New year aur khud ahtsabi


 نیا سال  اور خود احتسابی 


       نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعداعوذباللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم وَ الْعَصْرِۙ(۱)اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(۲)اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)

Islamijankari220 
    وقت کی بساط الٹتی جارہی ہے، ہم لوگ ۲۰۲۳ء کے دہانے پر کھڑے ہوئے ہیں، عام طور پر لوگ نئے سال کے آغاز کو ایک جشن کی صورت میں مناتے ہیں؛ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وقت افراد و اشخاص کے لئے بھی اداروں اور تنظیموں کے لئے بھی اور جماعتوں اورقوموں کے لئے بھی اپنے احتساب کا وقت ہے ، کہ انھوں نے اس عرصہ میں کیا کھویا اور کیا پایا ہے اور قت کی صورت میں جو عظیم نعمت اللہ نے انسان کو عطا فرما ئی ہے ، اس کا کس طور استعمال کیا ہے؟ جو قوم خود اپنا محاسبہ نہیں کر سکتی اور جو جماعت اپنا گریباں آپ تھامنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ، دوسرے ان کے گریبان تھامتے ہیں اور خیر و شر کا حساب کر کے اس کا بدلہ چکاتے ہیں ، لمحوں کی ناقدری سے بعض اوقات صدیوں کا نقصان ہوتا ہے اور قومیں زوال وانحطاط کے دلدل میں پھنستی چلی جاتی ہیں ۔
 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بہت سی نعمتیں اس کا ئنات میں دی ہیں ، ان میں ایک بہت بڑی نعمت وقت ہے ، انسان سمجھتا ہے کہ اس کی عمر بڑھ رہی ہے ، اس کے اوقات بڑھ رہے ہیں ؛ لیکن در حقیقت عمر گھٹتی جاتی ہے اور ہر لمحہ وقت کی متاع گراں مایہ اس کے ہاتھوں سے نکلتی جاتی ہے : islamijakari220
ہو رہی ہے عمر مثل برف کم
چپکے چپکے ، لمحہ لمحہ ، دم بہ دم
 وقت کی قدرو قیمت کا اندازہ اس سے لگایئے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کتنے ہی مقامات پر وقت کی قسم کھائی ہے ، کبھی رات اور صبح کی قسم کھائی گئی ، کبھی رات کے ساتھ شفق کی قسم کھائی گئی ، ( انشقاق : ۱۶-۱۷) کبھی فجر اور اس کے ساتھ دس راتوں کی ( الفجر : ۱-۲) کبھی دن کی روشنی اور رات کے چھاجانے کی (الضحیٰ: ۱- ۲) اور کبھی خود زمانہ کی، ( العصر : ۱) دنوں کی آمد و رفت اور سورج و چاند کے طلوع و غروب سے اوقات کا علم ہوتا ہے ، قرآن مجید نے جابجا اللہ کی نعمت کی حیثیت سے ان کا ذکر فرمایا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت میں انسان سے اس کی عمر کے بارے میں بھی سوال فرمائیں گے ، کہ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی ، جس میں نصیحت حاصل کرنے والے لوگ نصیحت حاصل کر سکیں ’’ أَوَلَمْ نُعَمِّرْکُم مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَن تَذَکَّرَ‘‘( الفاطر: ۳۷) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن آدمی سے اس بارے میں سوال کیا جائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری اور اپنی جوانی کو کس مقصد میں صرف کیا ؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : دو نعمتیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکہ میں مبتلا ہیں ، صحت اور فراغت ِوقت ۔
 سلف صالحین جنھوں نے اعلیٰ درجہ اور بلند قیمت علمی کام کئے ہیں ، اپنے وقت کے ایک ایک لمحہ کو وصول کرتے تھے اور ایک منٹ کا ضائع ہونا بھی ان کو گوارا نہیں تھا ، وہ آخر دم تک اپنے وقت کو مشغول رکھتے تھے ۔
▪️وقت کی بچت ایسے بھی ہوتی ہے!
ہم لوگ جس نعمت کی ناقدری کرتے ہیں وہ وقت ہے، پیسہ نہیں۔پیسہ تو وہ لوگ برباد کرتے ہیں جن کے پاس دولت ہوتی ہے، لیکن وقت پیسے والے،بغیر پیسے والے،علم والے اور بغیر علم والے بھی ضائع کرتے ہیں،ایک بزرگ کو کسی نے دیکھا کہ وہ مستقل ستو پھانک کر گزارہ کررہے ہیں،تو پوچھا کہ حضرت! آپ روٹی نہیں کھاتے، ستو پھانکتے ہیں، تو بزرگ نے فرمایا کہ میں نے حساب لگایا کہ ستو پھانکنے میں میرا اتنا وقت بچ جاتا ہے کہ میں ستر مرتبہ سبحان اللہ پڑھ لیتا ہوں،اس لئے میں نے روٹی کھانا چھوڑ دیا،وقت کی قدروقیمت اسے کہتے ہیں۔. Islamijankari220
▪️اہلِ علم اور وقت کی قدر
ایک بڑے محدث عبید بن یعیش گذرے ہیں جو امام بخاری اور امام مسلم کے اساتذہ میں ہیں ، ان کے بارے میں حافظ ذہبی نے نقل کیا ہے کہ تیس سال تک رات میں اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھایا ؛ بلکہ خود حدیث لکھنے میں مصروف رہتے اور بہن منھ میں لقمہ دیتی جاتی (سیراعلام النبلاء : ۱۱؍۴۵۸) 
 احمد بن یحی شہبانی عربی لغت ، ادب ، گرامر اور قراء ت وغیرہ کے بڑے نامی گرامی آدمی تھے اور ثعلب کے نام سے مشہور تھے ، ان کا حال یہ تھا کہ اگر دعوت دی جاتی تو داعی سے فرماتے کہ کھانے کے وقت ان کے لئے چمڑے کے تکیہ کی مقدار جگہ خالی رکھی جائے ، جس میں وہ کتاب رکھ کر مطالعہ کریں " امام ثعلب کا معمول تھا کہ راستہ چلتے بھی ہاتھ میں کتاب رہتی اور مطالعہ کرتے جاتے ؛ چنانچہ اسی طرح چل رہے تھے کہ گھوڑے نے ٹکر دی ، گر پڑے اور ایسی چوٹ آئی کہ دوسرے ہی دن وفات ہو گئی ۔ ( وفیات الاعیان لابن خلکان : ۱ ؍ ۱۰۴).  Islamijankari220
اسی کا نتیجہ ہے کہ اسلام کے ابتداتی دور میں اہل علم نے اتنا عظیم تصنیفی اور تالیفی کام انجام دیا ہے کہ سن کر اور پڑھ کر حیرت ہوتی ہے اور آج ان کتابوں کو ایک شخص کا پڑھ لینا بھی دشوار ہے ، امام ابن جریر طبریؒ بہت ہی بلند پایہ ، مفسر ، محدث اور فقیہ ہیں ، انھو ں نے اپنی عظیم الشان تفسیر ۳ ؍ہزار اور اق میں ۲۸۳ھ تا ۲۹۰ھ یعنی صرف سات سال کے عرصہ میں مکمل کی ، پھر ایک تفصیلی تاریخ لکھنی شروع کی ، جس سے ۳۰۳ھ میں فارغ ہوئے ، یہ دونوں کتابیں تین تین ہزار گویا ۶؍ ہزار صفحات پر مشتمل ہیں ، طبری کی یہ تفسیر ۱۱ ؍ ضخیم جلدوں میں منظر عام پر آچکی ہے ، بعض حضرات نے لکھا ہے کہ طبری کی تصنیفات کا حساب لگایا جائے تو یومیہ ۱۴؍ ورق یعنی ۲۸؍ صفحات کا اوسط ہوتا ہے ۔ .. islamijankari220
ہندوستان کے علماء میں مولانا عبد الحی فرنگی محلی نے صرف ۳۹؍ سال کی عمر پائی ؛ لیکن ان کی تصانیف ۱۱۰؍ سے بھی زیادہ ہیں اور ہر کتاب گویا اپنے موضوع پر حرف آخر ہے ، مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتابوں اور رسائل کی تعداد ہزار کے قریب ہے ، مولانا عبدالحی حسنی کی ’’الثقافۃ الاسلامیہ فی الہند‘‘ مولانا حبیب الرحمان شیروانی کی ’ ’علماء سلف ‘ ‘اور مشہور محقق شیخ عبدالفتاح ابو غدہؒ کی نہایت اہم اور فاضلانہ تصنیف ’’ قیمۃ الزمن عند العلماء‘‘ میں سلف صالحین کے ایسے کتنے ہی واقعات ملتے ہیں ۔.  Islamijankari220 
وقت کی حفاظت کرنے والے بزرگوں میں علامہ ابن عقیل بھی ہیں ، جو بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں ، ان کی سب سے اہم کتاب ’’ الفنون‘‘ ہے ، جس کے بارے میں بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اس کی ۸ ؍ سو جلدیں تھیں ، اس کا کچھ حصہ ڈاکٹر جارج مقدسی مستشرق نے دو جلدوں میں ۱۹۷۰ –۱۹۷۱ء میں شائع کیا ہے ، امام ابن جوزی تاریخ اسلام کے بڑے مصنفین میں ہیں ، وہ ان لوگوں کو بہت ناپسند کرتے تھے ، جو چاہتے کہ ان کے پاس ملاقاتیوں اور ہم نشینوں کی بھیڑ لگی رہے ، خود بھی بے مقصد آنے والوں سے بہت نالاں رہتے اور مجبوراً جن لوگوں سے ملاقات کرنی ہوتی ، ان سے ملاقات کے اوقات کو اسی طرح استعمال فرماتے کہ اس وقت حسب ِضرورت کا غذ کاٹے جاتے ، قلم تراش لیتے اور لکھے ہوئے اور اق باندھ لیتے ، اس کا نتیجہ تھا کہ بقول حافظ ابن رجب شاید ہی کوئی فن ہو ، جس میں ابن جوزی کی کوئی کتاب نہ ہو ، ابن جوزی کی تصنیفات پانچ سو سے اوپر ہیں اور ان میں سے بعض بیس جلدوں اور بعض ۱۰؍ جلدوں پر مشتمل ہیں ، ابن جوزی کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے جن قلموں سے حدیثیں تحریر کی تھیں ، ان کے ڈھیر سارے تراشے جمع ہوگئے تھے ، انھوں نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے مرنے کے بعد میرے غسل کا پانی اسی سے گرم کیا جائے ؛ چنانچہ پانی گرم کرنے کے بعدبھی قلم کے تراشے بچے رہے ۔
▪️موبائیل کا بے جااستعمال اور نقصانات
ہم لوگ غیبت ، فضول باتوں، ان کی ان کی باتوں میں کتنا وقت ضائع کرتے ہیں، اور آج تو وقت ضائع کرنے کا ایک انٹر نیشنل آلہ ایجاد ہوا ہے، جس کو موبائل شریف کہتے ہیں،کیا عام کیا خاص، کیا علم والے یا بے علم ،موبائل پر گیم کھیل رہے ہیں،کتنا وقت برباد ہوتا ہے، خواہ مخواہ موبائل استعمال کرتے ہیں، کوئی ضرورت نہیں مگر استعمال کرتے ہیں، ہر دس منٹ کے بعد ہم کو موبائل کی یاد آتی ہے ،بعض تو ایسے بیچارے خوش نصیب ہیں کہ موبائل بھولتے ہی نہیں،ان کوموبائل کا استحضار رہتا ہے ، اس کی وجہ سے حقوق ضائع ہوتے ہیں، عبادات ضائع ہوتی ہیں، معمولات پورے نہیں ہوتے، اوراد و وظائف کی پابندی انسان نہیں کرتا۔ موبائل کے زیادہ استعمال کی نحوست یہ ہوتی ہے کہ عمل کی توفیق چھین لی جاتی ہے ، جو لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہمارا ذکر میں دل نہیں لگتا،عبادت میں من نہیں لگتا، قرآن کی تلاوت سے وحشت ہوتی ہے ، تو میرے بھائی! آپ کا دل جب موبائل میں اٹکا رہے گا تو اللہ کی طرف کیسے مائل ہوگا، موبائل کا تو سب سے خطرناک نقصان یہ ہے کہ وہ اللہ سے تعلق کو توڑ کر عبداللہ سے تعلق کو جوڑ دیتاہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ خالق سے تعلق ٹوٹے گا اور مخلو ق سے تعلق جڑ جائے گا۔ اس لیے موبائل کو بقدر ضرورت استعمال کریں،اور جس شخص کو موبائل کے درست استعمال کرنے پر قدرت نہ ہو اس کو موبائل استعمال ہی نہیں کرنا چاہئے۔اگر یہ اندازہ ہے کہ میں اپنے اوپر اتنا قابو رکھتا نہیں ہوں کہ موبائل کے نقصانات اور مضرتوں سے بچ سکوں گا تو ایسے شخص کو موبائل استعمال کرنا ہی نہیں چاہئے۔
Islamijankari220
▪️موبائیل اور وقت کی بربادی!
شراب کی طرح موبائیل میں بھی فائدے تھوڑے ہیں اور نقصان زیادہ ہے، تھوڑا فائدہ انسان حاصل کرتا ہے لیکن نقصان زیادہ ہوتا ہے، وقت ضائع ہوتا ہے، انسان بے حیائی کے کاموں میں مشغول ہوجاتا ہے ،بے شرمی کی عادت اس کے اندر آجاتی ہے، وہ حقوق کے سلسلے میں بے پرواہ ہوجاتا ہے، بچے منتظر ہیں کہ ہمارے والد ہم سے بات چیت کریں، بیوی منتظر ہے کہ شوہر ہم سے گفتگو کرے، ہمارے دکھ درد اور پریشانی کو سنے، کچھ محبت کے میٹھے بول بولے۔ لیکن وہ جناب ہیں کہ موبائل شریف لے کر اپنا چہرہ موبائل شریف کی طرف موڑ لیا اور ہر طرف سے یکسو ہوکر اسی میں لگے ہوئے ہیں، کھانے پینے کا ہوش نہیں، ذکر واذکار کااہتمام نہیں، عبادات اور معمولات کی پابندی نہیں،نہ وقت پر کھانا، نہ وقت پر سونا،نہ بیوی بچوں کو وقت دے رہے ہیں نہ ماں باپ کے پاس بیٹھتے ہیں، سارا وقت جو بیوی بچوں، ماں باپ اور ساتھیوں کا تھا وہ سب وقف ہوگیا موبائل کے لئے اور ان سارے اوقات کو موبائل نے نگل لیا۔ اب انسان محسوس یہ کررہا ہے کہ وہ رشتوں اور تعلقات میں اور احباب کے حقوق میں کتنی کوتاہی برت رہا ہے، اس کا صرف اور صرف ایک سبب ہے، اور وہ ہے موبائل کا غلط اور بے جااستعمال! Islamijankari220
▪️بے ترتیب زندگی
اس لئے وقت کے صحیح استعمال کی عاد ت ڈالئے، وقت کا بہترین استعمال ہونا چاہئے، وقت پر انسان کھائے، نماز پڑھے، تلاوت کرے، وقت پر سوجائے۔ سونا بھی انسان کے لئے ضروری چیز ہے، وقت پر اٹھنا بھی ضروری ہے۔ مسلمانوں کے یہاں زندگی کو خوشگوار بنانے کا جو نظام ہے سب بے ترتیب ہے۔ نہ وقت پر سوئیں گے اور نہ جاگیں گے، نہ وقت پر کھائیں گے نہ کھانے میں اعتدال قائم رکھیں گے ،جو آرہا ہے بس کھاتے جائیے، جس وقت موقع ملے کھالیجئے، اور گنجائش سے زیادہ کھالیجئے۔
▪️ کیا ہم ظالم نہیں؟
 ہم لوگ کہتے ضرور ہیں کہ ظلم حرام ہے، ناجائز ہے، ظلم قیامت کی اندھیریوں میں سے ایک اندھیری ہے۔ ظلم کی تعریف کیا ہے؟ علماء نے لکھا ہے کہ وَضعُ الشَّیْئِ فِیْ غَیْرِ مَحلِّہٖ ٖ’’ظلم کسی چیز کو اس کے مقام سے ہٹا دینے کا نام ہے‘‘۔ جو وقت جس چیز کا ہے اس چیز کو اس سے ہٹا رہے ہیں وہ بھی ظلم ہے۔ جووقت بیوی بچوں کے لئے ہے، آپ موبائل میں خرچ کررہے ہیں یہ ظلم ہے۔جو وقت عبادت کا ہے آپ سونے میں خرچ کررہے ہیں یہ ظلم ہے اور ظالم کے بارے میں قرآن میں کہا گیا کہ اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اس لیے وقت کا صحیح استعمال کرنا سیکھیں۔
▪️ عبادات اور وقت کی قیمت
  جو لوگ وقت کوسستی اور بے قیمت شیٔ سمجھتے ہیں اور اس کی قدر دانی نہیں کرتے ، وہ زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کرسکتے ، اسلام نے وقت کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے تمام عبادات کو وقت سے جوڑ رکھا ہے ، نمازوں کے اوقات مقرر ہیں ، روزہ متعین وقت سے شروع ہوتا ہے اور متعین وقت پر ختم ہوتا ہے ، حج کے افعال بھی متعین ایام و اوقات میں انجام دیئے جاتے ہیں ، قربانی بھی متعین دنوں میں ہوتی ہے ، زکوٰۃ میں بھی مال پر ایک سال گذرنے کا وقت مقرر کیا گیا ہے اورشریعت میں کتنے ہی احکام ہیں، جو وقت سے مربوط ہیں ؛ لیکن افسوس کہ یہ اُمت اپنے وقت کو جس قدر ضائع کرتی ہے اور اس کو جتنا بے قیمت سمجھتی ہے ، شاید ہی اس کی کوئی مثال مل سکے ، مسلمان نوجوانوں کی یارباشی ، ہوٹل بازی اور بے مقصد سیر و تفریح ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے ؛ بلکہ ضرب المثل بنتی جا رہی ہے ، شادی بیاہ وغیرہ کی تقریبات میں جس بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ اوقات ضائع کئے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ دینی جلسوں اور اجتماعات میں بھی اوقات کی پابندی کے معاملہ میں جوبے احتیاطی روا رکھی جاتی ہے ، وہ کس قدر افسوس ناک ہے !  Islamijankari220
          آئیے ! نئے سال کا استقبال کرتے ہوئے ہم عزم مصمم کریں ، کہ وقت کی پوری قدر دانی کریں گے، اور اپنے ایک ایک لمحہ کو ضائع ہونے سے بچائیں گے اگر ہم سب اس کا عزم کریں اور اپنے آپ کو اس پر قائم رکھیں تو کون ہے ، جو اس اُمت مرحومہ کی سر بلندی کو روک سکے ???
 

Islamijankari220

page    
और नया पुराने