Surah Al qadr ka tarjuma

 Al qadr ka tarjuma 


اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ


بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں

 نازل کیا ہے۔ (1)


1: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پورا قرآن

 لوح محفوظ سے اس رات میں اتارا گیا،

 پھر حضرت جبرئیل ؑ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے

 تئیس سال تک آنحضرت ﷺ پر نازل کرتے

 رہے، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت

 ﷺ پر قرآن کریم کا نزول سب سے پہلے

 شب قدر میں شروع ہوا، شب قدر رمضان

 کی آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے

 کسی رات میں ہوتی ہے، یعنی اکیسویں،

 تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، یا

 انتیسویں رات میں


30:1


وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ


اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا چیز

 ہے ؟




30:2


لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ


شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ (2)


2: یعنی اس ایک رات میں عبادت کرنے کا

 ثواب ایک ہزار مہینوں میں عبادت کرنے

 سے بھی زیادہ ہے۔



30:3


تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ


اس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کی

 اجازت سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ (3)


3: اس رات میں فرشتوں کے اترنے کے دو

 مقصد ہوتے ہیں ایک یہ کہ اس رات جو

 لوگ عبادت میں مشغول ہوتے ہیں فرشتے

 ان کے حق میں رحمت کی دعا کرتے ہیں

 اور دوسرا مقصد آیت کریمہ میں بتایا گیا

 ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات میں سال بھر کے

 فیصلے فرشتوں کے حوالے فرما دیتے ہیں،

 تاکہ وہ اپنے اپنے وقت پر ان کی تعمیل

 کرتے رہیں ”ہر کام کے لئے اترنے“ کا یہی

 مطلب مفسرین نے بیان فرمایا ہے۔


30.4

سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠


وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع

 ہونے تک۔




30:5

Arhan Arsalan Khan 

और नया पुराने