قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ
کہو (1) کہ : میں صبح کے مالک کی پناہ مانگتا ہوں۔
1: قرآن کریم کی یہ آخری دوسورتیں معو ّذتین کہلاتی ہیں، یہ دونوں سورتیں اس وقت نازل ہوئی تھیں جب کچھ یہودیوں نے حضور اکرم ﷺ پر جادو کرنے کی کوشش کی تھی، اور اس کے کچھ اثرات آپ پر ظاہر بھی ہوئے تھے، ان سورتوں میں آپ کو جادو ٹونے سے حفاظت کے لئے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ ما نگنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور کئی احادیث سے ثابت ہے کہ ان سورتوں کی تلاوت اور ان سے دم کرنا جادو کے اثرات دور کرنے کے لئے بہترین عمل ہے اور حضور نبی کریم ﷺ رات کو سونے سے پہلے ان سورتوں کی تلاوت کرکے اپنے مبارک ہاتھوں پر دم کرتے اور پھر ان ہاتھوں کو پورے جسم پر پھیر لیتے تھے۔
30:1
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ
ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔
30:2
وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ
اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے۔ (2)
2: اندھیری رات کے شر سے خاص طور پر اس لئے پناہ مانگی گئی ہے کہ عام طور پر جادوگروں کی کاروائیاں رات کے اندھیروں میں ہوا کرتی ہیں۔
30:3
وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ
اور ان جانوں کے شر سے جو (گنڈے کی) گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔ (3)
3: جانوں کے شر سے، جانوں کے لفظ میں مرد اور عورت دونوں داخل ہیں، جادو گر مرد ہوں یا عورت، دھاگے کے گنڈے بناکر اس میں گرہیں لگاتے جاتے ہیں اور ان پر کچھ پڑھ پڑھ کر پھو نکتے رہتے ہیں۔ ان کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔
30:4
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠
اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
30:5
Arhanarshlan