Surah asr ka tarjuma

 وَ الْعَصْرِۙ


زمانے کی قسم۔ (1)


1: یعنی زمانے کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو لوگ ایمان اور نیک عمل سے محروم ہوتے ہیں، وہ بڑے گھاٹے میں ہیں اس لئے کہ ایسی بہت سی قوموں کو دنیا ہی میں آسمانی عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ہر زمانے میں اللہ کی نازل کی ہوئی کتابیں اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبر خبر دار کرتے رہے ہیں کہ اگر ایمان اور نیک عمل کی رَوِش اختیار نہ کی گئی تو آخرت میں بڑا سخت عذاب انسان کا منتظر ہے۔


30:1

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ


انسان درحقیقت بڑے گھاٹے میں ہے۔




30:2


اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠


سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کریں، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں۔ (2)


2: اس سے معلوم ہوا کہ خود نیک بن جانا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اپنے اپنے اثرو رسوخ کے دائرے میں دوسروں کو حق بات اور صبر کی تلقین کرنا بھی ضروری ہے، صبر قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کی دلی خواہشات اسے کسی فریضے کی ادائیگی سے روک رہی ہوں یا کسی گناہ پر آمادہ کررہی ہوں اس وقت ان خواہشات کو کچلا جائے، اور جب کوئی ناگوار بات سامنے آئے تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر اعتراض سے اپنے آپ کو روکا جائے، ہاں تقدیر کا شکوہ کئے بغیر اس ناگوار چیز کے تدارک کی جائز تدبیر کرنا صبر کے خلاف نہیں ہے۔ مزید دیکھئے سورة آل عمران کی آخری آیت پر ہمارا حاشیہ۔


30:3



और नया पुराने