Surah AZ ZILZAL ka tarjuma

 

Surah AZ ZILZAL ka tarjuma 


اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ


جب زمین اپنے بھونچال سے جھنجھوڑ دی جائے گی۔




30:1


وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ


اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی۔ (1)


.

1: یعنی سارے مردے جو زمین میں دفن

 ہیں، وہ باہر آجائیں گے اور زمین میں جو

 خز انے دفن ہیں، زمین ان کو بھی اگل دے

 گی۔ ایک حدیث میں ہے کہ جس کسی نے

 مال کی خاطر کسی کو قتل کیا ہوگا، یا

 جس نے مال و دولت کی خاطر رشتہ

 داروں کا حق پامال کیا ہوگا، یا اس کی

 خاطر چوری کی ہوگی، وہ اس مال کو

 دیکھ کر یہ کہے گا کہ یہ ہے وہ مال جس

 کی وجہ سے میں نے یہ گناہ کئے تھے پھر

 کوئی بھی اس سونے اور چاندی کی طرف

 توجہ نہیں دے گا۔


30:2


وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ


اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ؟




30:3


یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ


اس دن زمین اپنی ساری خبریں بتادے گی۔ (2)


2: زمین پر کسی نے جو اچھے یا برے عمل

 کئے ہوں گے زمین ان کی گواہی دے گی۔


30:4

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ


کیونکہ تمہارے پروردگار نے اسے یہی حکم دیا ہوگا۔




30:5


یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ


اس روز لوگ مختلف ٹولیوں میں واپس

 ہوں گے، تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھا دیے جائیں۔ (3)


3: واپس آنے سے مراد قبروں سے نکل کر

 میدان حشر کی طرف جانا بھی ہوسکتا ہے،

 اس صورت میں اعمال دکھانے کا مطلب یہ

 ہوگا کہ اعمال نامہ دکھا دیا جائے گا۔ اور

 واپسی کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ

 حساب و کتاب سے فارغ ہو کر مختلف

 حالتوں میں واپس آئیں گے تاکہ انہیں ان

 کے اعمال کا نتیجہ دکھادیا جائے۔ نیک

 لوگوں کو اپنی نیکیوں کا انعام دکھادیا

 جائے گا اور برے لوگوں کو ان کے اعمال

 کی سزا دکھادی جائے گی۔



30:6

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ


چنانچہ جس نے ذرہ برابر کوئی اچھائی کی

 ہوگی وہ اسے دیکھے گا۔




30:7


وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠


اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی،

 وہ اسے دیکھے گا۔ (4)


4: بُرائی سے مراد وہ برائی ہے جس سے

 کسی شخص نے دنیاوی زندگی میں اس

 سے توبہ نہ کی ہو، کیونکہ سچی توبہ سے

 گناہ معاف ہو کر ایسے ہوجاتے ہیں جیسے

 وہ کئے ہی نہیں تھے اور سچی توبہ میں یہ

 بات بھی داخل ہے کہ جس گناہ کی تلافی

 ممکن ہو اس کی تلافی بھی کی جائے، مثلاً

 کسی کا حق ہے تو اسے دیدیا جائے، یا اس

 سے معاف کرالیا جائے، یا فرائِض چھوٹے

 ہیں تو ان کی قضا کرلی جائے۔



30:8


Arhan Arsalan 

और नया पुराने