سورہ اخلاص کی تفسیر

 قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ


کہہ دو : (1) بات یہ ہے کہ اللہ ہر لحاظ سے ایک ہے۔ (2)


1: بعض کافروں نے حضور اقدس ﷺ سے پوچھا تھا کہ آپ جس خدا کی عبادت کرتے ہیں، وہ کیسا ہے ؟ اس کا حسب نسب بیان کر کے اس کا تعارف تو کرائیے۔ اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی (روح المعانی بحوالہ بیہقی و طبرانی وغیرہ)

 2: یہ قرآن کریم کے لفظ ”احد“ کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ صرف ”ایک“ کا لفظ اس کے پورے معنی ظاہر نہیں کرتا۔ ”ہر لحاظ سے ایک“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات اس طرح ایک ہے کہ اس کے نہ اجزاء ہیں، نہ حصے ہیں، اور نہ اس کی صفات کسی اور میں پائی جاتی ہیں۔ وہ اپنی ذات میں بھی ایک ہے، اور اپنی صفات میں بھی۔


30:1


اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ


اللہ ہی ایسا ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ (3)


3: یہ قرآن کریم کے لفظ ”اَلصَّمَدُ“ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس لفظ کا مفہوم بھی اردو کے کسی ایک لفظ سے ادا نہیں ہوسکتا۔ عربی میں ”صمد“ اس کو کہتے ہیں جس سے سب لوگ اپنی مشکلات میں مدد لینے کے لیے رجوع کرتے ہوں، اور سب اس کے محتاج ہوں، اور وہ خود کسی کا محتاج نہ ہو۔ عام طور سے اختصار کے پیش نظر اس لفظ کا ترجمہ ”بےنیاز“ کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ اس کے صرف ایک پہلو کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ لیکن یہ پہلو اس میں نہیں آتا کہ سب اس کے محتاج ہیں۔ اس لیے یہاں ایک لفظ سے ترجمہ کرنے کے بجائے اس کا پورا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔


30:2


لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ


نہ اس کی کوئی اولاد ہے، اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ (4)


4: یہ ان لوگوں کی تردید ہے جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے، یا حضرت عیسیٰ یا حضرت عزیر (علیہما السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔


30:3


وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠


اور اس کے جوڑ کا کوئی نہیں۔ (5)


5: یعنی کوئی نہیں ہے جو کسی معاملے میں اس کی برابری یا ہمسری کرسکے۔ اس سورة کی ان چار مختصر آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی توحید کو انتہائی جامع انداز میں بیان فرمایا گیا ہے، پہلی آیت میں ان کی تردید ہے جو ایک سے زیادہ خداؤں کے قائل ہیں، دوسری آیت میں ان کی تردید ہے جو اللہ تعالیٰ کو ماننے کے باوجود کسی اور کو اپنا مشکل کشا، کار ساز یا حاجت روا قرار دیتے ہیں، تیسری آیت میں ان کی تردید ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد مانتے ہیں، اور چوتھی آیت میں ان لوگوں کا ردّ کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی کسی بھی صفت میں کسی اور کی برابری کے قائل ہیں مثلاً بعض مجوسیوں کا کہنا یہ تھا کہ روشنی کا خالق کوئی اور ہے اور اندھیرا کا خالق کوئی اور ہے، اسی طرح اس مختصر سورت نے شرک کی تمام صورتوں کو باطل قرار دیکر خالص توحید ثابت کی ہے، اس لئے اس سورت کو سورة اخلاص کہا جاتا ہے، اور ایک صحیح حدیث میں اس کو قرآن کریم کا ایک تہائی حصہ قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ قرآن کریم نے بنیادی طور پر تین عقیدوں پر زور دیا ہے : توحید، رسالت اور آخرت اور اس صورت نے ان میں توحید کے عقیدے کی پوری وضاحت فرمائی ہے، اس سورة کی تلاوت کے بھی احادیث میں بہت فضائل آئے ہیں۔


30:4


Mk arshalan arha 



और नया पुराने