ارتداد کا دلدل اور حفاظتی تدابیر
بقلم🖋 حذیفہ ایوبی
خالق کائنات نے انسانوں پر بے انتہا نعمتوں کی بارش نازل فرمائی جن کا شمار کرناصرف ناممکن ہی نہیں محال ہے
انہیں اَن گِنت نعمتوں میں سے ایک نعمت ایمان ہے جو تمام نعمتوں کی سردار ہے ۔ اس دنیا کی تمام نعمتیں ہماری آنکھ بند ہوتے ہی چھوٹ جائیں گی۔ اگر ہمارے ساتھ کوئی نعمت جائے گی تو وہ ایمان ہی کی نعمت ہوگی جو ہماری کامیابی کا ذریعہ اور واحد راستہ ہے ورنہ اس کے بغیر ہم ناکام ہیں۔
اوراسی وجہ سے نعمتِ ایمانی اللہ رب العزت سب کو عطا نہیں کرتے بلکہ جو اللہ کے محبوب و مخصوص بندے ہوتے ہیں ان ہی کو میسر ہوا کرتی ہے۔ اس رب کریم کا کتنا احسان عظیم ہے کہ اسنے ہم سب کو اس نعمت سے سرفراز فرماکر در در بھٹکنے سے ہزاروں معبودان باطلہ کے سامنے پیشانی ٹیکنے سے تاریک راستوں کی دلدل اور پستی و گمرہی میں بھٹکنے سے محفوظ فرما لیا فلہ الحمد ولہ الشکر۔۔
قارئین: جہاں ایمان لانا دائرہ اسلام میں داخل ہونا پوری زندگی اسی کے مطابق عمل کرنا دونوں جہاں کی کامیابی و کامرانی کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح اسکو ضائع کردینا بے راہ روی پے چل کر راہ ِارتداد اختیار کرنا اس نعمت کو ٹھکرا نا اسکی ناقدری کرنا بھی بہت بڑا جرم ہے اور اس کی سزا بھی بہت سخت ہے اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔۔
آجکل سوشل میڈیا کا دور دورہ ہر خاص و عام چھوٹا ہو یا بڑا مرد ہو یا عورت تقریبا عوام الناس کا ہر فردِ بشر اس سے واقفیت رکھتا ہے ۔
محترم قارئین : دور حاضر میں ایک ارتداد نامی فتنہ ہمارے ملک ہندوستان میں بام عروج پر ہے
آئے دن سوشل میڈیا کے توسل سے ایسے ویڈیوز موصول ہوتے رہتے ہیں کہ میں فلاں بنت فلاں ہوں میرا تعلق ایک مسلم گھرانے سے ہے میرے اوپر نہ کسی طریقہ کا کوئی زور ہے نہ کسی کا کوئی دباؤ ہے میں اپنی مرضی سے اپنا دھرم تبدیل کر رہی ہوں / کررہا ہوں عیاذا باللہ ۔
اس کا شکار زیادہ تر ہمارے معاشرے کی وہ لڑکیاں ہیں جو ایسے کالجوں میں زیر تعلیم ہیں جہاں کا نظام ِ تعلیم مخلوط ہے توسع اور لبرل کے نام پر بے حیائی و نگیاپن کا مرکز ہے ایک منظم سازش کے تحت ان کالجوں میں مسلم لڑکیوں کے درمیان ایسے پروردہ لڑکے چھوڑے جاتے ہیں جو مسلمان لڑکیوں کو اپنے فریب ِ عشق اور شکاری کے مانندایسے جال میں پھنسا تے ہیں کہ ان کومختلف قسم کے جھوٹے خواب دکھا کر اور دنیا کی رنگ رلیوں میں مدہوش وسرگرداں کرکے اور ان کی حقیقی زندگی کو دینی زندگیوں کو دین کے خلاف ایسا برانگیختہ کرتے ہیں کہ بلآخر وہ دینِ اسلام سے برگشتہ ہوکر دین مخالف بلکہ دین دروہی ہوجاتے ہیں اللھم احفظنا منہ ۔
اور یہ کوئی ایک یا دو جگہ کا حال نہیں بلکہ پورے ملک کے اندر ارتداد کی لہر بلکہ آندھی چلائی جا رہی ہے جو پورے ملک کو اپنے لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور اس سے متعلق مختلف قسم کے واقعات یومیہ رونما ہو رہے ہیں جو یقینا قابل فکر اور لائق افسوس ہیں ۔
آپ بخوبی واقف ہیں کہ اس سازش کے پس پردہ ملک کی مختلف تنظیمیں آر ایس ایس اور بجرنگ دل،شو سینا، اے بی ویپی وغیرہ اہم رول ادا کررہی ہیں بظاہر تو ان کے نام ایک دوسرے سے جدا ہیں اور ان کے پرچم مختلف ہیں لیکن ان سب کا مشن ایک ہے
! الکفر ملت واحدہ ! کو پیش نظر رکھیں۔۔
ان کا مشن صرف اور صرف مسلمانوں کو ایمان سے ہاتھ دھلوانا ہے یہ تو وہ تنظیمیں ہیں جن کے نام آپ جانتے ہیں لیکن ان کے علاوہ بہت سی ایسی تنظیمیں جو خاموشی کے ساتھ اپنے مشن کو آگے بڑھانے میں سرگرداں ہے یہ تنظیمیں طرح طرح سے بہلا پھسلا کر چند دن مسلم لڑکیوں کو اپنی بیوی بنا کر رکھتے ہیں بعدہٗ وہ حشر کرتے ہیں جو ناقابل بیان ہے ایسے ایسے مظالم کے پہاڑ توڑتے ہیں کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔۔
میری گزارش ہے کی ایسے بھیڑیوں کا نوالا بننے سے بچیں اور اہل وعیال کے نگراں ذمہ دار گھر کے بڑے فکر مند ہوکر اپنے گھر کے ماحول کو نورانی بنائیں نوافل و سنن کا گھر میں اہتمام کریں ذکر و تلاوت کا ماحول بنائیں ماؤں بہنوں اور بیٹے بیٹوں کو ایک ساتھ جمع کرکے پچیس تیس منٹ تک یومیہ تعلیم کریں تاکہ وہ دینی تعلیمات سے مانوس ہوں اور اپنی حیثیت و وقعت کو پہچانیں اور کوئی مناسب اور اچھے عنوانات پر مشتمل کتاب صحابہ و صحابیات کے واقعات اور بزرگان دین کی قربانیاں اور اسلام کی خوبیاں اور اس کی برتری بار بار پڑھ کر سنائیں تاکہ اسلام کی حقانیت و صداقت ان کے دل و دماغ میں رچ بس جائے اور رگ و ریشے میں پیوست ہوجائے اور ان کے ذہنوں سے اسلام کے متعلق فضول و لغو شکوک و شبہات لچر اور کمزور اشکال و اعتراضات ختم ہوجائیں اور اسی کے ساتھ ان کو شفقت کے ساتھ محبت سے میٹھے اور شریں لہجے میں سمجھائیں اور ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل و ذہنی الجھنوں کو بیٹھ کر سلجھائیں ان کی دلی باتوں کو سنیں اور ان کی رائے معلوم کریں بحسن خوبی حوصلہ افزائی کے ساتھ قدم قدم پر ان کی رہنمائی فرمائیں اور ان کو اس بات کا احساس و یقین دلائیں کہ ہمارے پاس الحمد للہ دنیا کی سب سے بڑی دولت و نعمت ہے جس وجہ سے ہم اپنے پروردگار اور پالنہار کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے اور اس کی حفاظت ہم سب کا حق ہے بلکہ ہر فرد کا ایمانی فریضہ ہے لہذا ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور بار گاہ الہی میں توبہ استغفار کے ساتھ کلمہ توحید کا بھی ورد رکھیں ان شاء اللہ اس کی برکت سے ہم تمام لوگوں پر مخالفین و ظالمین کے منصوبوں کا ذرہ برابر اثر نہیں ہوگا ان شاء اللہ ۔۔۔
मैं
م دین سپاہی
امی دا مارا
اور اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں عملی قدم بھی اٹھانا ہے اوراس ناپاک منصوبے کو روکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اگر اب بھی اس کے خلاف مضبوط قدم نہ اٹھایا گیا تو خدا کے یہاں جواب دہ ہونا پڑیگا۔۔۔
میری ان تمام تنظیموں سے گزارش ہے جو ہر دور میں مسلمانوں کی مسیحا رہی ہیں ہر مصیبت میں مسلمانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلی ہیں جن کا مشن ہی دین واسلام کی بقا ہے۔اگر ایک بڑی تعداد کو ارتداد سے محفوظ رکھنا ہے تو جلد از جلد اس فتنے کے خلاف کوئی تحریک چلانی ہوگی لوگوں کو اس فتنے سے روشناس کرانا ہوگا لوگوں کو ان سازشوں سے آگاہ کرانا ہوگا ورنہ یاد رکھیں آئے دن نہ معلوم کتنی عِلما ، ذکری ، زینب راہِ ارتداد اختیار کر کے اپنا نام کملا، وملا وجا، رکھتی رہیں دا نہ رے ایسے دن اللہ م سب و ایمان ر ائم رکھے اور امان ر اتمہ رمائے۔ مین
(نوٹ) تحریر و ادہ سے ادہ لوگوں تک نچائیں ونکہ بہت مسئلہ لوگوں و بیدار ریں ورنہ میںد