Islam ke phle police officer

      اسلام کے پہلے پولیس آفیسر

     

     ہمارے ہاں ہر شخص اسلامی تاریخ کے

 دور اولین کے ان تمام صحابہ کرام سے تو

 بخوبی واقفیت رکھتا ہے جو “جرنیل” تھے

 لیکن کسی سے یہ پوچھ لیا جائے کہ اسی


 دور اولین کے ٹاپ پولیس آفیسرز کون


 تھے؟ تو ٹاپ کے نام بتانا تو دور کی بات،

 اگلا شاید یہی سوال پوچھ ڈالے کہ کیا

 صحابہ کرام میں پولیس والے بھی تھے



رسول اللہ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ نظم

 اجتماعی سے متعلق کسی کام کے لئے وقتی

 طور پر کسی کو حکم دیدیتے جبکہ بعض

 کاموں کے لئے کچھ افراد کا مستقل

 استعمال بھی فرماتے۔ انہی مستقل

 شخصیات میں سے ایک قیس بن سعد بن

 عبادہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بھی

 ہیں۔ ان سے رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی

 گرفتاری، قید اور تعزیری سزاؤں کے کام

 تقریبا مستقل لئے ہیں۔ چنانچہ عمر کے

 آخری حصے میں حضرت انس بن مالک

 رضی اللہ عنہ نے حضرت قیس سے متعلق

 فرمایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے “صاحب

 الشرطہ” یعنی پولیس آفیسر تھے۔



حافظ ابن حجر عسقلانی نے حضرت انس

 بن مالک کے اس ارشاد پر لکھا ہے کہ

 حضرت انس درحقیقت یہ فرما رہے ہیں کہ

 حضرت قیس رسول اللہ ﷺ کے لئے

 صاحب الشرطہ جیسے تھے۔ کیونکہ رسول

 اللہ ﷺ کے زمانے میں نہ تو پولیس کا

 باقاعدہ محکمہ تھا اور نہ ہی صاحب

 الشرطہ نام کی کوئی اصطلاح وجود

 رکھتی تھی۔ مگر یہ ذمہ داری حضرت

 قیس ہی کے سپرد تھی۔ یوں گویا اسلام

 کے پہلے پولیس آفیسر حضرت قیس بن

 سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔



Arhan Arsalan Khan 

और नया पुराने