ہمارے معاشرے کی بربادی اور اس کا علاج

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

ہمارے معاشرے کی بربادی اور اس کا علاج 

آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہ ایک نہایت ہی حسّاس اور عبرت ناک دور ہے خواہ اخلاقی اعتبار سے ہو یا سماجی

 سیاسی اعتبار سے یا معاشی  

چاہے جس اعتبار سے ہو ہم ہر طرح سے ظلم و ستم کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں 

آج ہمارے مدرسوں کو بند کیا جا رہا ہے 

مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کیا جا رہا ہے 

ہماری زمینیں غصب کی جا رہی ہیں 

ہمیں گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے 

آج ہماری قوم ہر طرح سے ظلم و ستم میں چکی میں پیسی جا رہی ہے 

ہماری قوم چین کی رہنے ہو یا جاپان کی ایراق کی ہو یا ایران کی امریکہ کی ہو یا فرانس کی ہندوستاں کی ہو یا پاکستان کی 

چاہے جس خطے کی ہو تباہی و بربادی کے دہانے پے کھڑی ہے 

میں کیا کیا یاد دلاؤں 

ایک ہنگامہ محشر ہو تو اس کو بولوں

یہاں تو ہزاروں غموں کا رہ رہ کے خیال آتا ہے

آخر اس کی وجہ کیا ہے جو ہم پو یہ آفات و مصائب کا نزول ہو رہا ہے جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہین

تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائیگی ان کا سبب کیا ہے

اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ہم نے قرآنی تعلیمات کو بالائے طاق رکھ دیا 

آپسی اخوت و بھائی چارگی کو ترک کر دیا

آج ہم عشقِ رسول کا تو دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کے فرمودات پر عمل نہیں کرتے

عذاب قبر اور جہنم سے تو ہمیشہ خوف کھاتے ہیں لیکن اس سے بچنے کے لئے عمل نہیں کرتے

مردوں کو روزانہ دفن کرتے ہیں لیکن ان سے نصیحت حاصل نہیں کرتا تا

یہی وجہ ہے کہ آج ہم ذلت اور رسوائی کی زندگی گزار رہے ہیں اغیار ہم پر قابض ہیں

ہماری ماؤں بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں

تو اس کی اصلاح کا طریقہ کیا ہے اس پر ہمیں غور و خوض کرنا پڑے گا

ذرا سی غور و خوض کرنے کے بعد عقل سلیم رکھنے والا ہر شخص کے سامنے یہ بات واضح ہو جائے گی

اس کا واحد علاج صرف قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا اور اخوت و بھائی چارگی ہے تو اس لیے ہمیں اب غفلت شعاری سرد مہری کو بالائے طاق رکھنا ہوگا نرم نرم گدوں کو چھوڑنا ہو گا زیب و زینت بناؤ سنگھار کی آرزوؤں کو ترک کرنا ہوگا تو اس لئے اٹھ جاؤ قرآنی تعلیمات کو عام کرو اخوت و بھائی چارگی کو بڑھاؤ اور اپنے معاشرے میں اسلامی کلچر کو رواج دو

اور پوری دنیا میں اپنا لوحا منوا لوں

اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ تم زمین میں میرے دین کو قائم کرنے میں میری مدد کرو تو میں تمہارے قدموں کو جما دوں گا اور تمہیں فلاح و بہبود کے راستے پر گامزن کر دوں گا اگر تم نے ایسا نہ کیا تو یاد رکھو تم کو تباہ و برباد کر دوں گا تمہاری نسلوں تک کو برباد کر دوں گا تمہیں یاد کرنے والا تک کوئی نہیں رہے گا اس لئے اٹھ جاؤ ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے فلاح بہبود آپ کا راستہ دیکھ رہی ہیں اور یوں گویا ہیں

بحر ہے بے چین کشتی ڈال دے لنگر اٹھااج شاہی منتظر ہے اے مسلماں سر اٹھا د    ارحان 

और नया पुराने