Sharm va hya aur Pak Damni

 شرم وحیا اور پاک دامنی 


Sharm va hya aur Pak Damni

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہٖ اکریم اما بعد ال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید، اعوذباللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم قُلْ لِّلْمُوْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ وَقُلْ لِّلْمُوْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوبِھِنَّ (النور:۳۱۔۳۰)

اے نبی! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کیلئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے، اور اے نبی !مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔

اسلام نے شرم وحیا کو انسان کا زیور قرار دیا ہے، عفت وعصمت، پاکدامنی اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کو انسانی معاشرہ کا فریضہ قرار دیا ہے، پاکدامنی اسلامی تہذیب کی جان اور اسلامی معاشرہ کی پہچان ہے، جس شخص اور جس سماج میں شرم وحیا نہ ہو، وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہوجاتا ہے، شیطان اس پر حاوی ہوجاتا ہے اور اللہ کے غضب کا وہ مستحق بن جاتا ہے، دو چیزیں انسان کو سب سے زیادہ برباد کرتی ہیں، ایک حرام خوری اور دوسری حرام کاری۔ اسی لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر تم دوچیزوں کی حفاظت کی ضمانت دو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں، ایک وہ جو تمہارے دو جبڑوں کے بیچ ہے یعنی زبان اور دوسری وہ جو تمہاری دو رانوں کے بیچ ہے یعنی شرمگاہ۔(مسند احمد۵؍۲۲۳)

بے حیائی اور بدکاری کو اسلام نے سختی سے روکا ہے اور فرد او رمعاشرہ کی پاکیزگی پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قُلْ اِنِّمَا حَرَّمَ رَبِّیْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ۔(الاعراف۔۳۳)

اللہ تعالیٰ کی نظر میں انسان کا سب سے گھنائونا جرم زنا کاری ہے، خواہ زبردستی کسی کی عزت لوٹی جائے یا باہمی رضا مندی سے بدکاری کی جائے، دونوں حرام ہیں۔

 اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:

وَلَا تَقْرَبُوْا الزِّنَیٓ اِنَّہٗ فَاحِشَۃً وَسَآئَ سَبِیْلاً۔(بنی اسرائیل۔ ۳۲)

اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو بے شک زنا بدکاری ہے اور برا راستہ ہے۔

زنا نہایت ہی سنگین اور گھنائونی برائی ہے، اسی لحاظ سے شریعت نے اس کی سزا بھی سخت اور عبرت ناک مقرر کی ہے، یعنی غیر شادی شدہ کیلئے سو کوڑے اور شادی شدہ کے لئے رجم کی سزا رکھی ہے، یہ تو دنیا میں اس کی سزا ہے، آخرت میں اس کی سزا جہنم کا رسوا کن عذاب ہے، جیسا کہ معراج کے سفر میں رسول پاک ﷺ نے زنا کرنے والوں کو آگ کے کنویں میں دیکھا تھا۔ 

اللہ تعالیٰ نے جہنم کی یہ عبرتناک سزا زنا کرنے والوں کے لئے مقرر کی ہے، حالانکہ یہ سزا تو کافروں اور مشرکوں کی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شرک اوربدکاری دونوں میں ایک گندگی مشترک ہے، شرک عقیدہ کی گندگی ہے اور زنا کردار کی گندگی ہے، شرک ایمان کا زبان ودل سے انکار ہے اور زنا کاری ایمان کی عملاً نفی ہے ۔

 چنانچہ رسول پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ:

لایزنی الزانی حین یزنی وھو مومن:(مسلم شریف کتاب الایمان)

زنا کار جس وقت زنا کرتا ہے اس وقت وہ مومن نہیں رہتا۔

 عام طور پر زنا کا ارتکاب کوئی یکدم نہیں کرتا، پہلے نظر اٹھا کر دیکھتا ہے، پھر اپنے دل میں گناہ کا خیال لاتا ہے پھر گفت وشنیدکرتا ہے، پھر اس کیلئے عملی تدابیر کرتا ہے اور پھر اپنی عزت وآبرو کا شیشہ توڑلیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے صرف زنا کو حرام نہیں قرار دیا بلکہ زنا کی طرف لے جانے والے راستوں کو بند کیا اور فرمایا ’’زنا کے قریب بھی نہ جائو‘‘ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

آنکھیں زنا کرتی ہیں ، ان کا زنا دیکھنا ہے اور ہاتھ زنا کرتے ہیں، ان کا زنا چھوناہے اور پکڑنا ہے اورپائوں زنا کرتے ہیں، ان کا زنا اس راستہ پر چلنا ہے، زبان بھی زنا کرتی ہے اس کا زنا بات چیت کرنا اور دل کا زنا خواہش شہوت ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (مسلم شریف کتاب القدر)

کتنی بڑی سماجی سچائی اور حکیمانہ بصیرت ہے، رسول پاک ﷺکی اس حدیث میں بدکاری کی نفسیات اور اس کے عوامل اور مراحل کو لوگوں کے سامنے واضح کردیا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے زنا کے ان تمام راستوں کو بندکرنے کیلئے مومنوں کو شرم وحیا اور پاکدامنی کے ایسے احکام دیے ہیں، جو ان کی شخصیت او رسیرت کو پاکیزگی اور معاشرہ کو اخلاقی بلندی عطا کرتے ہیں، صاحب کردار وہ نہیں ہے جس نے برائی اس وجہ سے نہیں کی کہ اس کو موقع نہ ملا، بلکہ باکرادر مومن وہ ہے جس کو بدکاری کا موقع ملا مگر اللہ کے خوف سے اس نے بدکاری نہیں کی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال رہتی دنیا تک کیلئے روشن ہے، ان کی مالکہ جو حسن اور دولت کی بھی مالکہ تھی، جب برائی کیلئے بلایا تو آپ نے انکار کردیا، پاک دامنی کی خاطر جیل کی سزا کاٹی ، مگر بدکاری کا ارتکاب نہ کیا۔ یہ سارے انسانوں کیلئے نمونہ ہے۔

بدکاری اور بے حیائی سے بچنے کیلئے اسلام کا پہلا حکم شرم وحیا کا احساس اور نگاہ کو نیچی رکھنا ہے، یہ حکم مرد وعورت، لڑکے اور لڑکیاں دونوں کیلئے ہے، اگر نگاہ میں شرم وحیا نہیں ہے اور مرد وعورت ایک دوسرے کو دیکھ کر لذت ، سرور حاصل کرتے ہیں تو بدکاری میں مبتلا ہونے کا پورا اندیشہ ہے۔

 اسی لئے رسول پاکﷺ نے حکم دیا ہے:

لا تتبع النظرۃ فان لک الاولی ولیست لک الآخرۃ۔( ترمذی، کتاب البر والصلہ)

کسی عورت کو بار بار نہ دیکھو، پہلی نظر تیری ہے مگر دوسری نظر درست نہیں ہے۔

اس زمانہ میں اخلاق وکردار کی بربادی سب سے زیادہ نظر بازی کی وجہ سے ہے، اسی وجہ سے جملہ بازی، چھیڑ چھاڑ اور غیر اخلاقی حرکات سرزد ہوتی ہیں، علامہ ماہر القادری فرماتے ہیں:

شرم وغیرت ہے آبروئے جمال

اے میری شاہد پری تمثال

سر سے آنچل ڈھلک گئے تو کیا

تو مگر دامن نظر کو سنبھال

بدکاری وبے حیائی سے محفوظ رہنے کیلئے دوسرا حکم اسلام نے مرد وعورت دونوں کو یہ دیا ہے کہ اجنبی مرد وعورت تنہائی میں نہ ملیں، کیوں کہ جب دو اجنبی مرد وعورت تنہائی میں ہوتے ہیں تو تیسرا شیطان ہوتا ہے، جو ان دونوں کے دلوں میں برائی کی چنگاری چھوڑتا ہے اور یہی چنگاری شعلہ بن کر دونوں کی عصمت کوجلادیتی ہے۔

رسول پاک ﷺ کا ارشاد ہے:

لا یخلون رجل بامراۃ الا ومعھا ذو محرم (مسلم، کتاب الحج)

کوئی مرد کسی عورت سے اس کے محرم کے بغیرتنہائی میں نہ ملے۔

آج کل تجربہ گاہوں میں، ریسرچ کے نام پر تعلیم گاہوں میں، دفتروں میں اور کال سینڑس پر لڑکیوں اور لڑکوں میںتنہائی میںملنے کا جو ماحول پیدا ہوگیا ہے ، اس نے برائی اور بدکاری کی فضا پیدا کردی ہے، اسلام اس کو انسانی شرافت کے منافی قرار دیتا ہے۔

تیسرا حکم اسلام نے یہ دیا ہے کہ شائستہ لباس استعمال کریں، لڑکیاں اور خواتین خاص طور پر ایسا لباس استعمال نہ کریں جس سے جسم کے نشیب وفراز کی نمائش ہو، دوسرے لوگوں میں خواہشات نفس جاگے اور اخلاقی فتنہ وفساد رونما ہو۔ 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

رب کاسیۃ فی الدنیا عاریۃ فی الآخرۃ(بخاری ، کتاب العلم)

بہت سی عورتیںجو دنیا میں لباس میں ہیں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ 

یہ وہ عورتیں ہیں جنہوں نے ایسا لباس استعمال کیا ہوگا جو ان کے نسوانی حسن کی نمائش کرے، جو پردہ پوشی کیلئے ناکافی ہو، حضرت اسماءؓ سے حضور پاکﷺ نے فرمایا کہ: اے اسماء! جب لڑکی بالغ ہوجاتی ہے تو اس کا جسم اس کے چہرہ اور ہتھیلی کے علاوہ ڈھکا رہنا چاہئے۔(سنن ابودائود ، کتاب اللباس)

مغربی تہذیب نے بے پردگی اور عریانیت کو اس طرح پھیلایا ہے کہ مسلمان بھی جو مغربی تہذیب میں ڈوب گئے ہیں اسے معیوب نہیں سمجھتے، اپنی لڑکیوں کو اسکرٹ اور ٹی شرٹ قسم کا لباس پہناتے ہیں، اپنی عورتوں کو ایسا لباس پہناتے ہیں جس سے عریانیت جھلکتی ہے، سب سے زیادہ بے حیائی ان تعلیم گاہوں میں پائی جاتی ہے جہاںلڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں، جہاں بے پردگی معیوب نہیں ہے، ماحول میں آوارگی ہے، نگاہوں میںحیا نہیں ، دلوں میں غیرت نہیں، بدکاری کا دروازہ چوپٹ کھلا ہے، کوئی روک ٹوک نہیں، یہ اسلامی غیرت وحمیت کے منافی ہے۔

اسلام نے چوتھا حکم بدکاری وبے حیائی سے حفاظت کیلئے دیا ہے کہ عورتیں اپنی زیب وزینت کا استعمال اپنے گھر میںکریں اور باہر نکلیں تو اپنے حسن اور زینت کی نمائش نہ کریں، اس سے ان کو اطمینان وسکون ملے گا اور بری نگاہ سے محفوظ رہیں گی۔

 رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے:

الرافلۃ فی الزینۃ فی غیر اھلھا کمثل ظلمۃ یوم القیمۃ لا نور لھا۔( ترمذی، ابواب الرضاع)

نامحرم کے سامنے زیب وزینت کا اظہار کرنے والی اس تاریکی کی طرح ہے قیامت کے دن جس میں روشنی نہ ہوگی۔

ہمارے سماج کی اخلاقی حالت الٹی ہوگئی ہے، جب عورتیں اپنے گھر میں ہوتی ہیں تو زیب وزینت نہیں کرتیں اور ا پنے شوہروں کی تسکین کا خیال نہیں کرتیں اور جب شادی بیاہ اور دوسرے سماجی پروگراموں میں جاتی ہیں تو خوب بنائو سنگار کرتی ہیں جس سے دوسرے مردوں کے دلوں میں فتنہ پیدا ہوتا ہے، اس ماحول کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

بدکاری اور بے حیائی سے محفوظ رہنے کیلئے اسلام نے پانچواں حکم یہ دیا ہے کہ عورتیں اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنی یا چادر ڈال لیا کریں۔

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یٰٓاَ یُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَائِ الْمُوْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤذَیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (الاحزاب ۔۵۹)

اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکالیاکریں، یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے کہ تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔

آج کل ، فلموں نے، ٹی وی سیریل نے، فیشن شو اور مقابلہ حسن کی شیطانی تہذیب نے مسلمان گھروں کی پاکیزگی کو چھین لیا ہے، شرم وحیا اور پاکدامنی جو شریف گھرانوں اور شریف زادوں کی پہچان تھی اب کم ہوتی جارہی ہے،موبائیل اور انٹرنیٹ نے برائیوں اوربے حیائیوں کو کئی گنا بڑھا دیا ہے،ہماری قوم کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دینی تعلیم و تربیت نہ ہونے کے نتیجہ میںدن بہ دن اسلامی تہذیب و تمدن سے دورہوتے جارہے ہیں، چند دنوں کے بعد دنیا بھر میں ویلنٹائن ڈے کے عنوان سے بے حیائی اور بد تہذیبی کا دن منایا جائے گا جو خالص مغربی تہذیب کی دین ہے اس دن کی آڑ میں فاسد عقائد الحاد و بے دینی ،اخلاق باختگی اور فسق و فجور کو پھیلایا جاتاہے،افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سارے مسلمان نوجوان لڑکے اورلڑکیاں بھی بے حیائی کے اس دن کو شوق سے مناتے ہیں، حالانکہ ایسے کسی تہوار یا دن کو منانا اللہ کے دشنوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایاہے۔ ابو داؤد شریف کی روایت ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔

ہر مسلمان کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ ویلنٹائن ڈے ہر اعتبا ر سے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے جس کا مقصد بے حیائی او ر مرد و عورت کے اختلاط کو بڑھانا ہے،جس سے ہرمسلمان کو بچناچاہیے اوردوسروں کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے، واضح ہو کہ اسلام محبت کرنے او ر ایک دوسرے سے پاکیزہ میل جول رکھنے سے منع نہیں کرتا لیکن اسلام نے اس کی حدیں مقرر کردی ہیں،جن کی پاسداری ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے،موجودہ دور میں جب کہ عریانیت اور بے حیائی بڑھتی جارہی ہے ،اور اس کے راستے لوگ ارتدا د تک پہونچ رہے ہیں، آیئے ہم کم از کم اپنے گھر کے ماحول کی فکر کریں،تا کہ ہمارا اور ہماری نسلوں کا ایمان سلامت رہے اور اسلامی تہذیب زندہ اور باقی رہے۔ (آمین)

وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین



और नया पुराने