Qabar ke azab ka waqia

 Beautiful bayan mo Tariq Jameel sahab 


   🖋🌹💠 سبــق آمـوز کہــانیــاں 💠🌹🖋

.                 👇👇👇👇


👈 قبر کے عذاب کا ایک عجیب واقعہ __!!


علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ علامہ یوسف فریابی رحمہ اللہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ابوسنان رحمہ اللہ کی زیارت کے لیے گئے ، ابوسنان نے فرمایا کہ چلو ہمارے پڑوسی کے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے ، ان کی تعزیت کر آئیں

کہتے ہیں کہ جب اس پڑوسی کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ بہت رورہا ہے اور ہماری تعزیت کو بھی قبول نہیں کرتا ہے

کہتے ہیں کہ ہم نے کہا کہ کیا تو جانتا نہیں کہ موت کے بغیر چارہ نہیں؟ 

کہنے لگا : ہاں جانتا ہوں، مگر میں اس لیے رو رہاہوں کہ میرا بھائی صبح و شام عذاب میں مبتلا ہے

ہم نے پوچھا کہ تجھ کو کیسے معلوم ہوا ؟ کیا تجھ کو غیب پر خدا نے اطلاع دی ہے ؟ 

اس نے کہا نہیں!.......... لیکن جب میں نے میرے بھائی کو دفن کردیا اور اس پر مٹی ہموار کردی اور لوگ چلے گئے تو میں نے قبر سے اچانک ایک آواز سنی کہ آہ ! مجھ کو انھوں نے تنہا بٹھادیا ہے کہ میں عذاب کا اندازہ کروں میں تو نماز پڑھتا تھا، روزے رکھتا تھا۔ یہ سن کر مجھ کو بھی رونا آگیا، میں نے اس کی قبر سے مٹی ہٹائی تو دیکھا کہ قبر آگ کے شعلے بھڑکارہی ہے اور میرے بھائی کے گلے میں آگ کا طوق ہے.......... بھائی کی محبت نے مجھے ابھارا اور میں نے اس کی گردن سے طوق اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے تو وہ جل گئے۔

محمد بن یوسف فرماتے ہیں کہ اس نے ہم کو اپنا ہاتھ دکھایا کہ وہ جل کر کالا ہوگیا ہے۔

پھر اس نے کہا کہ اب میں اس کے حال پر کیوں غم نہ کروں اور کیسے نہ روؤں ؟

محمد فریابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا کہ تمہارے بھائی کا ایسا کیا عمل کیا تھا جو  وہ اس صورت حال سے دوچار ہوا؟

اس نے کہا : وہ اپنے مال کی زکوۃ نہیں دیتا تھا ۔ ( کتاب الکبائر : ۳۶ - ۳۷ )

और नया पुराने