فخرِرسولﷺ سیدنا حسن بن علیؓ

 فخرِ رسولﷺ سیدنا حسن بن علیؓ 


  

نواسۂ رسول سیدنا حسن بن علیؓ تاریخ کی ان چند مظلوم شخصیات میں سے ایک ہیں جن کے کارنامے کئی زیادہ ہیں لیکن تعصب اور تقابل کے تحت کبھی ان کو اجاگر نہیں ہونے دیا گیا۔ اہل تشیع نے سیدنا معاویہؓ سے صلح کرنے کے "جرم" میں ان کو "مذل المومنین" کا لقب دے کر تاریخ میں ان کے کردار پر گرد ڈالنے کی کوشش کی تو اہل سنت نے سیدنا حسینؓ کی مظلومیت کے بہانے سیدنا حسنؓ کے کارناموں کو غبارِ راہ بنا کر کبھی درخور اعتناء ہی نہ سمجھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے اس بطلِ جلیل کی مسلمانوں کے لئے خدمات نے اس کو صحیح معنوں میں اپنے نانا نبی کریمﷺ کا جانشین ثابت کیا جس کے ہاتھوں آپﷺ کی پیشنگوئی پوری ہوئی ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ یعنی "میرا یہ بیٹا سیّد ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کروا دے گا"(صحیح بخاری)۔ اسی تناظر میں ہماری آج کی یہ مختصر سی تحریر سیدنا حسن بن علیؓ کی جناب میں ایک چھوٹا سا خراجِ تحسین ہے۔

 مؤرخین کی تصریحات کے مطابق سیدنا حسن بن علیؓ کی پیدائش رمضان ۳ ہجری کی ہے (سیر اعلام النبلاء جلد ۳ صفحہ ۲۴۶) تاہم محدثین کی تصریحات کے مطابق سیدنا حسن ؓ کی پیدائش فتح خیبر کے بعد ۷ ہجری کی ہے کیونکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ سیدنا حسنؓ کی پیدائش پر دایہ گیری کی خدمات سیدہ اسماء بنت عمیسؓ نے انجام دیں تھی جو کہ فتح خیبر کے موقع پر اپنے شوہر سیدنا جعفر بن ابی طالبؓ کے ساتھ حبشہ سے مدینہ وارد ہوئی تھیں( صحیح بخاری)۔ ڈاکٹر علی الصلابی اپنی کتاب "سیدنا حسن بن علیؓ ۔ شخصیت و کارنامے" کے صفحہ ۴۵ پر لکھتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ کو سیدہ ام فضل لبابہ بنت الحارثؓ نے دودھ پلایا تھا، اس سلسلے میں وہ حدیث لائے ہیں کہ سیدنا لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اپنا کپڑا مجھے دیجئے اور خود کوئی اور کپڑا پہن لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لڑکے کے پیشاب سے تو چھینٹے مارے جاتے ہیں اور لڑکی کے پیشاب کی وجہ سے( کپڑا) دھویا جاتا ہے۔(كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا ۔بَابُ مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يُطْعَمْ، حدیث نمبر ۵۲۲) ۔ انہوں نے اس کے لئے مستدرک حاکم کا حوالہ دیا ہے جبکہ یہ روایت ابن ماجہ میں بھی حسن سند کے ساتھ موجود ہے۔ تاہم مستدرک میں راوی نے اس دودھ پینے والے بچے کو حسن بن علیؓ قرار دیا ہے جبکہ ابن ماجہ کی روایت میں راوی کو یقین نہیں کہ یہ بچہ حسن ؓتھا یا حسینؓ۔ اگر ڈاکٹر علی الصلابی کی تحقیق مانی جائے تو سیدنا حسنؓ کی پیدائش ۷ ہجری کی ہی مانی جائے گی کیونکہ ۸ ہجری میں سیدنا حسنؓ کی عمر ایک شیر خوار بچے کی ہوگی جس کو دودھ پلایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ سیدہ لبابہ بنت الحارثؓ سیدنا عباس بن عبدالمطلب ؓ کی زوجہ تھیں اور یہ جوڑا فتح مکہ کے موقع پر مدینہ ہجرت کرکے آیا تھا سو سیدہ لبابہؓ کا یہ واقعہ ہر حال میں فتح مکہ کے بعد کا ہی ہوگا جس میں تصریح ہے کہ سیدنا حسنؓ شیر خوار بچے تھے گویا دو سال یا اس سے چھوٹی عمر کے کیونکہ ان کے پیشاب پر نبی ﷺ نے چھینٹے مار کر پاکی حاصل کی، دھوکر نہیں۔ جبکہ جب لڑکے کی غذا دودھ کی جگہ اناج ہوجائے یعنی وہ شیر خوارگی کے ایام سے باہر نکل آئے تو اس وقت اس کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اس روایت کو نقل کرکے خود ڈاکٹر علی الصلابی تضاد بیانی کا شکار ہوگئے کیونکہ اپنی اسی کتاب کے صفحہ ۳۵ پر وہ لکھتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ کی پیدائش رمضان ۳ ہجری کی ہے۔ اب رمضان ۳ ہجری میں پیدا ہونے والے بچے کو جس کی عمر رمضان ۸ ہجری میں پورے ۵ سال ہوچکی ہوگی، سیدہ ام فضلؓ جو کہ فتح مکہ کے موقع پر مدینہ تشریف لائیں کیونکر دودھ پلاسکتی ہیں۔ اسی لئے اس بابت درست بات یہی لگتی ہے کہ سیدہ ام فضلؓ کا دودھ پلانے کا واقعہ سیدنا حسنؓ سے نہیں بلکہ سیدنا حسینؓ سے متعلق ہے۔ تاہم یہ بات درست ہے کہ سیدنا حسنؓ کی پیدائش پر سیدہ فاطمہؓ کی دایہ گیری کی خدمات انہیں ام فضل بنت الحارثؓ کی ماں جائی بہن سیدہ اسماء بنت عمیسؓ نے انجام دیں تھی جو کہ اپنے شوہر سیدنا جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ فتح خیبر کے موقع پر ۷ ہجری میں حبشہ سے مدینہ آئی تھیں۔ اس بات کی تائید صحیح بخاری کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو کہ دورِ خلافتِ ابو بکرؓ کا واقعہ بیان کرتی ہے کہ صَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَصْرَ ، ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي فَرَأَى الْحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَقَالَ : بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ لَا شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ یعنی سیدنا ابوبکر ؓعصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا کہ سیدنا حسن ؓبچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آپ نے ان کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: میرے باپ تم پر قربان ہوں تم میں نبی کریم ﷺکی شباہت ہے علی کی نہیں۔ یہ سن کر سیدنا علی ؓہنس رہے تھے ۔ اس روایت میں مع الصبیان کا لفظ آیا ہے اور عربی میں صبی ایسے بچے کو کہتے ہیں جو سنِ تمیز کو نہ پہنچا ہو یعنی پانچ چھ سال کا ہو کیونکہ جب بچہ بات سمجھنے لگتا ہے تو اس کو عربی میں غلام بلایاجاتا ہے۔ المختصر ان تمام دلائل سے محدثین کی بات ہی راجح محسوس ہوتی ہے کہ سیدنا حسن بن علیؓ کی پیدائش ۷ ہجری کی ہے واللہ اعلم۔

 اس تفصیل کا مقصد صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ ان تمام تصریحات کے تحت سیدنا حسن بن علیؓ کی صحابیت ثابت ہوتی ہے سو جو لوگ سیدنا حسن ؓ کو صحابی نہیں تابعی باور کرواتے ہیں، ان کا موقف راجح معلوم نہیں ہوتا ۔ سیدنا حسنؓ کا شمار صغار صحابہؓ میں ہوتا تھا جنہوں نے نبی ﷺ کی گود میں پرورش پائی اور نبی ﷺ کی زندگی میں اتنے بڑے تھے کہ بھاگتے دوڑتے تھے جیسا کہ امام ابن ماجہ كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ بِرِّ الْوَالِدِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ میں حدیث نمبر ۳۶۶۶ لیکر آئے ہیں:

’’ یعلی(بن مرہ)عامری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا:حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہمادوڑے دوڑے نبی ﷺ کے پاس آئے ۔آپ نے انہیں سینے سے لگایا لیا اور فرمایا: اولاد بخل اور بزدلی کا باعث ہے۔۔ سندہ صحیح‘‘

 سیدنا حسن و حسینؓ کے پیدا ہونے پر نبی ﷺ نے ساتویں دن ان کا عقیقہ کیا اور سیدہ فاطمہ ؓ نے ان کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی۔ (موطا امام مالک، کتاب العقیقہ) سیدنا حسن و حسینؓ کا زیادہ وقت نبی ﷺ کے پاس ہی گزرتا تھا جیسا کہ صحیح احادیث میں تصریح ہے کہ نبی ﷺ جب سجدے کی حالت میں جاتے تو حسن و حسینؓ آپﷺ کی پیٹھ پر سوار ہوجاتے تھے۔ جامع ترمذی، کتاب الصلوٰۃ باب ماجاء فی صلاۃ القنوت فی الوتر میں سیدنا حسنؓ کی روایت موجود ہے کہ سیدنا حسنؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے مجھے وتر میں پڑھے جانے والے کلمات سکھائے، اسی طرح مسند احمد اور مصنف عبدالرزاق کی روایت میں مروی ہے کہ ابو الحوراء کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسنؓ سے پوچھا کہ آپ کو نبی ﷺ کی کوئی بات یاد ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں، ایک دفعہ میں نے صدقہ کی کھجوروں میں سےایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی تھی تو آپﷺ نے اپنی انگلیاں میرے منہ میں ڈال کر اسکو لعاب سمیت باہر نکال لیا تھا۔صحیح بخاری کی روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپﷺ سیدہ فاطمہؓ کے گھر گئے اور بار بار سیدنا حسنؓ کی متعلق پوچھا کہ وہ بچہ کہاں ہے وہ بچہ کہاں ہے، اتنے میں سیدنا حسنؓ بھاگتے ہوئے آئے، آپﷺ نے ان کو سینے سے لگا لیا اور بوسہ لیا، پھر فرمایا اے اللہ! اسے محبوب رکھ اور اس شخص کو بھی محبوب رکھ جو اس سے محبت رکھے۔ اسی طرح صحیح بخاری کی ایک روایت میں سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کے الفاظ ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ حسنؓ و حسینؓ میرے دو پھول ہیں۔ اسی طرح سے سنن نسائی کی روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ صلوٰۃ میں حسنؓ و حسینؓ نبی ﷺ کی پیٹھ پر چڑھ گئے، گھر والوں نے اتارنا چاہا تو آپﷺ نے اشارے سے منع فرمایا اور صلوٰۃ سے فارغ ہونے کے بعد دونوں کو اپنی گود میں بٹھا کر پیار کیا اور فرمایا کہ جسے مجھ سے محبت ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ ان دونوں سے بھی محبت کرے۔ الغرض سیدنا حسنؓ کی فضیلت و منقبت میں کئی صحیح روایات مروی ہیں جو کہ یہ ثابت کرتی ہیں کہ سیدنا حسنؓ سے کسی طور کا بھی بغض رکھنے والے کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیئے۔

 نبی ﷺ کے عہد میں چند اشخاص کی نبی ﷺ سے خصوصی مشابہت محسوس ہوتی تھی جن میں ایک سیدنا جعفر بن ابی طالبؓ اور سیدنا حسن بن علیؓ بھی تھے۔ صحیح بخاری میں سیدنا انسؓ سے روایت مروی ہے کہ سیدنا حسنؓ نبی ﷺ کے مشابہ تھے۔ سیدنا ابو بکر ؓ اور سیدنا عمرؓ کے ادوار میں سیدنا حسنؓ صغیر سن تھے، اس لئے ان ادوار میں ان کی کسی جہادی سرگرمی کا پتہ نہیں چلتا۔ تاہم سیدنا عثمانؓ کے عہدِ خلافت میں وہ عالمِ شباب کو پہنچ چکے تھے سو اس دور میں ہونے والے جہادوں میں ان کی شمولیت کا کئی مؤرخین نے تذکرہ کیا ہے۔ فتح افریقہ میں دیگر صحابہ کرامؓ کے ساتھ ساتھ سیدنا حسن ؓ بھی شامل تھے (ریاض النفوس جلد ۱ صفحہ ۹)۔ اسی طرح سے سیدنا عثمانؓ کے دور میں جتنے جہادی معرکے ہوئے ان میں سے بیشتر میں سیدنا حسنؓ موجود تھے اور آپ نے ان تمام میں کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ ۳۰ ہجری میں سیدنا عثمانؓ کے دور میں سیدنا سعید بن العاص امویؓ کی ماتحتی میں سیدنا حسنؓ اہل طبرستان کے خلاف فوج کشی میں شامل رہے اور خراسان، اسفرائن، نیشاپور، اہواز، کرمان، سجستان ان سب کی فتوحات میں سعید بن العاصؓ اور سعید بن عامرؓ کی سرکردگی میں کارہائے نمایاں انجام دئیے (طبری، ابن اثیر، فتوح البلدان)۔ ایران کی ان فتوحات سے پہلے سیدنا حسنؓ سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرحؓ کی سپہ سالاری میں طرابلس کے جہاد میں بھی دادِ شجاعت دے چکے تھے۔ طبری لکھتے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ نے عبداللہ بن سعدؓ کی مدد کو مدینہ سے جو فوج بھیجی تھی اس میں سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ، سیدنا عمرو بن العاصؓ وغیرہ کے ساتھ ساتھ حضرات حسنینؓ بھی شامل تھے اور پھر یہی سے وہ ایران کی مہمات میں شامل ہونے کی غرض سے سیدنا سعید بن العاصؓ کے لشکر کی طرف چل پڑے تھے۔ سیدنا عثمانؓ کے عہدِ اواخر میں جب باغیوں نے سیدنا عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کیا تو سیدنا علی ؓ نے سیدنا حسن ؓ و سیدنا حسینؓ کو ان کے دروازے پر حفاظت کے لئے مامور کیا، جس بناء پر باغیوں سے لڑتے ہوئے سیدنا حسنؓ زخمی بھی ہوئے( البدایہ و النہایہ)۔

 سیدنا حسنؓ شروع سے ہی نہایت ذکی، فہیم اور صلح جو طبیعت کے مالک تھے۔ آپؓ اپنے والد سیدنا علیؓ کے بہت فرمانبردار تھے اور کئی مواقع پر ان کی سیاسی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے کے باوجود ایک مطیع بیٹے ہونے کی حیثیت سے ان کے ساتھ رہے۔ البدایہ والنہایہ اور طبری میں تصریح موجود ہے کہ انہوں نے اپنے والد سیدنا علیؓ کو دارلخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل کرنے سے منع فرمایا اور اسی لئے ابتداء میں ان کے ساتھ نہیں گئے لیکن پھر ایک مطیع و فرمانبردار بیٹے کی طرح والد کے ساتھ میں ہی عافیت جانی اور مقامِ ربذہ میں جاکر ان سے ملے۔ اسی طرح سیدنا حسنؓ جنگِ جمل اور صفین کے بھی خلاف تھے اور ان دونوں جنگوں میں انہوں نے مفاہمانہ کوششیں کرکے جنگ بندی کی سعی بھی کی جس کو سبائیوں نے ناکام بنادیا۔ تاہم ان دونوں جنگوں کے دوران آپ نے نہایت سلجھے ہوئے کردار کا مظاہرہ کیا۔ سنن سعید بن منصور میں روایت ہے کہ سیدنا مروانؓ کو جنگ جمل والے روز سیدنا علیؓ سے سفارش کرواکر سیدنا حسنؓ نے امان دلوائی تھی اور اسی حسنِ سلوک سے متاثر ہوکر سیدنا مروانؓ پھر دوبارہ کبھی سیدنا علیؓ کے مقابل نہیں آئے اور جنگِ صفین اور تحکیم میں ان کا کوئی نام و تذکرہ نہیں ملتا۔

 سیدنا علیؓ کے انتقال کے بعد سیدنا حسنؓ خلیفہ بنتے ہیں تو نبی ﷺ کی اس پیشن گوئی کے پورا ہونے کا وقت آجاتا ہے جس میں آپﷺ نے اپنے اس نواسے کو "سّید" قرار دیکر مسلمانوں کے دو گروہوں کے مابین صلح کروانے والا بتایا تھا۔ امام بخاری اپنی صحیح میں اس بابت ایک طویل روایت لائے ہیں کہ حسن بصری کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی جب حسن بن علی ؓ( معاویہ ؓکے مقابلے میں ) پہاڑوں میں لشکر لے کر پہنچے، تو عمرو بن العاص ؓنے کہا کہ میں ایسا لشکر دیکھ رہا ہوں جو اپنے مقابل کو نیست و نابود کیے بغیر واپس نہ جائے گا۔ معاویہؓ نے اس پر کہا اور قسم اللہ کی، وہ ان دونوں اصحاب میں زیادہ اچھے تھے، کہ اے عمرو! اگر اس لشکر نے اس لشکر کو قتل کر دیا، یا اس نے اس کو قتل کر دیا، تو لوگوں کے امور کی میرے ساتھ کون ذمہ داری لے گا، لوگوں کی بیوہ عورتوں کی خبرگیری کے سلسلے میں میرے ساتھ کون ذمہ دار ہو گا۔ لوگوں کی آل اولاد کے سلسلے میں میرے ساتھ کون ذمہ دار ہو گا۔ آخر معاویہ ؓنے حسن ؓکے یہاں قریش کی شاخ بنو عبد شمس کے دو آدمی بھیجے۔ عبدالرحمٰن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز، آپ نے ان دونوں سے فرمایا کہ حسن بن علی ؓکے یہاں جاؤ اور ان کے سامنے صلح پیش کرو، ان سے اس پر گفتگو کرو اور فیصلہ انہیں کی مرضی پر چھوڑ دو۔ چنانچہ یہ لوگ آئے اور آپ سے گفتگو کی اور فیصلہ آپ ہی کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ حسن بن علی ؓنے فرمایا، ہم بنو عبدالمطلب کی اولاد ہیں اور ہم کو خلافت کی وجہ سے روپیہ پیسہ خرچ کرنے کی عادت ہو گئی ہے اور ہمارے ساتھ یہ لوگ ہیں، یہ خون خرابہ کرنے میں طاق ہیں، بغیر روپیہ دئیے ماننے والے نہیں۔ وہ کہنے لگے امیر معاویہ ؓآپ کو اتنا اتنا روپیہ دینے پر راضی ہیں اور آپ سے صلح چاہتے ہیں۔ فیصلہ آپ کی مرضی پر چھوڑا ہے اور آپ سے پوچھا ہے۔ حسن ؓ نے فرمایا کہ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ان دونوں قاصدوں نے کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ حسنؓ نے جس چیز کے متعلق بھی پوچھا، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ آخر آپ نے صلح کر لی، پھر فرمایا کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا تھا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے سنا ہے اور حسن بن علی ؓآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی حسن ؓ کی طرف اور فرماتے کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور شاید اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔ 

 اور یوں سیدنا حسنؓ نے ایک خلیفہ راشد ہونے کا بھرپور ثبوت دیتے ہوئے امت کی فلاح کی خاطر بارِ خلافت سیدنا معاویہؓ کے سپرد کردیا اور یوں خلافتِ راشدہ کا تاج سیدنا معاویہؓ کے سر پر جا کر سجا۔ سیدنا حسنؓ پورے دورِ سیدنا معاویہؓ میں سیدنا معاویہؓ کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے رہے۔سیدنا معاویہؓ کے دور میں ہونے والے بیشتر غزوات میں اپنی زندگی کے آخری ایام تک سیدنا حسن ؓ شریک رہے۔ علامہ ابن کثیر دمشقی اپنی کتاب البدایہ و النہایہ کی جلد ۸ میں سیدنا حسن بن علیؓ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ سیدنا حسن بن علیؓ کا بے انتہا اعزاز و اکرام کرتے تھے اور آپ پر فدا ہوتے تھے، سیدنا عمر بن خطابؓ کا بھی یہی حال تھا اور انہوں نے اہل بدر کے ساتھ ساتھ سیدنا حسن و حسینؓ کے لئے بھی پانچ ہزار درہم کا وظیفہ مقرر کیا تھا۔ یوم الدار والے روز جب سیدنا حسنؓ سیدنا عثمانؓ کی حفاظت پر مامور تھے تو سیدنا عثمانؓ کو ان کی جان کا خطرہ محسوس ہوا اور ان کو قسم دیکر واپس سیدنا علیؓ کے پاس بھیج دیا۔ سیدنا علیؓ بھی سیدنا حسنؓ کا بہت اعزاز و اکرام کرتے تھے اور آپ کی تقریر سے از حد متاثر تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سیدنا حسنؓ کا اتنا اکرام کرتے تھے کہ جب وہ سواری پر سوار ہوتے تو ان کی رکاب پکڑنے کو خود کے لئے باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ فرمایا کرتے تھے کہ ماؤں نے حسن بن علیؓ جیسا بچہ نہیں جنا۔ سیدنا معاویہؓ بھی آپ کا بے حد اعزاز و اکرام کرتے تھے اور آپ کو ہر سال چار لاکھ درہم وظیفہ دیتے تھے اور ایک دفعہ ایک ساتھ بیس لاکھ درہم وظیفہ دیا۔سیدنا حسنؓ مسجدِ نبویﷺ میں صلوٰۃ الفجر ادا کرنے کے بعد مصلیٰ پر بیٹھ کر ذکرِ الہٰی میں مشغول رہتے یہاں تک کہ سورج بلند ہوجاتا ۔ پھراشرافِ مدینہ آپ کے پاس گفتگو کرنے بیٹھ جاتے، ان سے فارغ ہونے کے بعد وہ امہات المومنین کے پاس جاتے اور انہیں سلام کرکے خیریت دریافت کرتے۔ بسااوقات وہ آپ کو تحائف دیتیں ، پھر آپ اپنے گھر لوٹ جاتے۔ سیدنا حسنؓ میں سخاوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، ایک دفعہ ایک سیاہ فام غلام کو دیکھا جو اپنی روٹی کا ایک لقمہ خود کھاتا اور ایک اپنے کتے کو کھلاتا۔ آپ اس کے اس عمل سے اس قدر متاثر ہوئے کہ غلام کے مالک سے نہ صرف اس غلام کو خرید کر آزاد کردیا بلکہ اپنے مالک کی طرف سے وہ غلام جس باغ کی رکھوالی پر متعین تھا، وہ بھی خرید کر اس غلام کی ملکیت میں دیدیا۔ آپ نے کثیر تعداد میں نکاح کئے اور ہر وقت آپ کے نکاح میں چار خواتین رہتی تھیں۔ (خلاصۂ کلام لابن کثیر)

 آپ کی بابت ضعیف روایات کے تحت مشہور کردیا گیا کہ آپؓ کی وفات زہر خورانی کے سبب ہوئی جو کہ آپ کی زوجہ جعدہ بنت اشعث بن قیس الکندی جو کہ ابو بکرؓ کی حقیقی بھانجی تھیں انہوں نے دشمنوں کے کہنے پر آپکو زہر دیکر شہید کردیا۔ اہل تشیع اس سلسلے میں سیدنا معاویہؓ کا نام لیتے ہیں کہ انہوں نے جعدہ کے ذریعہ سیدنا حسنؓ کو زہر دلوایا جبکہ سنی حضرات چونکہ سیدنا معاویہؓ کی صحابیت کے قائل ہیں سو وہ اس فرد جرم کو یزید بن معاویہ کے سر ڈالتے ہیں کہ امیر یزید بن معاویہؒ نے جعدہ کے ذریعے حسنؓ کو زہر دلوایا۔ جبکہ حقیقت میں کسی صحیح روایت سے یہ بات ثابت نہیں۔ آپ کی وفات کا طبعی طور پر ہونا ہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ آپ ؓ نے ۴۹ ہجری میں وفات پائی اور آپ کی صلوٰۃ المیت سیدنا سعید بن العاص امویؓ نے ادا فرمائی جو کہ اس وقت گورنرِ مدینہ )۔


और नया पुराने