حضور ﷺ کی تین اہم نصیحتیں 🌷 islamijankari220

اَلْحَمْدُللہِ کَفٰی وَالصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَمُ عَلٰی مَنِ اصْطَفٰی اَمَّابَعْدُ!فَاُعُوْذُ باِللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ۰ۭ (سورہ ہود آیت نمبر۴ ۱۱)
وقال النّبی ﷺاِتَّقِ اللہَ حَیْثُ مَا کُنْتَ وَاَتْبِعِ السَّیِّئَةَ الْحَسَنَةَتَمْحُھَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ(ترمذی)صدق اللہ العظیم و صدق رسولہ النَّبی الکریم۔
▪️مختصر پر اثر islamijankari220
حضور اکرم ﷺ ساری دنیا کے لیے رہبر ورہنما بنا کر بھیجے گئے تھے، اور آپ نے پوری انسانیت کو ایسی تعلیم دی جس پر عمل کرکے انسان دنیا کی عزت اور آخرت کی بہترین زندگی حاصل کرسکتا ہے، آپ کا کمال یہ تھا کہ آپ ﷺ چھوٹے چھوٹے جملوں میں ایسی بڑی بڑی نصیحتیں ارشاد فرماتے تھے کہ جن میں معنی کا ایک جہاں پوشیدہ ہوتا ، آپ ﷺ کو اللہ نے ایسی فصاحت عطا کی تھی جس کے بارے میں یہ کہا گیا : اُوْتِیَ فَصَاحَۃً مَا بَعْدَھَا فَصَاحَۃٌوَاُوْتِیَ حِکْمۃً مَا بَعْدَھَا حِکْمۃٌ آپ کی فصاحت ایسی تھی کہ اس کے بعد فصاحت کا کوئی درجہ باقی نہیں رہااور آپ کی باتوں میں ایسی حکمت تھی کہ اس کے بعد حکمت کا کوئی درجہ باقی نہیں رہا۔ islamijankari220
آپ ﷺ کی بہترین نصیحتوں اور پیاری وصیتوں میں سے ایک نصیحت اور ایک وصیت وہ ہے۔ جسےحضرت ابوذر غفاریؓ نے نقل فرمایاکہ حضور اکرم ﷺنے نصیحت کرتے ہوئے تین چھوٹے چھوٹے جملے ارشاد فرمائے، پہلی بات ارشاد فرمائی:اِتَّقِ اللہَ حَیْثُ مَا کُنْتَ دیکھو تم جہاں بھی رہنا اللہ سے ڈرتے رہنا، جہاں بھی ہو ، جس حال میں بھی ہو، ہمیشہ اس بات کا احساس رکھناکہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، اللہ میری باتوںاور کاموں سے واقف ہے، قرآن مجید میں یہ بار بار کہا گیا کہ اللہ تمہاری باتوں کو سن رہا ہے تمہارے عمل کو دیکھ رہا ہے، تمہارے سینوں کے راز کو جان رہا ہے، وہ اس لئے کہا گیا کہ ایک انسان ہمیشہ اس بات کا خیال رکھے کہ کسی کی نظر اس پر ہے ، اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللہَ یَرٰى(سورہ علق آیت نمبر ۱۴)کیا نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے؟دوسر ی جگہ ارشاد ہے :
مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَرَابِعُہُمْ وَلَا خَمْسَۃٍ اِلَّا ہُوَسَادِسُہُمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْثَرَ اِلَّا ہُوَمَعَہُمْ اَیْنَ مَا کَانُوْا(سورہ مجادلہ: آیت نمبر ۷)
اگر کہیں کوئی تین لوگ آپس میں چپکے چپکے باتیں کررہے ہوتے ہیں تو ان کا چوتھا اللہ ہے، اور اگر پانچ لوگ بات کررہے ہیں تو ان کا چھٹا اللہ ہے۔ اور اس تعداد سے کم یا زیادہ جتنے بھی لوگ آپس میں گفتگو کریں بہرحال اللہ اس کو جاننے والاہے،اللہ تعالیٰ نے یہاں تک فرمایا : وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ(سورہ ق: آیت ۱۶)انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ ہم اس کے قریب ہیں۔وَسِعَ کُرْسِـیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۰ۚ (سورہ بقرہ:آیت ۲۵۵)اللہ کا علم آسمان اور زمین سب کو گھیرے ہوئے ہے،کرسی سے مراد اللہ کا علم ہے،خلاصہ یہ ہے کہ ہر چیز اللہ پاک کی نگاہ میں ہےاوروہ سب کچھ جانتاہے، ہر چیز کو اللہ جانتا ہے، ایک عالم نے بڑا خوبصورت جملہ لکھا ہے: عَلِمَ مَا کَانَ، اللہ کو ان سب چیزوں کو علم ہے جو ہوچکی ہیں، وعَلِمَ مَایَکُوْنُ جو ہونے والاہے وہ بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے، وعَلِمَ مَاسَیَکُوْنُ کچھ زمانے کے بعد جو ہوگا وہ بھی اللہ جانتا ہے، وعَلِمَ مَالَمْ یَکُنْ اور جو نہیں ہوا وہ بھی اللہ جانتا ہے، وعَلِمَ لَوْکَانَ کَیْفَ کَانَ یَکُوْنُ کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو بھی جانتا ہے کہ جو چیز نہیں ہوئی اگر وہ دنیا میں ظاہر ہوتی تو کیسی ہوتی؟ ساری چیزوں کا علم اللہ کے پاس ہے۔ islamijankari220
▪️تقویٰ کیا ہے؟
انسان کو اللہ پاک کی ان صفا ت پر غور کرناچاہئے اور ہمیشہ یہ بات اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے کہ انسان خلوت میں ہو یا جلوت میں، تنہائی میں ہو یا مجمع میں ، انسانوں کے درمیان ہو یا انسانوں سے دور ہو ہر حالت میں اللہ اسے دیکھ رہا ہے، اس لئے ہر وقت ہر حالت میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے، جب یہ احساس انسان کو رہے گا کہ اللہ مجھ کو دیکھ رہا ہے، تووہ گناہ سے بچے گا، جب تقویٰ انسان کے دل میں آئے گا تو انسان حرام کاموں سے اپنے آپ کو روکے گا اور اگر اس کے دل میں تقویٰ نہیں ہے، اور بہت ساری نمازیں پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، تسبیحات پڑھتا ہے، تو یہ انسان اللہ کی نگاہ میں متقی بندہ نہیں ، حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے تھے کہ تقویٰ راتوں کو جاگنے کا اور دن کوروزہ رکھنے کا اور دن اور رات میں گناہ اور نیکی کو ملادینے کا نام نہیں ہے، بلکہ تقویٰ اس کا نام ہے کہ انسان اللہ کے فرائض کو ادا کرے اور اس کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچے ، اگرتقویٰ انسان کے دل میں ہوگا توخلوت وجلوت میں اس کی زندگی یکساں ہوگی،اور اگر اللہ کا ڈر نہیں ہے تو لوگوں کے سامنے وہ بڑا پارسا ہوگا اور جب تنہائیوں میں ہوگا تو گناہ کرے گا،حضرت ثوبانؓ فرماتے ہیں، ایک موقع پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ ہوں گے جو قیامت کے دن تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے، لیکن وہ ساریس نیکیاں اللہ تعالیٰ بے قیمت بنادے گا، ان نیکیوں کا کوئی وزن نہیں ہوگا، وہ نیکیاں انہیں بچا نہیںسکیں گی، صحابہ نے جب یہ بات سنی تو کہا : صِفْھُمْ لَنَا یَا رَسُوْلَ اللہِاےاللہ کے رسول !یہ کون لوگ ہوں گے ذرا بتایئے تاکہ ہم انہیں پہچان لیں تاکہ ہم ان میں شامل نہ ہوں؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ تمہاری ہی جیسے ہوں گے، تمہارےہی طرح رات کو اللہ کی عبادت کریں گے، راتوں کو اللہ تعالیٰ کے آگے کھڑے ہوں گے،لیکن اِذَا خَلَوْ بِمَحَارِمِ اللہِ اِنتَھَکُوْھَا جب تنہائیوں میں ہوں گے تو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نہیں بچیں گے۔یہ وہ لوگ ہوں گےجو نیکیوں کے باوجود قیامت کے دن تباہ وبرباد ہوں گے۔ Islamijankari220
بہت مشکل ہے بچنا بادۂ گلگوں سے خلوت میں
بہت آساں ہے یاروں میں معاذ اللہ کہہ دینا
▪️کمال کی چیزیں!
اسی لیے امام شافعی ؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ تین چیزیں کمال کی ہیں: اَلْجُوْدُ مِنْ قِلَّۃٍانسان کے پاس سرمایہ تھوڑا ہو،کشادگی اس کو حاصل نہ ہو اس کے باوجودسخاوت کرے، یہ کمال کی چیز ہے۔وَالْوَرْعُ فِیْ خَلْوَۃٍدوسری چیز خلوت اور تنہائی میں گناہ سے بچنا اورخدا سے ڈرنایہ بھی کمال کی چیز ہے، تیسری بات ارشاد فرمائی :کَلِمَۃُ حَقٍّ عِنْدَ مَنْ یُرْجٰی وَ یُخَافُکسی ایسے شخص کے سامنے جس سے خوف ہوتا ہویا جس سے امید کہ جاتی ہو یعنی کوئی بڑا منصب دار ہو،بادشاہ ہو،امیر کبیر ہو،جس سےمال ملنے کی کچھ امید بھی ہو،اور جس کی طاقت وقوت کا خوف بھی ہو،ایسے شخص کے سامنے حق بات کا ا ظہار کرنا کمال کی چیز ہے۔ انسان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر حق بات کا اظہار کرے اور بے خوف ہوکر جو چیز صحیح ہے اس کو بیان کرے یہ کمال کی بات ہے۔اللہ کا ڈر ،خدا کا خوف انسان کو تنہائی میں نافرمانی اور گناہ سے بچائے رکھتا ہے۔اللہ کا ڈر ہے کیا؟ نبی کریم ﷺ نے اس کی وضاحت فرمائی کہ اللہ کا ڈراور تقویٰ یہ ایسی صفت ہے جو کئی صفات کو جمع کرنے والی ہے،علماء نے اس کی لمبی تشریحات بھی کی ہیںکہ لفظ تو ایک ہے تقویٰ لیکن ساری صفات خیر اس ایک لفظ میں جمع کردی گئی ہیں۔ حضرت علی ابن طالب ؓ سے ایک موقع پر پوچھا گیا: تقویٰ کیا ہے؟آپ نے بہت خوبصورت تعریف فرمائی،:ھِیَ الْخَوْفُ مِنَ المول الْجَلِیْلِ اللہ کا تقویٰ رب سے ڈرنا ہے، دوسری چیز:وَالْعَمَلُ باِلتَّنْزِیْلِقرآن پر عمل کرنا یعنی اللہ نے قرآن پاک میں جتنے بھی احکامات اتارے ہیں ان پر عمل کرنا،تیسری چیز:وَالرِّضَا بِالْقَلِیْلِتھوڑے پر قناعت کرنا، تھوڑی چیز پر راضی ہوجانا۔وَالْاِستعدادُ لِیَوْمِ الرَّحِیْلِ او ر آخرت کی تیاری کرنا، چارباتیں ہیںمگر کتنی اہم اور پیاری باتیں ہیں ۔
▪️قناعت اختیارکریں!
اس پر بھی غور کیجئے کہ یہ سبق کتنا خوبصورت ہے کہ تھوڑے پر قناعت کی جائے اور زیادہ کی تلاش نہ کی جائے،یاد رکھئے زیادہ کی طلب اورزیادہ کی ہوس انسان کو ہمیشہ تباہی وبربادی سے دوچار کرتی ہے،اسی وقت انسان دنیا کی ذلت اور آخرت کی پریشانی اٹھاتا ہے، جب وہ زیادہ کی تلاش میں لگتا ہے، زیادہ مال اور لمبی عمر کی خواہش یہ انسان کی تباہی کی بنیاد ہیں،تھوڑے پر قناعت کرنا ،جو مل جائے اس پر راضی ہوجانا،اللہ نے اگر روزی تھوڑی دی ہے تو اس پر شکر ادا کرتے رہنا اوریہ سمجھنا کہ اسی میں میرے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلائی ہے،حکمت ومصلحت اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ میں تھوڑے پر ہی قناعت کروں،اگر لوگوں کے درمیان شہرت نہیں ہے، سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی میں میرے لئے خیر ہے۔تھوڑے پر جو انسان قناعت کرلیتا ہے، اللہ کی نگاہ میں اس کی عزت ہوتی ہے ،انسان کی چاہت یہ ہوتی ہے کہ عمر بھی خوب لمبی ہو، مال بھی خوب زیادہ ہو، لوگوں کے درمیان وجاہت بھی ہو، انسان کی فطرت میں حرص ولالچ ہے،زیادہ سے زیادہ کی تلاش ہے، یہاں تک کہ انسان بوڑھا بھی ہوجاتا ہے تو اس کی حرص بجائے بوڑھی ہونے کے اور جوان ہوجاتی ہے۔بخاری شریف میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قَلْبُ شَیْخ شَابٌ عَلٰی حُبِّ اثْنَتَیْنِ طُوْلِ الْحَیَاۃ ِوَحُبِّ الْمَالِ بوڑھے کا دل بھی دوچیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے۔ ایک چیز لمبی عمراور دوسری مال کی محبت ، انسان بوڑھا ہورہا ہےلیکن یہ دو خواہشات اس کے اندر جوان ہوتی جاتی ہیں، قرآن کریم میں ہے:
یَوَدُّ اَحَدُ ھُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَۃٍ۰ۚ وَمَا ھُوَبِمُزَحْزِحِہٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ۰ۭ(سورہ بقرہ: آیت۹۶)
ترجمہ:ان میں کا ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک ہزارسال عمر پائے حالانکہ کسی کا بڑی عمر پا لینااسے عذاب سے دور نہیں کرسکتا۔
یہ انسان کی چاہت ہوتی ہے کہ ایک ہزار سال کی زندگی مل جائے اور زیادہ سے زیادہ پیسہ آجائے، کسی بوڑھے شخص سے کہہ دیںکہ آپ قرآن مجید نہیں پڑھے ہوئے ہیں ،اب پڑھ لیجئے توکہے گا بوڑھا طوطا پڑھتا نہیں ،اور اسی بوڑھے کو نوٹ گننے دے دی جائے تو وہ جوان سے زیادہ بہتر انداز میں گن لے گا۔وہ مال کے جمع کرنے میں ،مال کے گننے میں جوانوں سے بھی آگے ہوگا ،اور جب دین کا معاملہ آئے گا تو وہ کہے گا بوڑھا طوطا پڑھتا نہیں ہے۔ ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ نے ا رشاد فرمایا: اگر ابن آدم کو ایک وادی بھر کر سونا دے دیا جائے تو وہ دوسری وادی کی تلاش کرے گا۔ وَلَن یَمْلَأَفَاہُ اِلَّا التُرَابُ وَیَتُوْبُ اللہُ عَلٰی مَنْ تَابَ اور اس ابن آدم کے منہ کو سوائے قبر کی مٹی کے کوئی بھر نہیں سکتا، اور اللہ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس کی طرف لوٹ کرجاتا ہے۔(بخاری)
اس لئے انسان اپنے اندر سے زیادہ کی تلاش نکال دے، جو مال آرہا ہے اس پر شکر ادا کرے، اگر انسان کی روزی کم ہے ، اللہ سے کوئی نعمت چاہتا ہے خدا کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلانا ، اللہ سے مانگنا اس میں کوئی حرج کی بات نہیں،ہمیں تو دعا سکھائی گئی ہے کہ : رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَـنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ (سورہ بقر: ۲۰۱) اللہ ہمیں دنیا میں بھی بہترین چیزیں اور بہترین نعمتیں عطافرما اور آخرت میں بھی بہترین نعمتیں عطافرما۔دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی اللہ سے مانگنی چاہئے، انسانوں کی مصیبت یہ ہے کہ ان سے مانگا جاتا ہے وہ ناراض ہوتے ہیں،اور خدا تعالیٰ کی شان کرم یہ ہے کہ جب اس سے مانگا نہیں جاتا تب اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہئے۔ خدا کے آگے دست سوال دراز کرتے رہنا چاہئے، لیکن انسان کولالچ میں نہیں پڑنا چاہئے، راتوں رات ارب پتی بننے کا خواب نہیں دیکھنا چاہئے، یہی وہ چیزیں ہیں جو انسان کو حرام سود اور ر شوت کی طرف لے جاتی ہیں ، زیادہ مال کی تلاش انسان کو تباہ وبرباد کردیتی ہے، ا س کے اخلاق بگاڑ دیتی ہے۔
▪️نیکی گناہ کو مٹانے کا ذریعہ
پھر حضور ﷺ نے اگلی بات ارشاد فرمائی واتبع السیئۃ الحسنۃ تمحھادیکھوکوئی گناہ ہوجائے،تو فورا کوئی نیکی کا کام کرو،یہ نیکی اس گناہ کو مٹا دے گی، انبیاء معصوم ہیں، یعنی ان سے گناہ نہیں ہوتا،اولیاء محفوظ ہیں،یعنی ان سے گناہ تو ہوتے ہیں مگر گناہ ہوتے ہی توبہ ،استغفار کرلیتے ہیں،آپ قرآن میں پڑھیں کہ متقین کی صفات میں کہا گیا:
وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِم
ترجمہ:اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی بے حیائی کاکام کر بیٹھتے ہیں یا اپنے آپ پر اور کسی قسم کی زیادتی کر گزرتے ہیں تو ا ﷲ کو یاد کرتے اوراس سے اپنے گناہوں کی معافی چاہنے لگتے ہیں۔(سورہ آل عمران۱۳۵)
متقی لوگوں کے بارے میں کہا گیا کہ جب ان سے کوئی بڑا گناہ ہوجاتا ہے تو فورا ان کو اللہ کی یاد آجاتی ہے اور فورا اپنے گناہ پر استغفار کرلیتے ہیں۔ متقیوں سے بھی گناہ ہوگااولیاء سے بھی گناہ ہوگا، لیکن وہ گناہ پر ا صرار نہیں کریں گے، حتی الامکان بچیں گے بالفرض کوئی غلطی ہوگئی تو فورا توبہ کرلیں گے۔ یہاں تک علماء نے لکھا ہے کہ القطب قدیزنی قطب (جوولایت کا بہت اونچا مقام ہے ) کبھی زنا کر بیٹھتاہے، اس لئے کہ اولیاء معصوم نہیں ہیں ،اولیاء محفوظ ہیں، معصوم صرف انبیاء علہیم السلام ہیں، اولیاء کرام سے غلطی ہوسکتی ہے ، لیکن ان کی شان یہ ہے کہ لَمْ یُصِرُّوْ عَلٰی مَا فَعَلُوْا اپنے عمل اور اپنے گناہ پر اصرار نہیں کرتے، فورا توبہ کرتے ہیں،استغفار کرتے ہیں،اللہ سے معافی مانگتے ہیں، ہمارا بھی طریقہ یہی ہوناچاہئے کہ غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کریں اور اچھے عمل میں لگ جائیں،حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:کل بنی آدم خَطَّاؤنَ وَخَیْرُوالْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ (ترمذی)تم سب بہت گناہ کرنے والے ہو اور بہترین خطا کار وہ ہے جو توبہ کرنے والاہے، اب ہم سے گناہ ہو تو ہمارا عمل کیا ہو ؟ حضور ﷺ نے سکھایا کہ فوراً نیکی کرلو ،علماء نے لکھا ہے اَلْحَسَنَۃ سے مراد توبہ ہے یعنی گناہ ہوجائے تو توبہ کرلو ، اور اکثر علماء نے لکھا ہے کہ انسان کوئی بھی نیک عمل کرے گا تو اس کےگناہ کے مٹ جانے کی امید کی جاسکتی ہے۔
▪️وضو کی برکت islamijankari220
احادیث شریفہ میں متعدد اعمال کے بارے میں یہ بات آئی ہے کہ ان سے گناہ معا ف ہوتے ہیں،ایک حدیث میں ہے۔جو انسان بہترین وضو کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو ختم کردیتا ہے، یہاں تک کہ ناخن کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔(مسلم) یہ فضیلت اس کے لیے ہے جووضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، ہمارا آپ کا وضو نہیں جو ماشاء اللہ آدھے منٹ میں ہوجاتا ہے، اور ایسا جلدی جلدی وضو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خوفناک درندہ پیچھے بیٹھا ہوا ہے،نگلنے کیلئے تیار ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم کو ایسی چیز نہ بتائوں جو گناہوں کو مٹانے والی ہے؟ صحابہ نے کہا ضرور۔ارشاد ہوا مشقت کے باوجود( یعنی سردی کے موسم میں) اچھی طرح وضو کرنا ، اعضاء وضو پر اچھی طرح اچھی طرح پانی بہانا ،پھر مسجد کی طرف چل کر آنا ،ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہ گناہوں کو مٹادینے والی چیز ہے۔
▪️روزے کاانعام
حدیث شریف میں روزے کے بارے میں آپ پڑھیں،مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاِحْتِسَابًاغُفِرَلَہ‘ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ جو ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھے گا اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ ۔مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ حُطّتْ خطایاہُ وان کانت مثل زبدالبحر جو شخص روزانہ کلمہ سو مرتبہ پابندی سے پڑھے گا ،اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دے گا چاہے ا س کے گناہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ،عمرہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:اَلْعُمْرَۃُ اِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَابَیْنَھُمَا (بخاری و مسلم)ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک جو گناہ ہوجاتے ہیں،درمیان کے سارے گناہ کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیتا ہے۔آدمی نے عمرہ کیا پھر دوبارہ کیا درمیان کے جتنے گناہ ہیں اللہ تعالیٰ مٹا دیتا ہے، تو اعمال میں اللہ تعالیٰ نے یہ اثر رکھا ہے کہ گناہوں کو وہ مٹائیں گے ۔
▪️حضور اکرم ﷺ کی تیسری نصیحت
آپ ﷺ نےتیسری بات ارشاد فرمائی کہ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق برتو ،اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ، لوگوں کے ساتھ بہترین معاملہ کرو حدیث شریف میں حسن اخلاق کی کتنی فضیلتیں آئی ہیں،حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن میزان میں انسان کے اخلاق سے زیادہ کوئی چیز وزن دار نہیں ہوگی۔ ترازو میں جو اعمال تولے جائیں گے اچھے اخلاق سے زیادہ کوئی چیز وزنی نہیں ہوگی۔ ایک حدیث میں فرمایا کہ انسان اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے دن کے روزے دار اور رات کے عبادت گزار کا درجہ حاصل کرلیتا ہے، یعنی خود رات کو جاگ نہیں رہاہے،دن میں روزہ نہیں رکھتا،لیکن اس کے اخلاق اچھے ہیں، لوگوں سے بہتر تعلقات ہیں، تو یہ شخص دن کے روزے دار اور رات کے عبادت گزار کا مقام حاصل کرلیتا ہے۔اللہ نے اور اس کے پاک رسول ﷺنے ہمیں یہ تعلیم دی کہ بہترین اخلاق اور بہترین کردار اپنے اندر پیدا کریں۔
▪️دونوں جہاں کی بھلائی
اب آپ تینوں چیزوں پر غور کیجئے، یہ تین مختصر جملے ہیں لیکن ان تینوں جملوں پر اگر آپ دھیان دیں گے تو پتہ چلے گا کہ اس میں ایک طرف دنیا وآخرت دونوں کی بھلائی کو جمع کردیا گیا ہے، دوسری طرف انسان کو اللہ کا حق اوربندوں کاحق ادا کرنے کی تعلیم دی گئی، ارشاد ہوا :اللہ سے ڈرو،یعنی تمام احکام شریعت پر عمل کروحقوق اللہ کیا ہیں؟ نماز ،روزہ ، ذکر، تلاوت ،اللہ کو ایک ماننا یہ سب حقوق اللہ ہیں۔ان کی ادائیگی کی تعلیم دی گئی۔
حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق ادا کرنا جس کی تعلیم ایک جملے میں دی گئی کہ خالق الناس بخلق حسن اس میں دنیا کی بھلائی کو جمع کردیا اورآخرت کی بھلائی کو بھی جمع فرمادیا، پھر غور کیجئے کہ ایک تو انسان کا اپنی ذات کے ساتھ تعلق ہے ،پھر اللہ کے ساتھ اس کا تعلق ہے، پھر دوسرے انسانوںاور سماج کے ساتھ اس کا رابطہ ہے، اس حدیث شریف میں ان تینوں چیزوں کو درست کرنے کی ہدایت دی گئی، اللہ کے ساتھ تعلق کو درست کرنے کیلئے ا رشاد ہوا :بندہ اللہ سے ڈرے جہاں کہیں بھی رہے،پھر انسان اپنے رب کے ساتھ اپنی ذات کے تعلق کو درست رکھے، تو ارشاد فرمایا کہ اگر گناہ ہوجائے غلطی ہوجائے تو فورا نیکی کا کوئی کام کرے۔
▪️نرمی اختیار کرو
پھر تیسرے جملے میں انسانوں کے ساتھ تعلقات درست رکھنے کیلئے ارشاد ہواکہ لوگوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آؤ،انسان اگر کسی سے مسکرا کر ملتا ہےتو یہ بھی نیکی کا کام ہے ، تَبَسُّمُکَ فِیْ وَجْہِ اَخِیْکَ صَدَقَۃٌحضور اکرم ﷺ نے فرمایا کسی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے ، معاملات میں نرمی کا برتاؤ کرو، نبی کریم ﷺنے اس کی تعلیم دی کہ انسان نرمی برتے، ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نرمی پر وہ چیز عطا کرتا ہے جو سختی پر عطا نہیں کرتا، معلمین کو نصیحت کی، ارشاد فرمایا:سکھاؤ اور سختی نہ برتو،اس لئے کہ سکھانے والاسختی برتنے والے سے زیادہ بہتر ہے، شوہر وںکو تعلیم دی کہ بیوی کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو،درگزر سے کام لو،اولاد کو سکھایا کہ ماں باپ کے ساتھ محبت، اکرام اور عزت کا برتاؤ کرو، حضور ﷺنے زندگی کے ہر حصے میں رہنمائی فرمائی ہے، اور تمام تعلقات کو درست رکھنے کا ضابطہ اور طریقہ بتلایا ہے، آپ کی ہدایت ہے کہ کوئی ضرورت مند آئے ،اگر تم ضرورت پوری کرسکتے ہو توضرور کرو، نہیں پوری کرسکتے ہو خوش اسلوبی سے معذرت کردو، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کے لئے چلتا پھرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہرقدم پر ثواب عطا کرتا ہے ، یہاں تک کہ واپس آجائے۔ غور کیجئے کہ صرف جانے کا ثواب نہیں ہے آنے کا بھی ثواب ہے۔ اگر انسان جارہاہے تب بھی اجر ہے،جہاں سے چلا تھا واپس آنے میں بھی اجر ہے،اور پھرارشاد ہوا :اگر اس کی ضرورت پوری ہوجائے،تو اس کی بخشش کردی جائے گی، یعنی سفارش کرنے والا، کوشش کرنے والا، اس کی بخشش کردی جائے گی، ایک حدیث میں ارشاد ہوا :جو اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے کل قیامت کے دن میں اس کے ترازو کے پاس کھڑا ہوجاؤں گا،اگر اس کی نیکی اس کے گناہ پر غالب آجائے تو جنت میں جائے گا، اگر اس کے گناہ اس کی نیکی پر غالب آگئے تو میں اس کی سفارش کرکے جنت میں داخل کروادوں گا۔یہ سب اچھے اخلاق کا حصہ ہے تو یہ تین نصیحتیں ہیں ان پر عمل کرنا ہم سب کے لئے مفید ہے، ایک تو اللہ سے ڈریں جہاں بھی رہیں،دوسرے کوئی گناہ ہوجائے تو فورا نیکی کا کام کریں،اورتیسری چیز لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔ اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
واخردعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین