مرد، چار خواہشات چار

 

Islami JANKARI220 

مرد، چار خواہشات چار


 🌹💠 سبــق آمـوز کہــانیــاں 💠🌹



            چار مرد، چار خواہشات 


حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں عبدالملک بن مروان عبداللہ بن زبیر اور ان کے دونوں بھائی مصعب بن زبیر اور عروہ بن زبیر ایک مرتبہ مسجد حرام میں مل بیٹھے تو ان میں سے کسی نے کہا کہ آج آپس میں اپنی اپنی خواہشات کا اظہار کرنا چاہیے

☜ عبداللہ بن زبیر نے ابتدا کرتے ہوئے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں حرمین پر قبضہ کر کے خلافت حاصل کرلوں۔

☜ مصعب بن زبیر نے کہا میری آرزوہے کہ دونوں عراقوں پر قبضہ کرلوں اور قریش کی دوشریف زادیوں سکینہ بنت حسین اور عائشہ بنت طلحہ کو اپنے عقد نکاح میں لے آؤں ۔

☜ عبدالملک بن مروان نے کہا میری خواہش ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا جانشین بن جاؤں اور ساری دُنیا پر بادشاہت کروں ۔

☜ جب سب اپنی خواہشات کا اظہار کرچکے تو حضرت عروہ بن زبیر نے کہا کہ تمہاری خواہشات تمہیں مبارک میری تو صرف یہ تمنا ہے کہ دُنیا سے بے رغبتی اور آخرت میں جنت کا پروانہ مل جائے اور مجھ سے اس علم (یعنی علم حدیث) کا فیضان جاری ہوجائے ۔

☜ نیرنگئی تقدیر دیکھئے کہ ہر ایک کی خواہش وتمنا کی تکمیل ہوگئی اور ہر ایک نے اپنی آرزو کو پالیا حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو علم حدیث میں اللہ تعالٰی نے جو مقام عطا فرمایا اور ان کا جو فیض جاری ہوا وہ اہل علم جانتے ہیں انکی یہ ایک تمنا تو بر آئی دوسری تمنا جنت کی تھی عبدالملک بن مروان کہا کرتا تھا جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہے تو عروہ بن زبیر کو دیکھے   کیونکہ انہوں نے جنت کی خواہش کی تھی ۔ [ وفیات الأعیان جلد ۳ ص ۲۵۸] 




और नया पुराने