معاملات کی صفائی islami jankari220

 معاملات کی صفائی 




الحمد ﷲ رب العالمین وبہ ٖ نستعین والصلوٰۃ والسلام علی سیدنا محمد شمس الھدایۃ والیقین وعلیٰ آلہِ وصحبہٖ اجمعین اما بعد،فاعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم ، بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃ’‘ حَسَنَۃ’‘ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا (سورۃاحزاب :۲۱) صدق اﷲ العظیم


حقوق العباد اور اسوہ ٔ نبوی 

حضورﷺکی عمر مبارک جب ۶۳سال ہو گئی تو اﷲ کی طرف سے آپ کو اپنے دربار میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا، صفر کا مہینہ تھاجب آپ بیما ر ہوئے، بیماری دن بدن بڑھتی چلی گئی، حضورﷺ بخار کی شدت کی وجہ سے اتنے کمزورہوگئے کہ بغیر سہارے کے مسجد میں تشریف نہیں لا پاتے تھے، حدیث شریف میں ہے کہ آپ کو دو صحابہ سہارادے کر لاتے تھے، بیماری کے آخری دنوں میں آپ ﷺ دو صحابہ کے سہارے مسجد میں تشریف لائے ،سر میں درد کی اتنی شدت تھی کہ سر پرایک پٹی بندھی ہوئی تھی، اس روز آپ نے مختصر خطبہ دیا اور کہا کہ اب دنیا سے میرے رخصت ہونے کاوقت قریب ہے۔تم میں سے اگر میرے اوپر کسی کا کوئی حق ہو یا میری ذات سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچی ہوتو وہ آکر مجھ سے بدلہ لے لے ، آخرت کے لئے اسے بچا کر نہ رکھے۔

 آپ سونچئے کہ جس ذات نے ساری زندگی نہ کسی کو تکلیف دی نہ کبھی کسی سے بدلہ لیا، آج وہی عظیم ذات یہ کہہ رہی ہے کہ اگر کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ آکر مجھ سے بدلہ لے لے ۔ظاہر ہے کہ حضور ﷺ نے ایسی مبارک زندگی گذاری تھی کہ آ پ کے ذمہ کسی کاکوئی حق باقی رہنے کاسوال ہی نہیںتھا، آپ تو خود لوگوںکونوازتے تھے اور ان کی ضروریات پوری کرتے تھے، اس کے باوجود آپ نے یہ اعلان فرمایا، اس اعلان کے تھوڑے ہی عرصے بعدآپ ﷺ کا وصال ہو گیا۔

وارثین کے لیے اہل بیت کا عملی نمونہ

 عظیم مورخ اور سیرت نگار ابن سعد نے اپنی مشہور کتاب ’’الطبقات الکبری‘‘ (یہ کتاب بعدمیں انگلینڈ سے شائع ہوئی)میں لکھا ہے کہ آپﷺ کے وصال کے بعدجب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے توانہوں نے یہ اعلان کیا کہ اگر حضور ﷺ پر کسی کا کوئی حق ہو تو وہ مجھ سے آ کر لے جائے،پھر حضرت علی ؓ نے یہ اعلان کروایا کہ اگر کسی کا کوئی حق حضور ﷺپر ہو تو وہ مجھ سے آکر لے جائے، چنانچہ ہر سال حج کے موقع پر جمرہ عقبیٰ پر ایک منادی اعلان کرتاکہ حضورﷺ پر جس کا کوئی حق باقی ہو وہ حضرت علی ؓ سے وصول کرلے ۔ ساری زندگی حضرت علیؓ یہ اعلان کرواتے رہے، پھر آپ کے بعد حضرت حسن ؓ، اور حضرت حسین ؓ نے یہ کام کیا۔ حضورﷺ کے وصال کے تقریباً چالیس سال بعد تک خاندان نبوت کے افراد یہ اعلان کرتے رہے۔ آپ سونچئے کہ حقوق کی ادائیگی کا ایسا نمونہ اور کہیں مل سکتا ہے ؟آپ تصور کیجئے کہ معاملات کی صفائی کااس سے بڑھ کر اہتمام کیاہو گا؟ ایک توخود آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں معاملات کو صاف رکھا،او ر زندگی کے آخر میں اعلان فرمایا،پھر آپ کے بعد آپ کے اہل بیت ایک طویل مدت تک یہی اعلان کرتے رہے۔طبقات کبریٰ میں یہ بھی لکھا ہواہے کہ اگرکوئی شخص جھوٹا دعویٰ لے کرآتاتب بھی اہل بیت کی طرف سے مطلوبہ رقم ادا کر دی جاتی۔

اس امت کا مفلس کون؟

  قرآن کریم میں ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃ’‘ حَسَنَۃ’‘ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا.(سورہ احزاب) رسو ل اللہ ﷺ کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے۔یہ نمونہ صرف نماز روزے اورحج میں نہیں بلکہ معاملات کی صفائی میں بھی ہے، ہم غور کریں کہ معاملات کو درست رکھنے کاہمیں کتناخیال ہے؟ آپ ﷺ نے عبادات سے زیادہ معاملات کی صفائی کو اہمیت دی اور یہاں تک فرمایا کہ عبادات کی کمی کوتاہی کو اﷲ اگر چاہے گاتو معاف کر د ے گا، لیکن معاملات کی کوتاہی اس وقت تک معاف نہیں ہو گی، جب تک کہ حق والا معاف نہ کر دے۔حضور ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ نے کہا ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ کوئی سازوسامان ،آپ نے فرمایا میری امت کا مفلس و ہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز ،روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن دنیا میں اس نے کسی کوگالی دی ہو گی، کسی پر بہتان لگایا ہو گا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا،اور کسی کوماراہوگا۔ تو اس کے ظلم کے بقدر نیکیاںمظلوم کو دلادی جائیں گی، پھر جب نیکیوں سے بھی ہاتھ خالی ہوجائے گا تو مظلوم کے گناہ اس (ظالم) پر لاد دئیے جائیں گے،پھر اس کو جہنم میں پھینک دیاجائے گا،( اور اس طرح انصاف کا تقاضا پورا کیاجائے گا۔)(صحیح مسلم)

زمین غصب کرنے کاگناہ

معاملات کی صفائی ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے،ہم غورکریں ہمارے اوپر کسی کاقرض تو نہیں ،ہم پر کسی کا کوئی حق باقی تو نہیں ،ہمارے ذریعے کسی کو کوئی تکلیف تو نہیں پہونچ رہی ہے، ہماری عادتوں کی وجہ سے کسی کادل تو نہیں دکھ رہا ہے، ہم کسی کی زمین پر ناجائز طریقے سے قابض تو نہیں ہیں؟حضورﷺ نے فرمایاکہ اگر کسی نے کسی انسان کا ایک درہم ناجائز طریقے پر لے لیاتو کل قیامت کے دن اس کے بدلے میں سات سو مقبول نمازیں دینی ہوںگی اور اگرکسی کی ایک بالشت زمین دبا لی توساتوں زمینوںکاطوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔

خیانت کاانجام

حضور ﷺ ایک سفر میں تھے ، ایک شخص آپ کے ساتھ تھے،وہ سفر میں آپ کی خدمت کیا کرتے تھے، جب آپ ﷺ اونٹ پر چڑھتے تووہ سہارا دیتے تھے،آپ ﷺ دشمنوں سے مقابلے کے لیے جارہے تھے کسی دشمن نے تا ک کر تیر چلایا ، جو ان کی گردن میں آ کر لگا،اوران کا انتقال ہوگیا،صحابہ نے کہا کہ اس شخص کو کتنی بڑی سعادت نصیب ہوئی اور شہادت کا بلند مقام ملا ! آنحضرتﷺ نے سنا تو فرمایا: ایسا مت کہو،اس لیے کہ اس نے مال غنیمت میں سے ایک چادر بغیر اجازت کے رکھ لی تھی۔ جس کی وجہ سے اس کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ایک موقع پرآپ ﷺ نے کہا کہ کوئی شخص اگرشہید ہو گیا لیکن اس نے ناجائز طریقے پر مال غنیمت سے کوئی چیز لے لی ہو توقیامت کے دن وہ چیز لائی جائے گی،اور اس سے کہا جائے گا کہ چوں کہ تو شہید ہے اس لیے تیرا ٹھکانہ جنت ہے، لیکن تو نے یہ چیزبغیر اجازت کے مال غنیمت میں سے لے لی تھی ،اس لیے یہ چیز دوزخ میں پھینک دی جاتی ہے، اب تو اس کو دوزخ سے لے کر آ اور جنت میں چلا جا،وہ شخص جہنم کی تہہ میں جا کر وہ چیز اٹھا کر لائے گا لیکن جب جہنم کے منہ پر پہنچے گا تو وہ چیز اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر پھر جہنم میںگرجائے گی،پھر وہ اس کولینے کے لیے جہنم میں جائے گا، اورجب جہنم کے منہ پر پہنچے گا تو وہ چیز اس کے ہاتھ سے دوبارہ چھوٹ کرپھر جہنم میںگرجائے گی۔آپ تصور کیجئے کہ ایک آدمی شہید ہوگیا،لیکن اس کے اوپر کسی کاکوئی حق باقی ہے تو اﷲ کے رسولﷺ نے اس کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی۔

قرآن کریم میںہے: وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃ. ’’اور کسی نبی سے یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے اور جوکوئی خیانت کرے گاوہ قیامت کے دن و ہ لے آئے گا جو اس نے خیانت کرکے لی ہو گی‘‘۔(آل عمران :۱۶۱) آپﷺنے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک شخص آئے گا جس نے ایک اونٹ خیانت کے طور پر رکھ لیا ہو، وہ اس حال میں آئے گا کہ وہ اونٹ اس کی پیٹھ پر سوار ہو گا، اور چیخ رہاہوگا،کسی شخص نے خیانت کے طور پر کوئی بکری اپنے پاس رکھ لی ہوگی تو وہ بکری اس کے اوپر سوار ہو گی اور چلا رہی ہو گی،سارے لوگ اسے دیکھیں گے اور کہیں گے کہ اس شخص نے دنیا میںاس چیز میںخیانت کی تھی۔ حضو رﷺ فرماتے ہیں کہ وہ میرے پاس آ کر کہے گا : اے اﷲکے رسول! میری مدد کیجئے اور میری سفارش کر دیجئے تو میں اس سے کہوں گا کہ میں ہرگز تیری سفارش نہیں کروں گا، اس لیے کہ دنیا میں میں نے تجھ کو بتادیاتھا کہ یہ برا کام ہے۔ہم بھی کوشش کریں کہ کوئی ایک چیز بھی ایسی نہ ہو جو ہمارے ذمہ باقی رہ جائے۔اگر کسی کا کوئی حق ہمارے ذمہ باقی ہو توہم اسے اداکریں یا اس حق والے سے مل کر معاف کروالیں،جا کر کہہ دیں کہ غلطی سے آپ کی یہ چیز میرے پاس رہ گئی تھی آپ اسے واپس رکھ لیں، یاد رکھئے دنیا کی یہ شرمندگی اور ذلت آخرت کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور معاملات کی صفائی

صحابہ کی جماعت میںسب سے اونچے درجے پر حضرت ابو بکرصدیق ؓ ہیں، ان کے بے شمار فضائل ہیں،جب ان کے انتقال کاوقت قریب ہوا تو معیقیب دوسی رضی اللہ عنہ (جو ان کے گھر کا سودا سلف لاتے تھے،)سے کہا کہ اب میرے دنیا سے جانے کا وقت ہو گیاہے، میرے ذمے تمہارا کوئی حق باقی تو نہیں ہے؟انہوں نے کہا کہ آپ نے ساراحق چکا دیا ہے،سوائے ایک درہم کے ، اسے میں اﷲ کے لیے چھوڑتاہوں، حضرت ابو بکرؓ نے کہا کہ مجھ سے وہ بھی لے لو،میں اپنے آخرت کے توشے کو قرض کے بوجھ سے بوجھل نہیں کرناچاہتا،پھر آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ان کاقرض اداکر دیاجائے۔ پھر حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ آنحضرتﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیاتھا؟ انہوں نے بتایا کہ تین کپڑوں میں ،آپ نے کہا کہ دو چادریں میرے جسم پر ہیں بازار سے ایک اورچادر منگوا کر مجھے کفن دے دینا، حضرت عائشہؓ رونے لگیں اور کہا ابا جان ! ہم تین نئی چادریں بازار سے منگواسکتے ہیں، حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا:نیا کپڑازندوںکو زیب دیتاہے، قبر کی مٹی اور کیڑے مکوڑوں کے لیے پرانا کپڑا ہی زیادہ بہترہے۔

حضرت عمر ؓ کی آخری خواہش

حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے ، اسی وقت ایک ظالم انسان ابو لؤلؤ فیروز مجوسی نے آپ رضی اللہ عنہ پر خنجر سے وار کیا اورچھ زخم لگائے۔ حضرت عمر ؓ مصلے پر گر پڑے اور خون بہنا شروع ہوگیا، آپ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کا ہاتھ پکڑ کر آگے کیا تاکہ وہ نماز مکمل کریں۔ نماز کے بعد آپ کو گھرلے جایا گیا، آپ کا پیٹ پھٹ چکا تھا، کوئی بھی چیز آپؓ کو کھلائی جاتی تو وہ باہر نکل جاتی تھی ۔ لوگوں نے بھی اندازہ کرلیاتھا کہ اب حضرت عمر ؓ جانبر نہ ہوسکیں گے ۔ پھر آپ نے وصیت فرمائی کہ مجھے حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ دفن کرنا، لیکن اس سے پہلے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ سے کہا : پہلے جاکر حضرت عائشہ سے اجازت طلب کروکہ میری زندگی کی آخری خواہش ہے کہ میں اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جاؤں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓنے حضرت عائشہ ؓ سے اجازت طلب کی اور کہا کہ وہ آپ کا حجرہ ہے ،اگر آپ اجازت دیں تو حضرت عمر کو اس جگہ دفن کیا جائے ورنہ مسلمانوں کے عام قبرستان میں دفن کیا جائے۔حضرت عائشہؓ(جو حضرت عمر ؓ پر حملے کی خبر سن کر رو رہی تھیں) نے فرمایا: یہ جگہ میں نے اپنی قبر کے لئے رکھی تھی لیکن حضرت عمر ؓ کی شان ایسی ہے کہ ان کی بات ٹالی نہیں جاسکتی ۔ اس لئے میں انہیں اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں ۔ حضرت عبداللہؓ نے آکر اجازت کی خبر دی تو حضرت عمر ؓ نے بڑی باریک بات ارشادفرمائی،کہا: بیٹا! ممکن ہے کہ میرے اثرورسوخ کی وجہ سے دبائو میں آکر حضرت عائشہؓ نے اجازت دی ہو ، اس لئے میرے انتقال کے بعد دوبارہ اجازت طلب کر کے مجھے وہاں دفنانا، ورنہ عام مسلمانوں کے قبرستان میں میری تدفین کرنا۔

اسے کہتے ہیں حسن معاشرت اور ایسا ہونا چاہئے حقوق کی ادائیگی کا مزاج! مرتے دم تک کوشش ہو کہ کسی حقدار کا حق ضائع نہ ہو اور کسی کے اوپر کسی طرح کا ظلم نہ ہو۔آپ سونچئے کہ معاملات کی صفائی کا کیسااہتمام ہے ،حضورﷺ نے اپنے صحابہ کی جو تربیت فرمائی تھی یہ اس کا اثر تھا کہ صحابہ صرف عبادات میں ممتاز نہیں تھے ، بلکہ معاملات کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھتے تھے۔

ہماراحال

آج ہم اپنی زندگی پر غور کریں کہ معاملات کی صفائی کے سلسلے میں ہمارے اندر کتنی خامیاں ہیں، ہم لوگ معاملات کو تو دین کاحصہ ہی نہیں سمجھتے،اچھے خاصے دین دار اور عبادت گذار لوگ معاملات کی صفائی کاخیال نہیںکرتے،دوسروں سے مال لے لیاجاتاہے لیکن واپس کرنے کی فکر نہیں کی جاتی،کتنے لوگ ایسے ہیں جو والد کے انتقال کے بعد اپنی بہنوں اور اپنے کمزور بھائیوںکووراثت میں حصہ نہیں دیتے ، یہ بہت بڑا گناہ ہے اور قیامت کے دن اس کی بہت بڑی سزا ہے۔یاد رکھئے کہ اگر اﷲ کے لیے ہم نے اپناحق چھوڑدیا یا کسی حق دار کو زیادہ دے دیا تو ا ﷲ ہمیں محروم نہیں کرے گا، بلکہ اورزیادہ عطا کرے گا۔

مشتبہ مال سے بچنے کی برکت

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے والد کا جب انتقال ہوا تو ان کے ترکہ میں کچھ ایسا مال بھی تھا جومشکوک تھا، حضر ت حکیم الامت ؒ نے اپنے شیخ حاجی امداداللہ مہاجر مکی ؒ کو خط لکھا کہ حضرت میرے والد صاحب کی وراثت کا جو مال مجھ کو مل رہاہے اس میں سے کچھ مال مجھے مشکوک معلوم ہوتا ہے،اب اگر میں اس مال کو لے لوں تومشکوک مال لینا ہوگا، اور اگر چھوڑ دوں تواندیشہ ہے کہ میں فقروفاقے کاشکا ر ہو جاؤں گا۔ حضرت حاجی صاحب ؒ نے جواب دیا کہ جو مشکوک مال ہے تم اسے چھوڑ دو، اگرتم اﷲ کے لیے اس مال کوچھوڑ دو گے تواﷲ کبھی بھی تمہیں فقروفاقہ میں مبتلا نہیں ہونے دے گا۔حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کہتے ہیں کہ میں نے وہ مال چھوڑ دیا اور پھر واقعی اس مال کو چھوڑ دینے اورحضر ت کی توجہ کی برکت سے اﷲ نے مجھے بہت نوازا آج آپ دیکھ لیجئے کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ ایک ہزارکتابوں کے مصنف ہیں، ان کے خاندان کے جن افراد میں وراثت تقسیم کی گئی تھی آج آپ کوان میں سے کسی کا نام معلوم نہیں ہوگا لیکن مولانا اشرف علی تھانوی کانام پوری دنیا میں پہنچا۔ ان کی کتابیں دنیا بھرمیں عام ہیںاو ر آج تک ان سے استفادہ کیا جارہا ہے۔

نیکی اور پرہیزگاری کا انعام

خلفائے راشدین کے بعدجب بنوامیہ کا دور آیاتو ایک بہت بوڑھے شخص سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے جوسب سے حیرت انگیز چیز دیکھی ہو وہ بتایئے،اس نے کہا کہ میں نے کئی بادشاہوںکادوردیکھا ہے،اورحضرت عمر ابن عبدالعزیز ؒ کادور بھی دیکھا ہے۔جب بنوامیہ کے بادشاہ ہشام بن عبدالملک کا انتقال ہواتو اس کی وراثت میں اتنا مال تھا کہ اس کے ایک ایک بیٹے کو ایک ایک لاکھ دینار ملے۔دینار سونے کا ہوتا ہے، آپ تصور کیجئے کہ کتنی دولت ہو گی۔جب خلیفہ حضرت عمرابن عبدالعزیزؒ کا انتقال ہوا ، تو انہوںنے اپنے ترکے میںبارہ دینارچھوڑے،جس میں سے کچھ دینار کفن دفن میں خرچ ہوئے،جب ان کے بچوں میں ان کا ترکہ تقسیم کیا گیا تو ہر ایک کے حصے میں ۱۹؍درہم آئے۔درہم چاندی کا ہوتا ہے، جس کی قیمت دینارکے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔اب وہ بوڑھا کہتا ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ہشام ابن عبدالملک کے بیٹوں کو لوگ صدقہ دیتے تھے،اور حضرت عمر ابن عبدالعزیزؒکے ایک ایک بیٹے ایک ایک دن میں سو سو گھوڑے اﷲ کے راستے میں صدقہ کرتے تھے،نیکی اوربرائی کاانجام یہ ہوتاہے۔ جن لوگوں کو بہت کم مال ملا اﷲ نے ان کو برکت سے نوازا اور جن لوگوں کوایک ایک لاکھ دینا ر ملا وہ فقیر و محتاج ہوگئے۔یہ دراصل معاملات کی صفائی اور دین داری وپرہیز گاری کا نتیجہ تھا۔اﷲ رب العزت ہم سب کو معاملات کی صفائی کی توفیق عطا فرمائے۔

Arhan Arsalan Khan 

और नया पुराने