Surah Al Bayyina ka tar

 Al Bayyina ka tarjuma 


لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ


 وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ

 

اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ

 کافر تھے، وہ اس وقت تک باز آنے والے

 نہیں تھے جب تک کہ ان کے پاس روشن

 دلیل نہ آتی۔ (1)

۔


1: ان آیتوں میں حضور اقدس ﷺ کو

 پیغمبر بناکر بھیجنے کی وجہ بتائی جارہی

 ہے، اور وہ یہ کہ جاہلیت کے زمانے میں جو

 کافر لوگ تھے، چاہے وہ اہل کتاب میں سے

 ہوں یا بت پرستوں میں سے، وہ اس وقت

 تک اپنے کفر سے باز نہیں آسکتے تھے جب

 تک آنحضرت ﷺ کی شکل میں ایک روشن

 دلیل ان کے سامنے نہ آجاتی، چنانچہ جن

 لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی باتوں پر کھلے

 دل سے غور کیا، وہ واقعی اپنے کفر سے

 توبہ کرکے ایمان لے آئے، البتہ جن کی

 طبیعت میں ضد تھی وہ اس نعمت سے

 محروم رہے۔

۔


30:1


رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ


یعنی ایک اللہ کا رسول جو پاک صحیفے

 پڑھ کر سنائے۔


۔


30:2


فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ


جن میں سیدھی تحریریں لکھی ہوں۔




30:3


وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا

 جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ


اور جو اہل کتاب تھے، انہوں نے جدا راستہ

 اسی کے بعد اختیار کیا جب ان کے پاس

 روشن دلیل آچکی تھی۔ (2)

۔


2: یہ ان اہل کتاب کی بات ہورہی ہے جو

 آنحضرت ﷺ کی نبوت کے روشن دلائل

 دیکھنے کے بعد بھی آپ پر ایمان نہیں لائے،

 مطلب یہ ہے کہ آپ کی تشریف آوری کو

 ایک نعمت سمجھنے کے بجائے ان لوگوں نے

 ضد کی وجہ سے آپ کی بات نہیں مانی

 اور الگ الگ راستہ اختیار کرلیا، حالانکہ ان


 کے پاس روشن دلیل آچکی تھی۔



30:4


وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ

 الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا

 الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ


اور انہیں اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں

 دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت اس طرح

 کریں کہ بندگی کو بالکل یکسو ہو کر صرف

 اسی کے لیے خاص رکھیں، اور نماز قائم

 کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور یہی سیدھی

 سچی امت کا دین ہے۔

۔




30:5


اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ

 فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ

 الْبَرِیَّةِؕ


یقین جانو کہ اہل کتاب اور مشرکین میں

 سے جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ جہنم کی

 آگ میں جائیں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں

 گے۔ یہ لوگ ساری مخلوق میں سب سے

 برے ہیں۔


۔


30:6


اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمْ

 خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ


جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک

 عمل کیے ہیں وہ بیشک ساری مخلوق میں

 سب سے بہتر ہیں


۔


30:7


جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ

 تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ

 عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠


ان کے پروردگار کے پاس ان کا انعام وہ سدا

 بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں

 بہتی ہیں۔ وہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

 اللہ ان سے خوش ہوگا اور وہ اس سے

 خوش ہوں گے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ہے


 جو اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھتا

 ہوں۔




30:8


Arhan Arsalan Khan 

और नया पुराने