ماہ رجب فضائل و خرافات:

ماہ رجب فضائل و خرافات:

 

Islamijankari220 

  نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، امابعد: 

اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْہَاۤ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ۬ۙ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ۔ (التوبہ: ۳۶) 

ترجمہ: بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے، جو اللہ کے فیصلہ کے مطابق اسی دن سے ہے، جس دن کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا، ان میں سے چار مہینے خاص ادب کے ہیں ، یہی درست حساب ہے، تو تم ان مہینوں کے سلسلہ میں اپنے آپ پر زیادتی نہ کرو، اور تمام مشرکین سے جنگ کرو، جیساکہ وہ تم سبھوں سے جنگ کرتے ہیں اور جان لو کہ اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔


إنَّ الزَّمانَ قدِ استدارَ كهيئتِهِ يومَ خلقَ اللَّهُ السَّمواتِ والأرضَ، السَّنةُ اثنا عشرَ شهرًا، منها أربعَةٌ حُرُمٌ، ثلاثٌ متوالِياتٌ: ذو القِعدةِ ، وذو الحجَّةِ، والمحرَّمُ، ورجَبُ مضرَ الَّذي بينَ جُمادى وشعبانَ۔ (بخاری: ۴۶۶۲) 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے خطبے میں) فرمایا کہ دیکھو زمانہ پھر اپنی پہلی اسی ہیئت پر آ گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں، تین تو لگاتار یعنی ذی قعدہ، ذی الحجۃ اور محرم اور چوتھا رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے۔ 


تمہید


اللہ رب العزت نے اس کائنات کو پیدا فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا فرمایا، پھر اشرف المخلوقات انسان کو پیدا فرمایا، انسان کو پیدا فرمانے کے بعد اسے یوں ہی چھوڑ نہیں دیا، بلکہ انسان کی ضرورت کی ہر چیز پیدا فرمائی، ہر چیز کے خزانے انسان کو دیے، یہ زمین بہت قیمتی چیز ہے، اس زمین میں انسان کی ضرورت کے سارے خزانے ہیں، غلہ یہیں سے نکل رہا ہے، پانی یہیں سے نکل رہا ہے، کھانے کا خزانہ یہیں سے نکل رہا ہے، سونے چاندی کا خزانہ یہیں سے نکل رہا ہے، ساری دھاتوں کا خزانہ یہیں سے نکل رہا ہے، پٹرول ڈیزل کا خزانہ یہیں سے نکل رہا ہے، یہاں تک کہ اس میں موت و حیات کا بھی خزانہ ہے، اسی سے انسان پیدا ہوتا ہے، اور اسی میں مر کھپ جاتا ہے، بہرحال فطری طور پر انسان کو جس چیز کی ضرورت ہوسکتی تھی وہ سب عطا فرمائی۔

جن چیزوں کی فطری طور پر انسان کو ضرورت ہوتی ہے ان میں سے ایک وقت کا حساب ہے، کہ انسان وقت کا صحیح اندازہ لگاسکتے وقت پتہ کرسکے، انسان کی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی، بدلتی رہتی ہے، پہلے بچپنہ ہے پھر کچھ بڑا ہوا، پھر جوانی، پھر ادھیڑ عمر، پھر بڑھاپا، پھر ایک وقت وہ آیا کہ وہ انسان دنیا سے چلا گیا، اور انسان کا تعلق صرف اپنی زندگی سے ہی نہیں ہوتا، بلکہ اپنے رشتہ داروں سے بھی ہوتا ہے والدین ہیں دادا دادی نانا نانی وغیرہ، دینی اعتبار سے دیکھیں تو انبیاء اور رسولوں سے ہوتا ہے، اور یہ انبیاء اور رسول اس کے زمانے میں نہیں آئے، بلکہ پہلے گزر چکے ہیں، تو انسان کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ وہ پیدا کب ہوا، بچپنہ کب گزرا، کب وہ جوان ہوا، کب بوڑھا ہوا، اس کے والدین اور دادا دادی نانا نانی کی حیات و وفات کا زمانہ کیا ہے، اس کے آباؤ اجداد کس زمانے کے تھے، ہمارے نبی کریمﷺ کا تعلق کس زمانے سے تھا، دیگر انبیاء اور رسول کب تشریف لائے تھے، یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جن کا تعلق وقت سے ہے، انسان کو جب وقت کا نظام پتہ ہوگا، تو وہ سمجھ پائے گا کہ آج ہم کس زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں، انبیاء اور رسولوں کا زمانہ کب تھا وغیرہ۔

اس کے لیے ضرورت پڑتی ہے کیلنڈر کی، جس کو عربی زبان میں تقویم کہا جاتا ہے، کیلنڈر اور تقویم بنیادی طور پر تین طرح چلتے ہیں، ایک وہ کیلنڈر ہے جس کا تعلق سورج سے ہے جسے شمسی کہا جاتا ہے، ایک وہ ہے جس کا تعلق چاند سے ہے جسے قمری کہا جاتا ہے، اور تیسرا کیلنڈر وہ ہے جس کا تعلق ستاروں سے ہے، اسے نجومی کہا جاتا ہے، سورج سے چلنے والے کیلنڈر بہت سے ہیں، لیکن مشہور عیسوی کیلنڈر ہے جو پوری دنیا میں مشہور ہے، اور اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیؑ کی ولادت سے اس کا آغاز ہوا، نجومی کیلنڈر کا رواج نہ ہونے کے برابر ہے، قمری کیلنڈر کو اسلامی اور ہجری کیلنڈر بھی کہا جاتا ہے۔


ہجری کیلنڈر کی اہمیت اور خصوصیات


یوں تو سورج بھی اللہ رب العزت کا ہے چاند اور ستارے بھی اللہ رب العزت کے ہیں، لیکن جتنے بھی انبیاء کرام تشریف لائے انھیں جو عبادات دی گئیں اور جو احکامات دیے گئے ان کا دارومدار قمری کیلنڈر پر رکھا گیا؛ کیوں کہ یہ فطری کیلنڈر ہے یہ اللہ رب العزت کی طرف سے متعین کیا گیا نظام ہے، باقی کیلنڈر انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں، اور انسانوں کی بنائی ہوئی چیز ضروری نہیں کہ وہ انسانی فطرت کے مطابق بھی ہو، اور انسانوں کی بنائی ہوئی چیز ہر زمانے کے لیے نہیں ہوتی، زمانے کے گزرنے کے ساتھ اس میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔

اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اگر انسان کے پاس چھپے ہوئے کیلنڈر نہ ہوں یا تاریخ معلوم کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہ ہو تو سورج کو دیکھ کر شمسی تاریخ کو نہین معلوم کیا جاسکتا، جبکہ چاند کو دیکھ کر قمری تاریخ کا اندازہ بہت آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔

اسلام میں ساری عبادات کی بنیاد قمری کیلنڈر ہی ہے، نماز، روزہ، زکوۃ، حج، قربانی، عیدالفطر، عیدالاضحی وغیرہ سب کا دارومدار قمری کیلنڈر ہی ہے، یہ اس کی اہمیت و فضیلت ہے، گزشتہ انبیاء کے دور میں بھی چاند سے چلنے والے کیلنڈر کا استعمال ہوتا تھا، لیکن اسے ہجری کیلنڈر نہیں کہاجاتا تھا قمری کیلنڈر کہا جاتا تھا، ہجری کیلنڈر اس امت میں کہا جانے لگا۔


اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْہَاۤ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ۬ۙ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ۔ (التوبہ: ۳۶) 

ترجمہ: بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے، جو اللہ کے فیصلہ کے مطابق اسی دن سے ہے، جس دن کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا، ان میں سے چار مہینے خاص ادب کے ہیں ، یہی درست حساب ہے، تو تم ان مہینوں کے سلسلہ میں اپنے آپ پر زیادتی نہ کرو، اور تمام مشرکین سے جنگ کرو، جیساکہ وہ تم سبھوں سے جنگ کرتے ہیں اور جان لو کہ اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔


اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں زمانۂ جاہلیت میں مروج بعض ایسی باتوں کی اصلاح کی گئی ہے، جو درست نہیں تھیں اور جن کو لوگوں نے اپنے طور پر گھڑ لیا تھا، پہلی بات یہ ہے کہ ایک سال بارہ مہینوں ہی پر مشتمل ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے عرب کے لوگ بارہ ماہ پندرہ دن کا سال مانتے تھے، اس طرح حج جیسی عبادت جسے مشرکین عرب بھی بڑے اہتمام سے انجام دیتے تھے، اپنے وقت سے ہٹ کر ادا کیا جاتا تھا، دوسرے : اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے ہی یہ بارہ مہینے ہیں، جو اللہ کی کتاب میں موجود ہے، کتاب سے مراد ’ لوحِ محفوظ ‘ ہے ،کہ لوح محفوظ میں بارہ مہینوں کا سال پہلے سے مقرر شدہ ہے، یا یہ مطلب ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی فطرت ہے، جو زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت سے جاری ہے؛ کیوں کہ بارہ مہینوں میں سورج کے گرد زمین کی گردش مکمل ہوتی ہے، تیسرے : ان بارہ مہینوں میں چار مہینے حرام یعنی حرمت والے ہیں ، ان مہینوں میں عرب جنگ کرنے سے بچتے تھے، اسلام میں یہ حکم باقی ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، ایک رائے یہ ہے کہ شریعت ِمحمدی میں بھی ان مہینوں میں جنگ میں پہل کرنا درست نہیں ہے؛ البتہ اگر دشمن حملہ کریں تو دفاع ضرور کیا جائے، دوسر ی رائے ہے کہ یہ حکم ابتدائی دور میں تھا، اب یہ حکم باقی نہیں رہا، ان چار مہینوں سے مراد ہیں: ذو القعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب ، جو جمادی الاخری اورشعبان کے درمیان واقع ہے ، اس کو ’’رجب مُضَر ‘‘ بھی کہا جاتا تھا ؛ کیوں کہ قبیلۂ مضر کے لوگ اسے رجب کہتے تھے، اپنے اوپر ظلم نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ گناہ کے ارتکاب سے بچو ؛ کیوں کہ گناہ کا ارتکاب اپنے آپ کے ساتھ ظلم کرنا ہے ، گناہ کرنے کی ممانعت تو ہمیشہ ہی ہے ؛ لیکن ان مہینوں کی اہمیت اور حرمت کی وجہ سے خاص طور پر ان میں گناہ کرنے سے منع فرمایا گیا ، چوتھے: زمانہ جاہلیت میں عربوں کا ایک طریقہ یہ تھا کہ وہ مہینوں میں اُلٹ پھیر کیا کرتےـ تھے ؛ چوں کہ بعض قبائل لوٹ مار ہی سے اپنی معاشی ضروریات پوری کرتے تھے ؛ اس لئے ذو القعدہ ، ذوالحجہ اور محرم مسلسل تین مہینوں تک جنگ کی ممانعت ان کوگراں گزرتی تھی اور اپنی ضرورت کے لحاظ سے کبھی تو وہ محرم کو اپنی جگہ پر برقرار رکھتے اور کبھی صفر کو محرم بنا دیتے اور محرم کو صفر، اسی عمل کو ’’ نسییٔ ‘‘ کہا جاتا تھا، جس کے اصل معنی زیادتی کے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس طرح کی حرکت ان کے کفریہ اعمال میں اضافہ کررہی ہے اور اس طرح اہل کفر کے پیشوا اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں ؛ کیوں کہ کسی مہینے کو حرام قرار دینا اور نہ دینا اللہ تعالیٰ کا حق ہے نہ کہ بندوں کا، پہلی بار اس طرح کا عمل کس نے شروع کیا؟ اس میں اختلاف ہے ، بعض نے قَلَمَّسْ نامی شخص کا ذکر کیا ہے ، جس کا تعلق بنو فُقَیم سے تھا، بعض نے اس کا موجد عَمْروبن لُحَیْ کو اوربعض نے بنوکنانہ کے نُعَیم بن ثَعْلِبَہ کوقرار دیا ہے ، (تفسیر قرطبی : ۸؍۱۳۲-۱۴۰) اس سے اہل علم نے یہ بات بھی اخذ کی ہے کہ احکام شرعیہ کے لئے وہی کلینڈر معتبر ہے ، جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت مبارکہ کے وقت عرب میں مروج تھا ، جو بارہ مہینوں پر مشتمل تھا اورجس کی بنیاد چاند پر تھی ، شرعی احکام میں کسی اورکلینڈر کا شرعی اعتبار نہیں اگرچہباس کا استعمال جائز ہے۔ (حوالہ سابق : ۸؍۱۳۳)

Islamijankari220 

اسلامی کیلنڈر دین اسلام کے محاسن اور اس کی خوبیوں میں سے ایک ہے، اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ دنیا کی تاریخ تخلیق جتنی قدیم ہے، اتنی ہی اسلامی تقویم کی تاریخ بھی پرانی ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں ہے: إنَّ الزَّمانَ قدِ استدارَ كهيئتِهِ يومَ خلقَ اللَّهُ السَّمواتِ والأرضَ، السَّنةُ اثنا عشرَ شهرًا، منها أربعَةٌ حُرُمٌ، ثلاثٌ متوالِياتٌ: ذو القِعدةِ ، وذو الحجَّةِ، والمحرَّمُ، ورجَبُ مضرَ الَّذي بينَ جُمادى وشعبانَ۔ (بخاری: ۴۶۶۲) 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے خطبے میں) فرمایا کہ دیکھو زمانہ پھر اپنی پہلی اسی ہیئت پر آ گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں، تین تو لگاتار یعنی ذی قعدہ، ذی الحجۃ اور محرم اور چوتھا رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے۔


مساوات اور ہمہ گیری: اسلام دین فطرت ہے لہٰذا مصالح عامہ پر مبنی ہے، اسلام کی اعلیٰ خصوصیات میں سے ایک خاصیت مساوات اور ہمہ گیری بھی ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہی پسند فرمایا کہ اسلامی مہینے ادلتے بدلتے موسم میں آیا کریں، اگر اسلام کبیسہ کے طریقہ کو گوارا کرلیتا تورمضان کا مہینہ (ماہ صیام) کسی ایک مقام پر ہمیشہ ایک ہی موسم میں آیا کرتا، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ نصف دنیا کے مسلمان، جہاں موسم گرما اور دن بڑے ہوتے ہمیشہ تنگی اور سختی میں پڑ جاتے اور باقی نصف دنیا کےمسلمان، جہاں موسم سرد اور دن چھوٹے ہوتے، ہمیشہ کےلیے آسانی میں رہتے، روزہ کے علاوہ سفر حج کا بھی تقریباً یہی حال ہے، لہذا مساوات و جہانگیری کا تقاضا ہی یہ تھا کہ اسلامی سال قمری حساب پر ہی ہو اور اسے کبیسہ جیسی انسانی اختراعات سے بھی پاک رکھا جائے۔


ہجرت سے آغاز: دنیا بھر کے مروجہ سنین کی ابتدا پرنظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ کوئی سن کسی بڑے آدمی یا بادشاہ کی پیدائش، وفات یا تاجپوشی سے شروع ہوتا ہے یا پھر کسی ارضی یا سماوی حادثہ مثلاً زلزلہ، سیلاب یا طو فان کی تاریخ سے، ہجری کیلنڈر کو ہی یہ اعزاز و شرف حاصل ہے کہ اس کا آغاز دین اسلام کی سربلندی کی خاطر اپنے وطن عزیز کو چھوڑ کر چلے جانے سے ہوا ہے، اپنے وطن کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہنا ایک بہت بڑی قربانی ہے اور ایسے اوقات میں ہر شخص کا دل بھر آتا ہے، حضور اکرمﷺ نے بھی ہجرت کے وقت مکہ کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا: اےمکہ! تو کتنا پاکیزہ اور مجھے پیارا لگتا ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں نہ رہتا(ترمذی)

ظاہر ہے کہ ترک وطن پر انسان صرف اسی صورت میں آمادہ ہوسکتا ہے جب وہ انتہائی مجبور ہو یا کوئی عظیم مقصد اس کے پیش نظر ہو اور مسلمانوں کے لیے یہ عظیم مقصد دین اسلام کی سربلندی تھا اور ہجرت کے واقعہ کو ہجری تقویم کی بنیاد قرار دینے کا مقصد ہی یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہر نئے سال کے آغاز پر یہ پیغام یاد رہے کہ انہیں اسلام کی سربلندی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کرنا چاہیے۔


ماہ رجب کی اہمیت 


رجب المرجب کا مہینہ شروع ہو چکا ہے، رجب اسلامی وقمری سال کا ساتواں مہینہ ہے، اس کا شمار حرمت کے چار مہینوں میں ہوتا ہے، حرمت کے چار مہینے جس طرح قبل ازاسلام معزز ومحترم جانے جاتے تھے اسی طرح بعد از اسلام بھی ان کو وہی حیثیت حاصل ہے۔

رجب ترجیب سے ہے ترجیب کے معنی تعظیم کے ہیں، یعنی رجب کو رجب اس لیے کہتے ہیں کہ عرب جاہلیت میں اس کی تعظیم کرتے تھے، اور قتل وجدال اور فتنہ وفساد بالکل کو چھوڑ دیتے تھے، ابن دحیہ رحمہ الله کہتے ہیں کہ رجب کی جمع (ارجاب اور رجبانات اور ارجبہ اور ارجب اور رجابی ) آتی ہے ، اور پھر اس کے اٹھاره نام لکھے ہیں، چند کا تذکره درج ذیل ہے: 

۱ = رجب: کیونکہ جاهلیت میں اس کی تعظیم کی جاتی تھی۔

۲ = الاصَم: کیونکہ اس میں اسلحہ کی آواز نہیں سنی جاتی تھی۔

۳ = الاصَب: کیونکہ كفار مکہ کہتے تھے کہ اس میں الله کی رحمت بہائی جاتی ہے۔

۴ = رَجَم: کفار مکہ کے مطابق شیاطین کواس مہینہ میں رجم کیاجاتا ہے۔

۵ = الشہرالحرام

۶ = المقیم: کیونکہ اس کی حرمت وعزت قائم وثابت ہے منسوخ نہیں ہوئی۔

۷ = المضر: یہ مضر قبیلہ کی طرف نسبت ہے، کیونکہ وه اس کی تعظيم میں پیش پیش تھے۔

۸ = الفرد۔ والله اعلم


ماہ رجب کی اتنی عمومی فضیلت تو ثابت ہے کہ وہ چار حرمت والے مہینوں میں شامل ہونے کی وجہ سے باقی مہینوں سے زیادہ قابل احترام اور متبرک ہے، لیکن بطورِ خاص ماہ رجب کی فضیلت میں کوئی بھی روایت ثابت نہیں۔

اس پورے مہینے کے بارے میں جو حضور اقدس ﷺ سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ جب آپ رجب کا چاند دیکھتے تھے تو چاند دیکھ کر آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ:

أَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ۔

اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرمائیے اور ہمیں رمضان تک پہونچادیجیے، یعنی ہماری عمر اتنی کردیجیے کہ ہم اپنی زندگ میں رمضان کو پالیں گویا کہ پہلے سے رمضان المبارک کی آمد کا اشتیاق ہوتا تھا، یہ دعا آپ سے ثابت ہے اگرچہ سند کے اعتبار سےضعیف ہے۔


ماہ رجب کی بدعات و خرافات


ماه رجب میں لوگوں نے بہت ساری رسومات گھڑی ہیں ، جن کا کوئی ثبوت نہیں ہے، چند مشہور رسومات کا تذکره درج ذیل ہے

۱ = الصلاة الألفيہ: رجب کے شروع میں پڑھی جاتی ہے۔

۲ = صلاة أُم داود: رجب کے نصف میں پڑھی جاتی ہے۔

۳ = صلاة الرَّغائب: بعض لوگ اس کو (الصَّلاة الإثنا عشريہ) بھی کہتے ہیں، یہ نماز اول شب جمعہ کو عشاء کے بعد پڑھی جاتی ہے، اور یہ باره رکعت نماز ہے، ماه رجب میں کوئی مخصوص نماز ثابت نہیں ہے، اور صلاة الرغائب کی فضیلت میں جو احادیث روایت کی جاتی ہیں، سب جھوٹ اور باطل ہیں۔

۴ = رجب کی ستائیس تاریخ کا روزه بھی خاص فضائل کے ساتھ رکھا جاتا ہے، اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے، ماہ رجب کے کسی معین دن کے روزے میں، اوراسی طرح اس مہینہ میں کسی مخصوص رات کوقیام کے بارے میں کوئی ایسی حدیث وارد نہیں ہے جو قابل حجت ہو، ستائیسویں رجب کے روزے کو جوعوام ہزارہ روزہ کہتے ہیں اور ہزار روزوں کے برابر اس کا ثواب سمجھتے ہیں، اس کی کچھ اصل نہیں ہے، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بعض لوگ ۲۷؍رجب کو روزہ رکھنے لگے، جب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا کہ ۲۷؍رجب کا خاص اہتمام کرکے لوگ روزہ رکھ رہے ہیں، تو چونکہ ان کے یہاں دین سے ذرا اِدھر یا ادھر ہونا ممکن نہیں تھا، چنانچہ وہ فوراً گھر سے نکل پڑے اور ایک ایک شخص کو جاکر زبردستی فرماتے کہ تم میرے سامنے کھانا کھائو اور اس بات کا ثبوت دو کہ تمہارا روزہ نہیں ہے۔ باقاعدہ اہتمام کرکے لوگوں کو کھانا کھلایا، تاکہ لوگوں کو یہ خیال نہ ہو کہ آج کا روزہ زیادہ فضیلت کا ہے، بلکہ جیسے اور دنوں میں نفلی روزے رکھے جاسکتے ہیں، اسی طرح اس دن کا نفلی روزہ رکھا جاسکتا ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے یہ اہتمام اس لئے فرمایا تاکہ بدعت کا سدِّ باب ہو، اور دین کے اندر اپنی طرف سے زیادتی نہ ہو، یہ مہینہ حرمت والا ہے اور حرمت کی وجہ سے ثواب زیادہ ملتا ہے، اس نیت سے کسی بھی دن کا لازم سمجھے بغیر روزہ رکھنے کی گنجائش ہے۔

۵ = رجب میں خاص فضائل کی نیت سے عمره کرنا۔

۶ = رجب کی پہلی رات خاص فضائل کی نیت سے غسل کرنا۔

۷ = مخصوص طریقہ سےمخصوص سورتیں نماز میں پڑھنا۔

۸ = خاص فضائل وثواب کی غرض سے رجب میں زکوه وصدقات دینا۔

۹ = مخصوص اوراد و وظائف وادعیہ خاص فضائل کی نیت سے پڑھنا۔

۱۰ = تبارک کی روٹی، رجب المرجب کا مہینہ جب آتا ہے تو کچھ لوگ جمعہ کے دن میٹھی روٹی پکاتے ہیں اور اکتالیس مرتبہ سورہ ملک پڑھتے ہیں، اس کو ”تبارک“کہتے ہیں اور روٹی کو میت کی طرف سے فدیہ صدقہ خیرات سمجھ کر تقسیم کرتے ہیں، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں، یہ نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث شریف سے نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نہ فقہا و محدثین کی کتب سے بلکہ من گھڑت ہے ،ایسی چیز کو شریعت میں بدعت کہتے ہیں،اس کاترک کرنا واجب ہے۔


۱۱ = کونڈوں کی شرعی وتاریخی حیثیت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کی ابدی کامیابی کو اپنی اطاعت و فرمانبرداری میں رکھا ہے، انسان اس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت و رضا سے حا صل کرنے کیلیے ہر ممکن کو شش کرتا ہے مگر چونکہ انسان کی کامیابی شیطان کو اچھی نہیں لگتی تو جب انسان کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، شیطان اگر چہ اس سے خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پر یشانی کی بات یہ ہوتی ہے کہ گناہ گار انسان جب ندامت و شر مند گی سے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے گا تو اپنے گناہ سے بالکل پاک صاف ہوجائے گا اور شیطان سوچتا ہے، میری ساری محنت رائیگاں جائے گی، تو پھر…انسان کو ایک ایسے گناہ میں مبتلا کر کے مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس کے ارتکاب پر انسان کو تو بہ کی توفیق نہیں ملتی، اور وہ گناہ”بدعت“ ہے۔جی ہاں !بدعت بہت ہی سنگین گناہ ہے، کیوں کہ بدعتی سمجھ رہا ہوتا ہے کہ وہ بہت بڑی نیکی کر رہا ہے جبکہ وہ اپنے عمل کو گناہ تصور ہی نہیں کرتا تو وہ تو بہ کیسے کرے گا؟ تو بدعتی ہمیشہ توبہ سے محروم رہتا ہے۔

انہی بدعات میں سے ایک قبیح بدعت ۲۲ رجب کے کونڈوں کی رسم ہے، یہ بغضِ صحابہ اور تو ہینِ صحابہ پر مبنی رسم دشمنان صحابہ کی ایجاد کردہ ہے، اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ۲۲ رجب کی شب کو عورتیں نہا دھو کر با وضو ہو کر خاص طریقہ کے مطابق پوریاں بنا کر مٹی کے کونڈوں میں بھر کے تخت یا صاف چادر پر رکھ کر ایک منظوم کتاب پڑھواتی ہیں۔

کونڈوں کی من گھڑت کہانی: رجب کے کونڈوں کو ثابت کرنے کیلئے ایک جھوٹی کہانی کا سہارا لیا جاتا ہے،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینے میں ایک غریب لکڑہارے کی بیوی نے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو ۲۲ رجب کو میرے نام کے کونڈے بھرے گا پھر اللہ سے جو بھی دعا کریگا وہ قبول ہوگی ورنہ قیامت کے دن وہ میرا گریبان پکڑلے، چنانچہ اس لکڑہارے کی بیوی نے ایسا ہی کیا، اس کا شوہر بہت سا مال لیکر واپس لوٹااور ایک شاندار محل تعمیر کر کے رہنے لگا، اور وزیر کی بیوی نے کونڈوں کو نہ ماناتو اس کے شوہر کی وزارت ختم ہوگئی، پھر اس نے توبہ کی اور کونڈے بھرے تو دوبارہ وزیر بن گیا، اس کے بعد بادشاہ اورقوم ہر سال دھوم دھام سے یہ رسم منانے لگے۔

حضرت جعفر صادق کا قصہ تو ثابت نہیں البتہ یہ ثابت ہے کہ ۲۲ رجب کو حضرت امیرمعاویہ (بزرگ صحابی رسول کاتب وحی اور خلیفۃ المسلمین ) کی وفات ہوئی تھی اور شیعہ حضرات کو ان سے جو بغض و عناد ہے وہ سب پر عیاں ہے اس لیے وہ ان کی وفات کے روز بطور جشن میٹھی اشیا تقسیم کرتے لیکن جب انھوں نے محسوس کیا کہ یہ رسم سنیوں میں بھی عام ہونی چاہئے تو حضرت جعفر صادق کا من گھڑت قصہ چھپوا کر ان میں تقسیم کرا دیا اور یوں یہ رسم عام سے عام ہوتی چلی گئی۔

یہ ایک قبیح بدعت و رسم ہے جو دشمنان صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایجادکردہ ہے، اس کا دین ِاسلام اور شریعتِ محمدیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


۱۲ = شبِ معراج کی فضیلت ثابت نہیں 

۲۷؍رجب کی شب کے بارے میں یہ مشہور ہوگیا ہے کہ یہ شبِ معراج ہے اور اس شب کو بھی اسی طرح گزارنا چاہئے جس طرح شبِ قدر گزاری جاتی ہے اور جو فضیلت شبِ قدر کی ہے کم و بیش شبِ معراج کی بھی وہی فضیلت سمجھی جاتی ہے، بلکہ میں نے تو ایک جگہ یہ لکھا ہوا دیکھا کہ ’’شبِ معراج کی فضیلت شبِ قدر سے بھی زیادہ ہے‘‘، اور پھر اس رات میں لوگوں نے نمازوں کے بھی خاص خاص طریقے مشہور کردیئے کہ اس رات میں اتنی رکعتیں پڑھی جائیں اور ہررکعت میں فلاں فلاں خاص سورتیں پڑھی جائیں، خدا جانے کیا کیاتفصیلات اس نماز کے بارے میں لوگوں میں مشہور ہوگئیں، خوب سمجھ لیجیے، یہ سب بے اصل باتیں ہیں، شریعت میں ان کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں، کوئی یہ کہے کہ میں زیادہ جانتا ہوں کہ کونسی رات زیادہ فضیلت والی ہے، یا کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ کرام سے زیادہ مجھے عبادت کا ذوق ہے، اگر صحابہ کرام نے یہ عمل نہیں کیا تو میں اس کو کروں گا، اسکے برابر کوئی احمق نہیں، لہٰذا اس رات میں عبادت کے لئے خاص اہتمام کرنا بدعت ہے، یوں تو ہر رات میں اللہ تعالیٰ جس عبادت کی توفیق دے وہ بہتر ہی بہتر ہے، آج کی رات بھی جاگ لیں، کل کی رات جاگ لیں، اسی طرح پھر ستائیسویں رات کو جاگ لیں دونوں میں کوئی فرق اور کوئی نمایاں امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔

اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بعض لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اس رات میں جاگ کر عبادت کرلی اور دن میں روزہ رکھ لیا تو کونسا گناہ کرلیا؟ کیا ہم نے چوری کرلی؟ یا شراب پی لی؟ یا ڈاکہ ڈالا؟ ہم نے رات میں عبادت ہی تو کی ہے، اور اگر دن میں روزہ رکھ لیا تو کیا خرابی کا کام کیا؟ میں یہ کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ سارے دین کا خلاصہ ’’اتباع‘‘ ہے کہ ہمارا حکم مانو، نہ روزہ رکھنے میں کچھ رکھا ہے، نہ افطار کرنے میں کچھ رکھا، نہ نماز پڑھنے میں کچھ رکھا، جب ہم کہیں کہ نماز پڑھو تو نماز پڑھنا عبادت ہے، اورجب ہم کہیں کہ نماز نہ پڑھو تو نماز نہ پڑھنا عبادت ہے، جب ہم کہیں کہ روزہ رکھو تو روزہ رکھنا عبادت ہے اورجب ہم کہیں کہ روزہ نہ رکھو تو روزہ نہ رکھنا عبادت ہے اگر اس وقت روزہ رکھوگے تو یہ دین کے خلاف ہوگا، دین کا سارا کھیل اتباع میں ہے، اگر اللہ تعالیٰ یہ حقیقت دل میں اتاردے تو ساری بدعتوں کی خود ساختہ التزامات کی جڑ کٹ جائے، اب اگر کوئی شخص اس روزہ کا زیادہ اہتمام کرے تو وہ شخص دین میں اپنی طرف سے زیادتی کر رہا ہے، اور دین کو اپنی طرف سے گھڑ رہا ہے، لہٰذا اس نقطۂ نظر سے روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، ہاں ! البتہ اگرکوئی شخص عام دنوں کی طرح اس میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہے تو رکھ لے، اس کی ممانعت نہیں، لیکن اس کی زیادہ فضیلت سمجھ کر، اس کو سنت سمجھ کر، اس کو زیادہ مستحب اور زیادہ اجر و ثواب کا موجب سمجھ کر اس دن روزہ رکھنا یا اس رات میں جاگنا درست نہیں، بلکہ بدعت ہے۔ (اصلاحی خطبات) 


خلاصہ


حاصل یہ کہ دین کے نام پر بہت ساری رسومات ماه رجب میں لوگوں نے بنائی ہیں، ہند و پاک میں ان رسومات اور اس طرح کی دیگر بدعات وخرافات کو عام مسلمانوں میں شیعہ و روافض اور اہل بدعت نے خوب پھیلایا ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ دین کا صحیح علم حاصل کیا جائے، اور کیا سنت ہے اور کیا بدعت ہے اس کو معلوم کرکے صحیح انداز میں زندگی گزاری جائے۔

Qirat girls

और नया पुराने