Surah al aadiyaat Ka trjuma
وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ
قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپ ہانپ کر دوڑتے ہیں۔
30:1
فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ
پھر جو (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں اڑاتے ہیں۔
30:2
فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ
پھر صبح کے وقت یلغار کرتے ہیں۔
30:3
فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ
پھر اس موقع پر غبار اڑاتے ہیں۔
30:4
فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ
پھر اسی وقت کسی جمگھٹے کے بیچوں بیچ جاگھستے ہیں۔ (1)
1: اس سے مراد وہ جنگی گھوڑے ہیں جن پر سوار ہو کر اس زمانہ میں لڑائیاں لڑی جاتی تھیں، اس کی قسم کھانے میں یہ اشارہ ہے کہ یہ گھوڑے اپنے مالکوں کے اتنے وفادار ہوتے تھے کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اپنے مالکوں کے حکم کی تعمیل بھی کرتے تھے، اور ان کی جان کی حفاظت بھی
، اللہ تعالیٰ نے اتنے مضبوط جانور کو انسان کا ایسا تابع اور وفادار بنادیا ہے، گنہگار انسان کو یاد دلایا جارہا ہے کہ اپنے مالک اور خالق کے اس احسان کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے پروردگار کا اتنا بھی وفادار نہیں جتنے اس کے گھوڑے اس کے وفادار ہوتے ہیں، چنانچہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ انسان یعنی گنہگار انسان بڑا ناشکرا ہے۔
30:5
اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ
کہ انسان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔
30:6
وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ
اور وہ خود اس بات کا گواہ ہے۔ (2)
2: یعنی اس کا طرز عمل گواہی دیتا ہے کہ وہ ناشکرا ہے۔
30:7
وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ
اور حقیقت یہ ہے کہ وہ مال کی محبت میں بہت پکا ہے۔ (3)
3: اس سے مراد مال کی وہ محبت ہے جو انسان کو اپنے دینی فرائض سے غافل کردے، یا گناہوں میں مبتلا کردے۔
30:8
اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ
بھلا کیا وہ وقت اسے معلوم نہیں ہے جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے باہر بکھیر دیا جائے گا۔
30:9
وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ
اور سینوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کردیا جائے گا۔ (4)
4: یعنی مردوں کو قبروں سے نکال دیا جائے گا، اور لوگوں کے سینوں میں چھپے راز کھل جائیں گے۔
30:10
اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠
یقینا ان کا پروردگار اس دن ان (کی جو حالت ہوگی اس) سے پوری طرح باخبر ہے۔
30:11
.. arhanarshlan khan