🖋🌹💠 سبــق آمـوز کہــانیــاں 💠🌹🖋
حضرت اُسامہ بن زید کا قصہ
بخاری شریف میں روایت ہے کہ حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ کی طرف پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاد کےلئے روانہ فرمایا ہم نے اس قوم پر صبح کے وقت اچانک حملہ کرکے شکست دے دی اسی دوران میں نے اور ایک انصاری شخص نے ایک کافر شخص کو گھیرلیا تو وہ شخص بول اٹھاکہ لَا إِلٰهَ إِلَّا الله تو یہ سن کر انصاری ساتھی نے تو ہاتھ کھینچ لئے مگر میں نے اپنے نیزے سے اس پر حملہ کیا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا جب ہم مدینہ منورہ واپس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر ملی تو آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اسامہ تم نے اس کو کلمہ پڑھنے کے باوجود قتل کر ڈالا میں نے عرض کیا کہ حضرت وہ تو جان بچانے کےلئے کلمہ پڑھ رہاتھا مگر پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام بار بار یہی ارشاد فرماتے رہے کہ تم نے اس کو کلمہ پڑھنے کے باوجود قتل کردیا یہاں تک کہ میں تمنا کرنے لگا کہ اس سے پہلے میں اسلام ہی نہ لاتا بلکہ آج ہی اسلام لاتا تاکہ اسلام کہ وجہ سے پہلے کی کوتاہیاں معاف ہوجاتیں۔
[ بخاری شریف حدیث ۶۸۷۲ فتح الباری ۱۲/ ۲۴۱]
☜ اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو شخص ظاہراً اسلام کا اقرار کرے تو بھی اس کی جان محفوظ ہوجاتی ہے اور محض اس گمان میں کہ وہ اندرونی طور پر مسلمان نہ ہو اس پر ہتھیار اٹھا ۔۔۔