اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ
ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر (دنیا کا عیش) حاصل کرنے کی ہوس نے تمہیں غلفت میں ڈال رکھا ہے۔ (1)
1: یعنی دنیا سمیٹنے کی دھن میں لگ کر تم آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔
30:1
حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ
یہاں تک کہ تم قبرستانوں میں پہنچ جاتے ہو۔
30:2
كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ
ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ تمہیں عنقریب سب پتہ چل جائے گا۔
30:3
ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ
پھر (سن لو کہ) ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ تمہیں عنقریب سب پتہ چل جائے گا۔
30:4
كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ
ہرگز نہیں ! اگر تم یقینی علم کے ساتھ یہ بات جانتے ہوتے (تو ایسا نہ کرتے)
30:5
لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ
یقین جانو تم دوزخ کو ضرور دیکھو گے۔ (2)
2: جو لوگ جنت میں جائیں گے، انہیں بھی دوزخ دکھائی جائے گی، تاکہ انہیں جنت کی صحیح قدر معلوم ہو۔ دیکھئے سورة مریم : 17
30:6
ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ
پھر یقین جانو کہ تم اسے بالکل یقین کے ساتھ دیکھ لو گے۔
30:7
ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠
پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا (کہ ان کا کیا حق ادا کیا) (3)
3: یعنی دنیا میں جو نعمتیں میسر تھیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیسے ادا کیا ؟ اور اس کی کس طرح فرماں برداری کی۔
30:8