، اس کی بھی پروانہ کی، اس کی ناک میں لوہے کا آنکڑا ڈال دیا پھر بھی وہ کھڑا نہ ہوا، اس وقت ان لوگوں نے اس کو یمن کی طرف لوٹانا چاہا تو فوراً کھڑا ہوگیا پھر شام کی طرف چلانا چاہا تو چلنے لگا پھر مشرق کی طرف چلایا تو چلنے لگا، ان سب اطراف میں چلانے کے بعد پھر اس کو مکہ مکرمہ کی طرف چلانے لگے تو پھر بیٹھ گیا، قدرت حق جل شانہ کا یہ کرشمہ تو یہاں ظاہر ہوا، دوسری طرف دریا کی طرف سے کچھ پرندوں کی قطاریں آتی دکھائی دیں جن میں سے ہر ایک کے ساتھ تین کنکریاں چنے یا مسور کی برابر تھیں ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں واقدی کی روایت میں ہے کہ پرندے عجیب طرح کے تھے جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گیے، جثہ میں کبوتر سے چھوٹے تھے ان کے پنجے سرخ تھے، ہر پنجے میں ایک کنکر اور ایک چونچ میں لئے آتے دکھائی دیتے اور فوراً ہی ابرہہ کے لشکر کے اوپر چھا گئے، یہ کنکریں جو ہر ایک کے ساتھ تھیں ان کو ابرہہ کے لشکر پر گرایا، ایک ایک کنکر نے وہ کام کیا جو ریوالور کی گولی بھی نہیں کرسکتی کہ جس پر پڑتی اس کے بدن کو چھیدتی ہوئی زمین میں گھس جاتی تھی، یہ عذاب دیکھ کر ہاتھی سب بھاگ کھڑے ہوئے، صرف ایک ہاتھی رہ گیا تھا جو اس کنکری سے ہلاک ہوا اور لشکر کے سب آدمی اس موقع پر ہلاک نہیں ہوئے بلکہ مختلف اطراف میں بھاگے ان سب کا یہ حال ہوا کہ راستہ میں مر مر کر گر گئے ابرہہ کو چونکہ سخت سزا دینا تھی یہ فوراً ہلاک نہیں ہوا مگر اس کے جسم میں ایسا زہر سرایت کر گیا کہ اس کا ایک ایک جوڑ گل سڑ کر گرنے لگا اسی حال میں اس کو واپس یمن لایا گیا، دا الحکومت صنعا، پہنچ کر اس کا سارا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بہ گیا اور مرگیا،(معارف القرآن، ابن کثیر)
یہ واقعہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت شریف سے پچاس روز پہلے ہوا، بلکہ بعض کہتے ہیں کہ خاص اسی روز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد آمد کا تھا، اور ایک غیبی اشارہ تھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی ہے، اس گھر کے سب سے مقدس متولی اور سب سے بزرگ پیغمبر کی حفاظت بھی اسی طرح کرے گا، اور عیسائی یا کسی دوسرے مذہب کو یہ موقع نہ دے گا کہ وہ کعبہ اور کعبہ کے سچے خادموں کا استیصال کر سکیں۔
یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، اس واقعہ کی بہت شہرت ہوئی اور یہ سمجھا جانے لگا کہ عنقریب کوئی شخصیت آنے والی ہے جو کعبۃ اللّٰہ سے بتوں کی گندگی کو صاف کردے گی، اور دنیا سے جہالت کی تاریکی کا خاتمہ کردے گی، اور ہر طرف انتظار تھا، بڑے چھوٹے جوان بوڑھے مرد عورت سب کو انتظار تھا، زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد انتظار میں تھے، اور انتظار کس کا؟ ایک مصلح کا، ایک راہنما کا، جو عالمگیر تاریکی کو ختم کرکے عالمگیر چراغ روشن کرے، بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور ۵۷۰ عیسوی ماہ ربیع الاوّل میں پیر کے دن عبدالمطلب کے گھرانے میں وہ شخصیت آگئی جس کا سب کو انتظار تھا، وہ بشر آگیا جو وجہِ عظمتِ بشر تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تعلق قریشِ عرب کے معزز ترین قبیلہ بنو ھاشم سے تھا، اس خاندان کی شرافت، ایمانداری اور سخاوت بہت مشہور تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور تھے مگر ان کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیدائش سے چھ ماہ پہلے ہوگیا تھا، والدہ کا نام حضرت آمنہ بنت وھب تھا جو قبیلہ بنی زھرہ کے سردار وھب بن عبدمناف بن قصی بن کلاب کی بیٹی تھیں، یعنی ان کا شجرہ ان کے شوھر عبداللہ بن عبدالمطلب کے ساتھ عبد مناف بن قصی کے ساتھ مل جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دادا عبدالمطلب قریش کے سردار تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا شجرہ نسب حضرت عدنان سے جا ملتا ہے جو حضرت اسماعیل علیہ السلام ابن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ اور مشہور ترین عربوں میں سے تھے، حضرت عدنان کی اولاد کو بنو عدنان کہا جاتا ہے۔
ولادت کے ساتویں دن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دادا عبد المطلب نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا عقیقہ کیا اور ’’محمد‘‘ نام رکھا۔ والدہ ماجدہ نے ’’احمد‘‘ نام رکھا، ولادت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی والدہ ماجدہ نے سات روز دودھ پلایا، پھر سات دن ثویبہ نے دودھ پلایا ثویبہ کے بعد حلیمہ سعدیہؓ نے دو برس دودھ پلایا، اُس زمانے میں قاعدہ یہ تھا کہ عرب کے شریف گھرانوں کے بچے دیہات میں پرورش پاتے تھے، مکہ کے شریفوں میں یہ دستورچلاآرہا تھا کہ بچوں کی پرورش کے لئے آس پاس کے دیہاتوں میں بھیج دیا کرتے تھے تاکہ بچے وہاں کی صاف ستھری ہوا میں پرورش پاکر تندرست وتوانا ہوجائیں، نیز وہاں وہ خالص عربی زبان سیکھ جائیں، اصل میں مکہ ایک مرکزی شہر تھا، جہاں ہر خطے کے لوگ آتے جاتے رہتے تھے، جن کے اختلاط سے زبان بھی خالص نہیں رہ پاتی تھی، عرب میں پڑھنے لکھنے کا رواج بہت کم تھا، مگر وہ زبان پر خاص توجہ دیتے تھے، یہاں شاعری اور سخنوری کاچرچا رہتا تھا اور گاؤں والوں کی زبان زیادہ مستند سمجھتی جاتی تھی، اسی غرض سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پرورش کے لئے ایک صحرائی خاتون حضرت حلیمہ سعدیہ کے حوالے کیاگیا، جن کا تعلق قبیلہ بنی سعد سے تھا، حضرت حلیمہ سعدیہ ان عورتوں میں شامل تھیں، جو مکہ معظمہ، شرفاء کے بچے پرورش کے لئے حاصل کرنے کی غرض سے آئی تھیں، سیرۃ النبی کے مطابق یہ واقعہ خود حضرت حلیمہ نے یوں بیان کیاہے کہ میں اپنے قبیلہ کی کچھ عورتوں کے ساتھ دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں نکلی، یہ زمانہ قحط کا تھا اورہمارے پاس کچھ نہ تھا ایک بھورے رنگ کی گدھی پر سوار ہوکرنکلی اور ایک اونٹنی بھی ساتھ تھی، جس سے دودھ کا ایک قطرہ بھی نہ نکلتاتھا، ہمارا شیر خواربچہ بھوک کے سبب ساری ساری رات روتا تھا اورہم سونہ سکتے تھے، میری چھاتی میں اتنادودھ نہ تھا کہ اپنے بچے کو پلاؤں اور نہ ہی ہماری اونٹنی کے پاس کچھ تھا میں جس سواری پر نکلی، وہ تھک گئی اور میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئی اور سب کے بعد مکہ پہنچی، حضرت حلیمہ سعدیہ کا بیان ہے کہ کوئی عورت ایسی نہ تھی، جس پر ننھے محمد صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش نہ کیا گیا ہو، مگر کسی نے بھی آپؐ کو نہ لیا، کیونکہ ہمیں لڑکے کے باپ سے بھلائی کی امید رہتی تھی اور اسی سے انعام کی توقع رکھتے تھے، جب باپ نہ ہوتو دادا اور ماں سے کیا امید؟ حضرت حلیمہ کا بیان ہے کہ جب کوئی بچہ نہ ملا، تو آپ کو لے لیا، اور اسی وقت سے حضرت حلیمہ کے حالات بدل گئے، حضرت حلیمہ سعدیہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے مجھے بار بار فیضیاب ہونے کا موقع ملا، جب میں آپ کو گود میں لے کر اپنی سواری پر بیٹھی‘ تو میری حیرت کا ٹھکانہ نہ رہا کہ میرے پستان دودھ سے بھر گئے اور آپ نے خوب سیر ہوکردودھ پیا ۔ اسی کے ساتھ آپ کے رضا عی بھائی نے بھی خوب خوب دودھ پیا اور پھر دونوں سوگئے۔ میرے شوہر بوڑھی اونٹنی کی طرف گئے‘ توکیا دیکھتے ہیں کہ اس کے تھن بھی دودھ سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہم دونوں میاں بیوی نے خوب جی بھر کر اونٹنی کا دودھ پیا اوررات بھر آرا م سے سوئے۔ صبح کے وقت میرے شوہرنے کہاکہ حلیمہ! خدا کی قسم خوب سمجھ لے کہ تونے ایک مبارک ذات کو پایا ہے، میں نے جواب دیا، خدا کی قسم مجھے یہی امید تھی، حضرت حلیمہ کا بیان ہے کہ جب ہم مکہ سے اپنے گاؤں کی طرف سواری پر سوار ہوکر واپس جارہے تھے، تو اس میں اتنی طاقت آگئی کہ پورے قافلے سے آگے نکل گئی، ساتھی عورتیں پوچھنے لگیں کہ حلیمہ! کیا یہ تیری وہ سواری نہیں، جو مکہ آتے ہوئے تھی؟ آخر اسے کیاہوگیاکہ اتنی تیز چلنے لگی؟ یہ حقیقت ہے جب سواری کے سوار بدلتے ہیں تو سواریوں کے انداز بھی بدل جاتے ہیں، حضرت حلیمہ کے مطابق ان کا گاؤں بہت زیادہ قحط زدہ تھا، مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواپنے ساتھ لائیں، تویہاں حالات ہی بدل گئے، وہ کہتی ہیں میری بکریاں چرنے جاتیں، تو خوب چرکر آتیں اور خوب دودھ دیتیں، حالانکہ دوسروں کی بکریوں کے تھنوں سے قحط کے سبب ایک قطرہ دودھ نہ نکلتا، پڑوسی اپنے چرواہوں سے کہتے کہ جہاں حلیمہ کی بکریاں چرتی ہیں وہیں تم بھی اپنی بکریوں کو چراؤ، حضرت حلیمہ کے مطابق وہ دوسال تک یونہی آپ کی برکات سے مالا مال ہوتی رہیں اور آپ تندرست وتوانا ہوگئے، دوسرے بچے اس قدر تندرست نہ تھے، دو سال کے بعد آپ کو واپس مکہ لے کرآئیں، تو والدہ ماجدہ حضرت آمنہ نے اپنی حیثیت کے مطابق انعام واکرام سے حضرت حلیمہ کو نوازا، حضرت حلیمہ آپ کی برکات کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں لہٰذا دوبارہ اپنے ساتھ واپس لیتی آئیں، چار برس آپ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت حلیمہ کے گھر رہے پھر آپ کو بی بی حلیمہ والدہ ماجدہ کے پاس مکہ پہنچا گئیں، پھر ماں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پرورش کی، آپ کی عمر ابھی۶؍برس کی تھی کہ آپ کی والدہ ماجدہ کا مقامِ ابوا میں ۳۰؍سال کی عمرمیں انتقال ہوگیا،والد ماجد عبد اللہ کا انتقال جب آپ ماں کے پیٹ ہی میں تھے تو ۲۵؍ سال کی عمر میں مدینہ میں ہوچکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دادا عبد المطلب ذمہ دار تھے، بڑی شفقت ومحبت سے دادا عبد المطلب نے دو برس آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پرورش کی جب آٹھ سال کے ہوئے تو عبدالمطلب بھی انتقال کرگئے انتقال کے وقت عبدالمطلب نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے سب سے ہونہار بیٹے ابوطالب کے سپردکیا۔ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی اولادسے زیادہ عزیز رکھا ، اور ہر طرح سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا خیال رکھا۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم ذہین، سمجھ دار،نیک طبیعت، صابر اور خود دار تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اندر سنجیدگی اور متانت اور بردباری پائی جاتی تھی، سچائی،امانت داری، ادب، تعظیم، تہذیب،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طبیعت میں داخل تھی،کھیل کود کی طرف بالکل توجہ نہ تھی، شرم وحیا کی یہ حالت تھی کہ کبھی آپ کا ستر نہیں کھل سکتا تھا، کھانا کھانے کے وقت بچے شور وشغب کیا کرتے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم خاموشی سے بیٹھے رہتے، جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا ابو طالب بلاتے اس وقت آپ دسترخوان پر تشریف لاکر کھانا کھاتے، جیسا کھانا ہوتا اس پر کبھی ناک نہ چڑھاتے، جب سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سمجھ دار ہوئے، اُسی وقت سے بازو سے کماکر زندگی بسر کرنے کا شوق تھا، کسی دوسرے پر اپنا بوجھ ڈالنا ہرگز گوارہ نہ ہوتا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ملک شام کا دو مرتبہ سفر کیا، پہلا سفر۱۲؍ برس کی عمر میں جب کہ آپ کے چچا ابو طالب بغرض تجارت ملک شام جارہے تھے، اور دوسرا سفر بغرضِ تجارت ۲۵؍سال کی عمر میں کیا جب کہ بی بی خدیجہؓ نے اپنے تجارتی قافلہ کا منیجر بنا کر بھیجا تھا دونوں سفروں میں عیسائی قریش میں خدیجہ نام کی ایک دولت مند بی بی تھیں، اُن کے پہلے شوہر کا انتقال ہوگیاتھا، اور اب وہ بیوہ تھیں ، وہ اپنا سامان دوسروں کو دے کر اِدھر اُدھر بھیجا کرتی تھیں ، اُنہوں نے ہمارے حضرت کی ایمان داری اور سچائی کی تعریف سنی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بلوا کر کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم میراسامان لے کر تجارت کیجیے، میں جتنا نفع دوسروں کو دیتی ہوں اُس سے زیادہ آپ کو دوں گی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم راضی ہوگئے اور ان کا سامان لے کر ملک شام گئے۔ بی بی خدیجہؓ نے اپنے غلام میسرہ کو بھی آپ کے ساتھ کردیا، اس تجارت میں خاصہ نفع ہوا، واپس آئے تو بی بی خدیجہؓ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کام سے بہت خوش ہوئیں ، سفر سے واپس آئے، تین مہینے گزرے تھے کہ بی بی خدیجہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر پچیس(۲۵)برس اور بی بی خدیجہؓ کی چالیس(۴۰)برس تھی، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خوشی سے اُس پیغام کو قبول کر لیا، اور چند روز کے بعد نہایت سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ یہ تقریب انجام پاگئی، پچیس برس آں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے نکاح میں رہیں، سب سے پہلے ایمان لائیں ، ۶۵؍برس کی عمر میں شوال ۱۰؍نبوی میں فوت ہو کر مقام حجون میں مدفون ہوئیں، جب تک زندہ رہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی دوسری شادی نہیں کی، آں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تمام اولاد حضرت خدیجہ ؓ سے ہیں، ایک صاحبزادہ کے علاوہ۔
مکی زندگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی شناخت تھی آپ کی صاف ستھری اور پاکیزہ زندگی ۔ مکی زندگی میں نبوت و رسالت سے سرفراز ہونے سے پہلے اور بعد کے زمانہ میں آپ کی شناخت آپ کی صداقت و امانت، شرافت و پاکیزگی ، تواضع و انکساری اور تقوی و پاکبازی تھی؛ مکہ کا ہر باشندہ آپ کی شرافت و پاکیزگی اور اعلی اخلاق کا قائل تھا۔ آپ کو عام طور پر صادق اور امین کہا جاتا تھا۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت حجرِ اسود کو اس کے مقام تک اٹھا کر رکھنے میں قریش کے اندر جو سخت اختلاف پیدا ہوا اور جس کی وجہ سے خوںریز جنگ چھڑنے والی تھی ، وہ آپ کی جوانی کا زمانہ تھا، لیکن قریش کے سرداروں اور بڑے بوڑھوں کو جب یہ ہاشمی نوجوان دکھائی پڑا تو سب نے بیک آواز ہو کر کہا: ھَذا مُحَمَّدُن الأَمِیْنُ رَضِیْنَا ھَذا مُحَمَّدُن الأمِیْنُ (یعنی یہ محمد امین شخص ہیں، ہم ان سے خوش ہیں، یہ امین ہیں)۔اور سب نے اس نوجوان کے حکیمانہ فیصلے کو بخوشی قبول کیا اور اس طرح ایک خون ریز جنگ چھڑتے چھڑتے رہ گئی۔ (سیرۃ المصطفیٰ: ۱ /۱۱۶، بحوالہ سیرت ابن ہشام)
آپ کی امانت و دیانت کا عالم تھا کہ مکہ کے بڑے بڑے تاجر خواہش مند ہوتے تھے کہ آپ ان کے تجارتی سامان لے کر شام و یمن وغیرہ کی عالمی منڈیوں میں جائیں تاکہ آپ کے ذریعہ ان کی تجارت کو فروغ حاصل ہو۔
نبوت و رسالت سے سرفراز ہونے کے بعد بھی مکہ کے وہ لوگ جو آپ کی دعوتِ اسلام کو نہیں مانتے تھے، وہ بھی آپ کے پاس اپنی امانتیں بغرض حفاظت رکھ جاتے تھے؛ انھیں اس بات کا اطمینان تھا کہ ان کی امانت اس امین کے علاوہ کسی اور کے ہاتھوں میں اتنی محفوظ نہیں ہے۔
یہ مختصر واقعات ہیں نبی آخرالزماں محمد عربی ﷺ کی بعثت سے پہلے کے، اللہ رب العزت نبی کریم ﷺ کی سچی پکی محبت ہمارے دلوں میں پیدا فرمائے اور اس محبت کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
Tags
islamijankari220
