السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ دنیا ظلماتی ہے اگر اس دنیا میں سب سے بڑا کوئی روشن چراغ ہے تو وہ صرف انسان ہے
مگر انسان کے اندر بھی تاریکی اور اسکی خلقت اور جبلت کے اندر ظلمات ظلم اور جہالت ہے اسکے تمام مادے ظلماتی ہیں اگر اسکے اندر کچھ چیز قوۃ بالفعل کے طور پر ہے تو وہ استعداد و صلاحیت ہے
اگر اسمیں کسی خمیر کو ڈال دیا جائے تو اسے قبول کر لیتا ہے
فعل کے درجے میں انسان کی ذات کے اندر کوئی چیز موجود نہیں
جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں
﴿إِنَّا عَرَضۡنَا ٱلۡأَمَانَةَ عَلَى ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡجِبَالِ فَأَبَیۡنَ أَن یَحۡمِلۡنَهَا وَأَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا ٱلۡإِنسَـٰنُۖ إِنَّهُۥ كَانَ ظَلُومࣰا جَهُولࣰا﴾ [الأحزاب ٧٢]
ہم نے اپنی امانت(قرآن) کو آسمان زمین اور پہاڑ پر پیش کیا تو انہوں نے اسکے اٹھانے سے انکار کر دیا اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسکو اٹھا لیا کیونکہ یہ بڑا ظالم و جاہل تھا
اب اس میں غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ قرآن جیسی عظیم نعمت کو بڑی بڑی مخلوقات نے اٹھانے سے انکار کردیا کہ ہم اسکو برداشت نہیں کر سکتے لیکن انسان اسکو اٹھانے کے لیے تیار ہو گیا
کام تو تعریف کا کیا تھا مگر کہا جا رہا ہے ظالم و جاہل تھا وہ بھی مبالغہ کے صیغہ کہ ظلوم اور جہول تھا
قاری طیب صاحب رحمہ اللہ اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں اس سے بڑی کوئی تعریف ہو ہی نہیں سکتی
اسمیں اللہ رب العالمین نے انسان کے اندر کی استعداد و صلاحیت کی صفت کو بیان فرمایا ہے
وہ یوں کہ جو شخص جاہل ہوگا وہی عالم بن سکتا ہے اور جسکے اند ظالم و مظلوم بننے کی صفت ہوگی وہی عادل بن سکتا ہے
دوسری مخلوقات میں جب جہل اور ظلم کا مادہ ہی نہیں ہے تو وہ عالم و عادل کیسے بن سکتا ہے
آیت مذکورہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم کون کہلاءیگا جسکے پاس قرآن کا علم ہوگا وہی شخص عالم ہوگا
اس آیت سے اولا دو باتیں معلوم ہوئی
۱- انسان کی اندر اصل تاریکی ہے بگاڑ ہے جہل ہے ظلم ہے
۲- مگر اس کے اندر استعداد و صلاحیت کی قوت موجود ہے
جتنی بھی مخلوقات ہیں سب کا یہی حال ہے انکے اندر اصل خرابی ہے اگر ان پر محنت کی جائے تو ان میں خوبی پیدا ہوتی ہے اگر چھوڑ دیا جائے تو تو اپنی اصل پر لوٹ آتی ہیں
مثال کے طور پہ ہم نے ایک مکان بنایا اچھی ڈیکوریشن کی تو وہ جنت نما بن اگر اسکی دیکھ بھال کرینگے تو وہ دلکش اور خوش نما لگیگا اسکو یوں ہی چھوڑ دو اسکی اصل کے اندر خرابی ہے نہ دھیرے دھیرے اپنی اصل پر لوٹ آئے گا پہلے جالے لگینگے پھر پپڑیاں بن کر گرینگی کچھ دن بعد ریہی لگیگی اور ستون وغیرہ گر کر کھنڈرات میں تبدیل ہو جائے گا
یہی حال انسان کا ہے اسکے اندر جہل ہے ظلم ہے ہڑدھرمی ہے خواہش پرستی ہے
مگر استعداد و صلاحیت بھی موجود ہے اگر اسپر محنت کی جائے تو اچھے طور طریق کا متحمل بن جاتا ہے ورنہ اصل پر قائم دائم رہ کر انسانیت کے لئے درد سر اور وبال جان بن جاتا ہے
انسانوں کی جبلت کی خرابی اور انسان کو صفت حیوانیت سے نکالنے کے لئے اللہ رب العزت نے انبیاء کرام علیہم السلام کو دنیا میں بھیجا
نبیوں اور رسولوں کی آمد کا سلسلہ کائنات کے سردار جناب نبی اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و ستم پر ختم ہو گیا
اور اپنی امت کی ہدایت کے لئے قرآن اور سنت کو چھوڑا
تاکہ لوگ قرآن سنت کا علم حاصل کرکے راہ یاب ہو جائیں
انسان حیوان اور انسان بنانے میں سب سے زیادہ اہم رول والدین کا ہوتا ہے
انسان بچبن میں اپنی جبلت اور خلقت کے اعتبار سے مخفف اور کورے کاغذ کی کی طرح ہوتا ہے
جو چیز بچبن میں نقش کرا دی جاتی ہے وہ ہی ہمیشہ رہتی
بچبن کے بعد انسان کے اندر شدت پیدا ہو جاتی جسکا بدلنا محال ہے
اور انسان انسان بنتا ہے علم سے اور علوم میں سب سے بہتر علم علم دین ہے
اور ایک قول مشہور ہے علم کا اطلاق صرف علم دین پر ہوتا باقی تو سب فنون ہیں (جملہ بہترین ہے اگر چہ میں کہیں تک اس پر غیر متفق ہوں)
اسلئے اپنے بچوں کو علم دین سکھانے میں جان توڑ محنت کریں
اللہ رب العالمین ہم سب کو عالم با عمل بنائےفقط والسلاما ی